’’جب ہیری میٹ سیجل ‘‘ پاس یا فیل؟

hussain-javed

جی ہاں کنگ خان اور انوشکا شرما کی فلم ’’جب ہیری میٹ سیجل ‘‘چار اگست کو دنیا بھر میں رہلیز ہوچکی ہے ۔ فلم کے ڈاریکٹر معروف فلم ساز امتیاز علی ہیں ۔یورپ کی حسین لوکیشنز پر فلمائی گئی فلم ،فلم بینوں کو شروع میں ہی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔فلم میں شاہ رخ خان نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ٹورسٹ گائیڈ ہیری کا کردار نبھایا ہے جو اپنی بھاگتی ہوئی زندگی سے خاصا بیزار ہے اور ایک طویل عرصے سے یورپ میں مقیم ہے ۔ہیری ایک تنہا زندگی بسر کر رہا ہے اور ایک طویل عرصے سے اپنے خاندان سے ملنے بھارت بھی نہیں جاسکا ہے ۔فلم کی کہانی تیز رفتاری سے آگے بڑھتی ہے جب ایک گجراتی لڑکی سیجل اپنی منگنی کی انگوٹھی کہیں کھو دیتی ہے اور وہ ٹھان لیتی ہے کہ وہ انگوٹھی لئے بغیر واپس نہیں جائیگی ۔یوں ہیری کو نہ چاہتے ہوئے بھی سیجل کی مدد کرنا پڑتی ہے ۔اس انگوٹھی کی تلاش میں ہیری اور سیجل کو پولینڈ ،ہنگری ،جرمنی اور پرتگال کی خاک چھاننا پڑتی ہے ۔یوں ایک دوسرے سے لڑتے لڑتے اور اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لئے پسندیدگی کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے ۔اور رفتہ رفتہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار بھی ہوجاتے ہیں ۔فلم میں انوشکا اور شاہ رخ کے درمیان کامک ٹائمنگ غضب کی ہے ۔اور جس ترنگ سے دونوں لڑتے اور خوشی مناتے نظر آ تے ہیں وہ لاجواب ہے ۔خصوصاٰ پراگ میں جب انوشکا جس طرح ایک تنازعہ میں مبتلا ہوجاتی ہے اور پھر جس طرح شاہ رخ اسے ان مشکلات سے بچاتا لے جاتا ہے اور دونوں پھر ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں ،یہ بلاشبہ پہلے ہاف کے بہترین مناظر ہیں ۔دوسرے ہاف میں فلم کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ اب معاملہ انگوٹھی ملنے یا نہ ملنے کا نہیں بلکہ اس پر بات پر ٹکا ہوا ہے کہ کیا سیجل واپس ممبئی جائیگی یا ہیری کے ساتھ یورپ میں ہی بس جائیگی ۔یہاں یہ تاثر ملتا ہے کہ امتیاز علی کی گرفت فلم پر کمزور پڑ چکی ہے اور فلم بین تھوڑا سا کنفیوز ہوجاتے ہیں کہ اب ڈاریکٹر کہانی کو کس طرح سے سمیٹ پائے گا ؟

Related image

پھر جس طرح کلائمکس سین میں جب انگوٹھی کے بارے میں راز کھلتا ہے اس کے بعد تو فلم گویا بلاوجہ طوالت کا شکار محسوس ہونے لگتی ہے ۔جبکہ فلم کے اختتام تک فلم بینوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ فلم اب ایک خوشگوار اختتام کی طرف ہی جا ئے گی ۔ڈاریکٹر امتیاز علی نے کہانی پر کم ہی دھیان دیا ہے ۔فلم کا سکرین پلے بھی عدم تسلسل سے بھرپور ہے ۔ امتیاز علی کہیں کہیں اس فلم میں کمزور فارم کا شکار دکھائی دیتے ہیں ۔ہمیں بطور فلم بین یہ تو یاد رہتا ہے کہ کہ فلم شاہ رخ کی ہے لیکن ہم اس بات میں حیران بھی ہوتے ہیں کہ ہائی وے ،راک سٹار،وی میٹ اور لو آ جکل جیسی فلموں کا خالق امتیاز علی اپنی ماہرانہ صلاحتیوں کے ساتھ کہاں ہے ؟کئی باتیں واضح نہیں کی گئیں کہ کیوں ہیری ہندوستان سے یورپ آیا ؟وہ اپنے گاؤں واپسی سے کیوں کتراتا رہا ؟ یہاں سیجل کے گجراتی خاندان پر بھی سوال اٹھتا ہے جنہوں نے ایک جوان لڑکی کو بے یارومددگار یورپ میں دھکے کھانے کو چھوڑ دیا اور سیجل کی بہن کا رویہ بھی خاصا مضحکہ خیز رہا جو اپنی بہن سے گفتگو تو روزانہ کرتی ہے لیکن اپنی بہن کیلئے ذرا بھی فکرمند نہیں۔البتہ اس بات میں شک نہیں کہ فلم کی اصل جان شاہ
رخ خان اور انوشکا کے درمیان دم دار کیمسٹری ہے جو فلم بینوں کو فلم سے جوڑے رکھتی ہے ۔پرفارمنس کی بات ہو تو فلم میں شاہ رخ اور انوشکا ہی لگ بھگ ہر سین میں ہی موجود ہیں ۔ تاہم کہیں کہیں فلم میں کیریکٹر ایکٹرز کی کمی بری طرح محسوس ہوتی ہے ۔شاہ رخ خان نے ایک تنہائی پسند ،منہ پھٹ انسان کے کردار کو جس طرح ایک رومانوی شیڈ میں ڈھالا ہے یہ اسی کا خاصا ہے ۔اور بلاشبہ رومانس تو ویسے بھی شاہ رخ خان پر ختم ہے ۔خصوصا ٰجس طرح اندر ہی اندر چڑتے ہوئے جس روانی سے شاہ رخ نے مکالمے ادا کئے وہ اپنے آپ میں ایک مکمل انٹر ٹینمنٹ ہے ۔ شاہ رخ کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ ایک پرانی شراب ہمیشہ بے مثال مزا دیا کرتی ہے ۔جبکہ دوسری طرح رب نے بنا دی جوڑی اور جب تک ہے جان کے بعد یہ شاہ رخ کے ساتھ انوشکا کی یہ تیسری فلم ہے۔لیکن انوشکا نے شاہ رخ کے ساتھ کمال ہم آہنگی اور بے ساختگی کے ساتھ واقعی ایک پراعتماد ایکٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے ۔جبکہ شاہ رخ کے دوست کے مختصر کردار میں آرو ورما بھی متاثر کن رہے ۔یورپ کی دلکش لوکیشنز پر فلم کی سنیما آٹو گرافی کے موہنان نے خوبصورتی سے انجام دی ۔ فلم کا میوزک پریتم چکرورتی نے دیا اور فلم کے گانے ،سفر ،بٹرفلائی ،ہوا ئیں اور خصوصاٰ رادھا فلم بینوں کے جوش کو مزید گرما کردیتے ہیں ۔مجموعی طور پر ’’جب ہیری میٹ سیجل ‘‘نے فلم بینوں کو کچھ ایسے لمحات ضرور فراہم کئے جو کسی بھی تفریحی فلم میں ہونا ضروری ہوتے ہیں ۔ اگر بات کی جائے فلم کے پہلے روز بزنس کلیکشن کی تو شاہ رخ کی یہ فلم پہلے دن محض سولہ کروڑ روپے کما سکی جوکہ شاہ رخ کی گزشتہ رہلیز کی گئی فلموں کے مقابلے میں خاصا کمزور بزنس ہے ۔فلم ہندوستان کے 3200 سنیما گھروں اور ملٹی پلیکسزمیں رہلیز ہوئی ۔بڑے شہروں میں تو جم کر بھیڑ لگی ہوئی ہے لیکن ہندوستان کے چھوٹے شہروں میں فلم اتنی زوردار نہیں جا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ فلم میں کمزور سکرپٹ کی وجہ سے کچھ کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ایک اچھا ویک اینڈ گزارنے کے لئے ’’جب ہیری میٹ سیجل ‘‘ایک درست انتخاب ہے ۔میں اس فلم کو 3/5 ریٹ کروں گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *