نااہلی، سادگی، کرپشن اورعزت

kashif butt

پاکستان سے باہر ایک جگہ پہ قیام تھا۔ ایک دوست کے ساتھ گفتگو ہو رہی تھی تو کسی موقع پہ بول پڑے کہ یہاں کے لوگ کئی کئی دن غسل نہیں کرتے۔ میں حیران ہوا اور سوال کیا کہ آپ کے اس بیان کی بنیاد کیا ہے کیونکہ میرے مشاہدے کے مطابق تو یہاں کے لوگ دن میں تین تین بار غسل کرتے پائے گئے ہیں اور ’ہائی جینک‘ حالات کے حوالے سے تو یہ لوگ اپنے آپ کو بہت مضبوط سمجھتے ہیں۔ اپنے بیان کی وجہ تسمیہ کے طور میرے دوست فرمانے لگے کہ مجھے کئی کئی دن برابر کے کمروں سے پانی کی آواز نہیں سنائی دیتی جبکہ دونوں جانب کے کمروں میں جوان لڑکیاں رہائش پذیر ہیں۔ اپنے دوست کی سادگی پہ ہم سوائے مسکرانے کے کر بھی کیا سکتے تھے۔ ایسی ہی سادگی پاکستانی عوام میں عام دیکھنے کو ملتی ہے۔ حالیہ سیاسی منظرنامے کو ہی لے لیجیے۔ نون لیگ کے حمایتی اور مخالف دونوں گروہوں میں ایسی سادگی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا کہ اگر دنیا کی کوئی جامعہ سادگی کی سند جاری کرتی تو ساری اسناد پاکستان میں دی جاتیں۔

Image result for ear on wallمیاں نواز شریف کے اقتدار کا سورج غروب ہوا۔ عدالت کے ایک حکم نے انھیں حاضر سے سابق وزیراعظم بنا دیا۔ ایسا کیوں ہوا اس پہ نہ تو میاں صاحب غور کریں گئے اور نہ ہی ن لیگ کے دیگر عہدیداران و اراکین کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس جانب توجہ کریں۔ ویسے بھی اپنی خامیوں کی جانب توجہ کسی کی نہیں جاتی اور ایسے عالم میں جب کہ آپ طاقت و اختیار کے نشے میں ڈوبے ہوں تو کون یہ کشٹ اٹھاتا ہے۔ میاں صاحب کی رخصتی پہ مسرت بھی ہے اور دکھ بھی۔ مسرت ہے کہ صاحبانِ اقتدار سے اپنے ہی عہد میں اثاثوں کے بارے پوچھ گچھ کا آغاز تو ہوا۔ اور دکھ ہے کہ ایک جمہوری حکمران کو عدالتی حکم سے گھر جانا پڑا۔ عوام کے منتخب کردہ وزیراعظم کو ہٹانے کا اختیار بھی عوام کے پاس ہی ہونا چاہیے۔ اگر ایوان اپنا کردار ٹھیک سے ادا کرتا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو اپنی اور ایوان کی طاقت کا احساس ہونا چاہیے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو معاملات ایوان میں بیٹھ کے حل کرنے کے ہوتے ہیں ان کی قدر و اہمیت ہمیشہ دوسرے اداروں سے زیادہ ہوتی ہے اور ایسے فیصلوں کو عوامی عدالت اور تاریخ میں بھی سرخروئی ہوتی ہے۔
اہلِ سیاست کو (خواہ وہ کسی بھی جماعت سے ہوں) یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ عوام سے ہیں اور عوام ہی ان کے بہترین منصف ہیں۔ کسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر مجلس لگا لینے سے وہ جگہ مستقل آپ کو نہیں مل سکتی۔ یہ پیڑ پہ منحصر ہے کہ وہ کب تک آپ پہ سایہ فگن رہے۔ جوں ہی پیڑ کا سایہ اٹھے گا۔ آپ کڑکتی دھوپ میں جلس رہے ہوں گئے۔ سو اپنے سائے کا مستقل بندوبست خود کیجیے۔ یہی بہتر اور اعلی حل ہے۔ عوام کو بھیڑ بکریوں کا ریوڑ سمجھ کے ہانکنے اور اپنا مفاد حاصل کرنے والوں کو طاقت تو مل سکتی ہے لیکن عزت نہیں۔ اور عزت کا فیصلہ زندگی میں نہیں ہوتا۔ اس کے لیے انسان کو مرنا پڑتا ہے۔ تاریخ وہی ہے جو ہمارے بعد لکھی جائے گی۔ اور اس پہ کوئی دوسرا اثرانداز نہ ہو پائے گا۔ تاریخ لکھے گی کہ بات ۴ حلقوں سے شروع ہوئی تھی اور پھر پانامہ سے ہوتی ہوئی وزیراعظم کی نااہلی اور عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف مقدمات تک گئی۔ اس میں ایوان کی مباحث بھی آئیں گی اور اداروں میں ہونے والی کارروائیاں بھی۔ میڈیا کا کردار بھی بیان ہو گا اور سوشل میڈیا پہ چلائی گئی اخلاق باختہ مہمات کا بھی ذکر ہو گا جو اس معاشرے کی مکمل عکاسی کرتی ہیں۔ نون لیگ اور پی ٹی آئی کے جیالے جس طرح دھرلے سے ایک دوسرے کے حرم میں داخل ہوتے رہے وہ سب تاریخ کا حصہ بنے گا۔ حال ہی میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر اور عمران خان و شیخ رشید کے درمیان جو انتہائی سطح پہ بیان بازی ہوئی وہ بھی تاریخ کا حصہ بنے گی۔ تاریخ بتائے گی خان صاحب جس طرح کیس جیتنے سے پہلے کنٹینر پہ کھڑے ہو کے گالی نکالتے تھے ویسے ہی کیس جیتنے کے بعد بھی نکالتے رہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ پہلے پاکستان کے وزیراعظم ان کے نشانے پہ رہے اور بعد میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو نشانہ پہ رکھ لیا گیا۔ دراصل اس میں خان صاحب کا بھی کوئی قصور نہیں۔ بغضِ نواز میں وہ اتنا آگے جا چکے ہیں کہ انھیں اس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ میں نے کچھ تجزیہ نگاروں کو (بشمول سابق فوجی جرنیل) یہ بھی کہتے سنا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور ایسا ہی ایک سوال وزیراعظم آزاد کشمیر سے ایک صحافی نے بھی کیا جب وہ پریس کانفرس کر رہے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیسے تجزیہ نگار ہیں جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں یوں فرق کر رہے ہیں جیسا کہ دو ممالک کے درمیان فرق سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ اندرونِ خانہ پاکستان میں کشمیر اور کشمیریوں سے متعلق کس قسم کی سوچ پائی جاتی ہے۔ فاروق حیدر صاحب کے بیان سے اہلِ وطن کے دل دکھے ہیں اور اس پہ ان کی وضاحتی پریس کانفرس بھی سامنے آئی ہے۔ لیکن ان کے بیان سے عمران خان اور شیخ رشید کو یہ حق نہیں حاصل ہو گیا کہ وہ دشنام طرازی شروع کر دیں۔ اور نہ ہی کسی تجزیہ نگار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان اور کشمیر کو الگ الگ عینک سے دیکھنے لگے۔ ایک صاحب نے تو اپنے پروگرام میں مذہبی منجن بیچتے ہوئے اس بیان کو اور ہی رنگ دینے کی کوشش کی ہے اور رتقسیم ہند کے جغرافیائی و سیاسی تمام پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر پہ تبرا کیا ہے ۔ دراصل یہ بھی ایک انداز ہے عوام میں اپنی رائے کے لیے جگہ بنانے کا۔ جتنا اونچا اور جذباتی بولو گئے عوام اتنا ہی ہیپناٹائز ہو گی۔
اہلِ علم اور مداری میں بڑا واضح فرق ہوتا ہے۔ اہلِ علم و دانش کا کام تعمیری ہوتا ہے جو خلق کے لیے ایسے راستے بناتا ہے جو ارتقائے انسانی کے امین ہوتے ہیں جبکہ مداری کا مقصد کچھ وقت کے لیے لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچنا ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ فسوں سازی میں کسی حد تک بھی جا سکتا ہے جو زیادہ تر تخریبی ہی ثابت ہوتا ہے۔ جب لوگ اپنی فہم کسی مداری کے پاس گروی رکھ دیں تو اس کے بعد انھیں علم نہیں ہوتا کہ کب کون ان کی جیب کاٹ لے اور کب مداری کی کون سی بات انھیں کس امر پہ راضی کر لے۔ جب لوگ ہیپناٹائز ہو جائیں تو پھر وہ وہی کرتے ہیں جو مداری اور مداری کے ساتھیوں کی منشا ہوتی ہے۔ اور پاک و ہند میں تو ویسے بھی مداریوں کی دکان خوب چلتی ہے کہ ہمارے ہاں اندھی عقیدت تو عمومی رویہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر میاں صاحب نااہل ہوئے ہیں تو ایک طرف جہاں ان کے حمایتی غم و غصے میں بپھرے ہوئے ہیں تو دوسری جانب مخالفین خوشی میں آپے سے باہر ہو چکے ہیں۔ اعتدال نہ ایک جانب ہے اور نہ دوسری جانب۔ یہ تقلید پرستی کی انتہا ہی ہے جو انسان کو نچلا نہیں بیٹھنے دیتی۔ اب ایک بار پھر وہی اخلاق باختہ بیانات والا سلسلہ چل پڑا ہے جو ماضی میں ہم دیکھتے آئے ہیں۔ ایک دوسرے کے ماضی کو کھنگالا جائے گا۔ اخلاقی الزامات لگائے جائیں گئے۔ اور اپنے معاشرے کی اخلاقیات دنیا بھر کو دکھائی جائے گی۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کام ہے کہ اپنے لوگوں کی درست رہنمائی کریں۔ انھیں تعمیری راہ پہ ڈالیں نہ کہ تخریبی روش ڈالیں۔ ورنہ دوسرے کے حرم میں جھانکنے کی روایت اسی طرح قائم رہی تو نہ آپ آگے بڑھ پائیں گئے اور نہ یہ معاشرہ اس مقام پہ پہنچ پائے گا جہاں عزت انسان کو سرمایہ کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ اثاثہ جات تو سب کے کھلیں گئے۔ ہر جماعت میں گندگی ملے گی جسے صاف کرنا ضروری ہے۔ دوسرے سول و عسکری اداروں میں بھی بڑی مچھلیاں موجود ہیں۔ اور ان سب کی صفائی کا مستقل بندوبست ہونا چاہیے۔ چھوٹ کسی کو نہیں ملنی چاہیے خواہ وہ وزیراعظم ہو یا چھابڑی والا۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ چھابڑی والا تولتے ہوئے جو فرق کرتا ہے وہی فرق اوپر تک جاتا ہے۔ لیکن اس ساری صفائی کے ساتھ ایک سب سے بڑی صفائی جس کی ضرورت ہے وہ ذہنی گندگی ہے جو اس معاشرے میں بھر چکی ہے۔ جو اختلاف کو میز سے بستر پہ لے جاتی ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں سے اس گندگی کی صفائی جو بھی کر پایا تو وہ نہ صرف پاکستانی تاریخ میں بلکہ انسانی تاریخ میں امر ہو جائے گا اور اس مقام کو پہنچ جائے گا جہاں عزت دستیاب ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *