رولارضائی دا

ata ul rehman saman

رات کا پچھلا پہر تھا ۔ دن بھر کی محنت مزدوری سے تھکا ماندہ چا چا دینو صحن میں لحاف اوڑھے سو رہا تھا۔ اچانک گاؤں میں چور چور کی آوازوں کے شور سے چاچا دینو اٹھ بیٹھا ۔ وہ بڑھتے ہوئے شور کی طرف کان لگائے آنکھیں مل رہا تھا کہ صحن میں کسی کے دیوار پھلانگنے کی آواز سنائی دی۔ ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ کسی نے اُس کا لحاف کھینچ لیا او ر یہ جا وہ جا ہو گیا۔ چاچا دینو کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکل سکا۔ وہ عالمِ حیرانی میں گم تھا۔ شور ختم ہو چکا تھا بس گلی میں گزرنے والوں کے چلنے کی آہٹ باقی تھی۔ وہ گھر کا دروازہ کھول کر باہر گلی میں کھڑا ہو گیا۔ اُدھر اُس کا پڑوسی بھی نکل آیا ۔ ’’چاچا دینو اے کادا رولاسی‘‘ ( یہ کس بات کاشور تھا؟) پڑوسی نے پوچھا۔ چاچا نے جواب دیا ’’ رضائی دا رولا سی ۔ اوہ لے گئے نیں تے رولا مک گیا اے۔‘‘ ( لحاف کا شور تھا۔ وہ لے گئے ہیں تو اب شور بھی ختم ہو گیا ہے)۔

Image result for poor pakistani sleeping in blanket1958 میں ہمیں بتایا گیا کہ 1956کا آئین ناقابل عمل ہے۔سیاست دان نا اہل ، کرپٹ اور کمزور ہیں۔ حکومت چلانا ان کے بس کا روگ نہیں۔ چنانچہ ہم خیال سیاست دانوں کوچھوڑ کر دیگر کو آٹھ سال کے لئے سیاست میں حصہ لینے سے منع کر دیا گیا۔ ایوب خان کے صاف اور شفاف منعقد کردہ ا نتخابات میں بی بی فاطمہ جناح کو جب شکست ہوئی تو عوام کے چاچا دینو کو خبر ہوئی یہ شور محض رضائی کا ہی تھا۔ نا اہل اور کرپٹ سیاست دانوں کے قبیلے کے ایک فرد نے بھارت سے 99ہزار جنگی قیدی اور ہزاروں مربع میل علاقہ آزاد کروایا ۔ بعد ازاں ملک میں نظام مصطفی کا شور مچا۔ شور تھما تو معلوم پڑا کہ رولا رضاعی کا تھا۔
چشمِ تماشا نے یہ بھی دیکھا کہ محض اخباری تراشوں میں عائد شدہ الزامات کے شور میں چاچا دینو کی رضاعی چھن گئی۔ پاکستان کے چاچا دینو نے ایک ہی منظر مختلف رنگوں میں با ر ہا دیکھا ہے۔
سیاست دانوں نے اس دوران تھوڑا سیکھا اور بہت کچھ نہیں سیکھا ہے۔ سا لہا سال اپنے ہی خلاف چور چور کا شور مچانے کی سازش کرکے اپنا ہی لحاف گنواتے رہے۔ لحاف بھی ایسا کہ جگہ جگہ سے پھٹا ۔ احباب نے جانا کہ بن باس کا ٹ کے آئے ہیں اب کی بار کچھ تو سیکھا ہو گا۔ مگر میثاق کی بیڑی میں سفر کے دوران پانیوں کو گدلہ کر کے مفادات کی مچھلیاں پکڑنے کے چلن ساتھ ساتھ رہے۔ جب اپنے قبیل کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا وقت آیا تو قاضی کے پاس چلے گئے ۔
میثاق کے دوسری طرف کے سیاست دانوں نے قدرے بہتر چلن کا مظاہرہ کیا ۔دن کا سفر تھا۔ راستے میں کا نٹوں بھری ٹہنی پڑی تھی۔ کسی نے کہا ، صاحب ذرا اِس کو اٹھا کر راستے سے ہٹا تے چلیں۔ مانے نہیں ۔ تھوڑا پرے سے گزر گئے۔ شام کو جب واپس اسی راستے سے گزرے تو اسی خار دار شاخ کے باعث پاؤں لہولہان ہو گئے۔
تاحال قرائن دکھائی نہیں دیتے مگر سیکھنے کے اب بھی بہت سے سبق پنہاں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کے مسائل کا تریاق اور ز یادہ جمہوریت ہوتا ہے۔ سال بیت گئے مگر آپ نے جوابدہی کے عمل کو موثر بنانے کی طرف توجہ نہ دی۔ جمہوری نظام پر یقین ایسا کہ بلدیاتی حکومتیں بنانے میں اپنے تئیں بساط بھر تساہل اور مزاحمت کی ۔ پھر مقامی حکومتیں بنائیں تو بس جوں توں کرکے عدالت کا حکم پورا کیا گیا۔ اس ضمن میں میثاق کے دونوں اطراف کے لوگ جمہوریت گریز اں رہے۔ یہ جمہوریت ہی کا اعجاز تھا کہ لولے لنگڑے میثاق نے بھی پارلیمنٹ کی توقیر بچا لی۔ ورنہ لحاف ہاتھ سے جانے کا بندوبست تو پورا تھا۔
دھول اڑا کر بیچ میں سے عارضی اور وقتی سیاسی مفادات حاصل کرنے کی فکر لاحق دکھائی دیتی ہے۔ حقِ حکمرانی کی بات بھی کی جارہی ہے مگر کوئی درست سمت پیش رفت کا اشارہ بھی نہیں۔ پوری جماعت میں وزیر اعظم کا بدل نہیں ۔ یہ بجائے خود قیادت کی اہلیت پر ایک سوال ہے۔ جمہوریت کے استحکام کے لئے جمہوری مزاج، جموری کلچر، جمہوری فکر اور جمہوری آداب کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ ہر دو جماعتوں میں جمہوری فکر اور مزاج کے افراد موجود ہیں۔ میثاق جمہوریت پر سے گرد صاف کریں۔ لحاف بچا نے کا واحد راستہ میثاق جمہوریت ہے جو ہماری سیاسی تاریخ کا معتبر ترین دستاویز ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *