پی ٹی آئی کا المیہ

khalid irshad sofi

ایک ایسے وقت پر جب تحریک انصاف والے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دلوانے پر جشن منا رہے ہیں اور عمران خان نے راولپنڈی اسلام آباد کی پریڈ گراؤنڈ میں اتوار کے روز یوم تشکر کے جلسے میں زرداری‘ شہباز شریف اور دوسرے کئی افراد کو اپنی سیاست کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں‘ خود ان کی اپنی پارٹی میں چھید پڑتے اور بڑھتے جا رہے ہیں۔ یوم تشکر والے جلسے کے تیسرے روز تحریک انصاف کی رہنما رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان پر کئی الزامات عائد کر دئیے۔ مثلاً یہ کہا کہ عمران خان بدکردار ہیں اور ان کے گرد جمع ٹولے سے خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پوری دنیا کو خراب اور خود کو فرشتہ سمجھتے ہیں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خواتین کو غلط میسیجز بھیجتے ہیں‘ ارکان اسمبلی کی تذلیل کی جاتی ہے۔ عائشہ گلالئی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہیں‘ وہ پارٹی کے باصلاحیت ورکرز سے حسد کرتے ہیں ‘ دوسروں کی باریاں آنے کی رٹ لگانے والے عمران خان کی اب اپنی باری آنے والی ہے۔ تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری‘ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور فواد چوہدری نے گلالئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
اس سے دو ہفتہ قبل تحریک انصاف کی ناز بلوچ نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے بھی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پی ٹی آئی میں میل شاؤنزم حد سے بڑھ چکا ہے‘ تمام فیصلے مرد کرتے ہیں‘ پارٹی کی خواتین کو نہیں سنا جاتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے تبدلی کا نعرہ لگایا لیکن آج افسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگاتے لگاتے یہ پارٹی خود تبدیل ہو گئی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی میں اب وہ سحر نہیں رہا جس کی امید کی جائے۔
قبل ازیں جاوید ہاشمی نے عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ کہ وہ حکومت کے خلاف غیر سیاسی قوتوں کے ساتھ چل رہے تھے، انہوں نے ہر اسٹیج پر عمران خان کے دھرنے کی مخالفت کی تھی، جاوید ہاشمی نے دھرنا سازش کے سکرپٹ کو بھی بے نقاب کیا تھا‘جس میں طاہر القادری کے کردار کے ساتھ ساتھ ایک اور صاحب کا بھی ذکر کیا‘ جن سے انھیں اسمبلیاں توڑنے کی امیدیں تھیں، جس کے نوے دن بعد پی ٹی آئی نے الیکشن جیت جانا تھا۔ انہوں نے متعدد بار عمران خان کو جھوٹا قرار دیا اور مناظرے کا چیلنج بھی دیا۔ جاوید ہاشمی نے عمران خان پر عدالتی بغاوت کا منصوبہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ عمران خان حکومت ہی نہیں قومی اداروں کے خلاف بھی سنگین سازشوں کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے ذہن پر اقتدار کا بھوت سوار ہے اور اسی لئے وہ نہ صرف حکومت بلکہ قومی اداروں کے خلاف ایک کے بعد ایک سازشیں کررہے ہیں۔
فوزیہ قصوری نے جاوید ہاشمی سے بھی پہلے 2013میں پی ٹی آئی کو چھوڑ دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ یہ وہ پارٹی نہیں جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ لوگوں کو ان کے حقوق دیتی اور دلاتی ہے۔ انہوں نے بھی کہا تھا کہ پارٹی کی ٹاپ مینجمنٹ کرپٹ ہے‘ متعصب ہے اور نیپوٹزم سے بھری ہوئی ہے۔ فوزیہ قصوری نے یہ بھی کہا تھا کہ مافیاز اور لابیز نے پارٹی کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
ریحام خان اورعمران خان میں طلاق ہوئی تو انہوں نے خان کے روئیے اور پارٹی معاملات کے بارے میں جو کچھ کہا اس سے سبھی واقف اور آگاہ ہیں اس حوالے سے ان کی ایک زیر طبع کتاب کے چرچے بھی سوشل میڈیا پر سننے میں آرہے ہیں۔
یہ سارے الزامات ایک دوسرے سے خاصے ملتے جلتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اگر سارے کے سارے سچ نہیں ہیں تو سارے کے سارے غلط بھی نہیں ہو سکتے۔پیپلز پارٹی کے بعد پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جس نے اپنے ایجنڈے اور عمران خان کی شخصیت کی وجہ سے مڈل کلاس کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا اور 2011کے لاہور کے جلسے کے بعد جس کی شہرت اور ہر دلعزیزی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کے فوراً بعد پی ٹی آئی ورکنگ کلاس کی نمائندہ ’اینٹی سٹیس کو‘ جماعت سمجھی جانے لگی اور لوگ جو ق در جوق اس میں شامل ہونے لگے‘ حتیٰ کہ کئی بزرگ‘ محترم اور ممتاز صحافیوں نے بھی دائیں اور بائیں بازو کی تخصیص کے بغیر دو دہائیوں تک اپنی معتبریت اور نیک نامی کو اس جماعت کی آبیاری کے لئے صرف کیا اور عمران خان کو قوم کا نجات دہندہ تصور کرنے لگے۔ ماضی میں کئی ایسی جماعتیں تھیں جن کی قدامت پسندی کی وجہ سے لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا اور وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ اس کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ایلیٹ کلاس میں اس میں شامل ہونا شروع ہو گئی اور اس پارٹی سے الگ ہونے والوں کے بقول انہوں نے پارٹی معاملات پر غلبہ حاصل کر لیا اور یوں وہ ایجنڈا کہیں پیچھے رہ گیا جس کی کشش نے عام آدمی‘ خصوصی طور پر پڑھے لکھے طبقے اور طلبا و طالبات کو اس کا ورکر بنا دیا‘ جن کو عمران خان چیتے کہتے ہیں پھر ہوا یہ کہ نہ صرف چیتے اور چیتیاں مایوس ہو گئے بلکہ بزرگ صحافیوں اور روشن مستقبل اور بدلے ہوئے پاکستان کی تمنا دل میں لئے اس میں شامل ہونے والی ورکنگ کلاس بھی بد دل ہو گئی اور اس پارٹی کو چھوڑنے لگی۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اس جماعت کے لبرل روئیے اور پڑھے لکھے تشخص کو دیکھ کر مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی جوق در جوق اس میں شامل ہوئیں‘ خصوصی طور پر خواتین سیاسی رہنماؤں نے اسے اپنے آدرشوں کی کامیابی کا ایک ذریعہ تصور کیا ۔ لیکن عمران خان نے ان خواتین کو بھی اپنے روئیے سے مایوس کیا‘ جس کا ایک ثبوت ایک ماہ سے بھی کم وقت میں دو خواتین سیاسی رہنماؤں کا پی ٹی آئی چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں شامل ہونا ہے۔ جاوید ہاشمی جیسے سیاسی رہنما کا پی ٹی آئی کے ایجنڈے سے اختلاف کرکے اس سے الگ ہونا ہے اور عمران خان کا جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد خان جیسے شریف آدمی کی رکنیت معطل کرنا اور پھر ریٹائرڈ جسٹس کا پی ٹی آئی سے مستعفی ہونا ہے۔
لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی ایک پڑھی لکھی اور مہذب جماعت ہے‘ لیکن پھر لوگوں نے براہ راست اور ٹی سکرینوں کے ذریعے دیکھا کہ اس جماعت کے جلسوں میں خواتین ورکروں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ بدسلوکی کے ان واقعات نے خواتین ورکرز کو مایوس کر دیا ۔ علاوہ ازیں خواتین سیاسی رہنماؤں اور ورکرز کی کاوشوں کو رد اور مسترد کیا جاتا رہا۔ انہیں برابر کے حقوق نہ دینے کے واقعات اور ان کے ساتھ نامناسب روئیے نے بھی خواتین کی آنکھیں کھول دیں۔ ناز بلوچ اور عائشہ گلالئی کے بیانات آپ کے سامنے ہیں۔
لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ باقی سیاسی جماعتیں یا ان میں سے کچھ لسانیت‘ صوبائیت‘ قومیت اور برادری ازم کی بنیادوں پر ایستادہ ہیں‘ جبکہ پی ٹی آئی واحدد جماعت ہے‘ جس کے کارکن پڑھے لکھے‘ روشن خیال اور کسی بھی قسم کی عصبیت سے الگ تھلگ آگے بڑھنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن پھر یہ مشاہدہ ہوا کہ اس جماعت کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ہر اس بندے کو گالیوں سے نوازا جس نے پی ٹی آئی کے سیاسی روئیے سے اختلاف کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے جن آدرشوں کو پیش نظر رکھ کر پی ٹی آئی بنائی‘ وہ کہیں پیچھے چھوٹ چکے ہیں۔ پارٹی میں وہ لوگ شامل ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں‘ جن کو کبھی عمران خان تنقید کا نشانہ بنایا کرتا تھا۔ وہ طبقات پی ٹی آئی میں سرایت کر چکے ہیں‘ جن کے ہاتھوں معاشرے کے استحصال کے خلاف جدوجہد کا موصوف نے عزم کیا تھا۔ شیخ رشید اور بابر اعوان اس کی تازہ مثال ہیں۔
میرے خیال میں تو پارٹی چھوڑنے والے اکران کی جانب سے جو الزامات لگائے جاتے ہیں‘ وہ بہت بڑاالمیہ ہے‘ اگر اسے کوئی محسوس کرنے والا ہو۔ خصوصی طور پر خواتین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور ان کی چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل محض پی ٹی آئی کے لیے المیہ نہیں ہے بلکہ اس ساری ورکنگ کلاس اور متوسط طبقوں کے لیے المیہ ہے جو اس ملک سے موروثی سیاست کو ختم کرکے اسے ا یک حقیقی جمہوری نظام دینے کے خواہش مند ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *