2 برس بعد انسانی سر کی پیوند کاری ممکن ہوس جائے گی: سرجن سرگیو

لندن: اگر کسی شخص کا سر بالکل ٹھیک ہو لیکن جسم ختم ہوچکا ہو اوردوسری جانب ایک صحت مند جسم کا عطیہ موجود ہو تو کیا اس کاhead1 سر تندرست جسم پر منتقل کیا جاسکتا ہے جس  کا جواب دیتے ہوئے سرجن سرگیو کیناورو کہتے ہیں کہ اگلے دو برس میں یہ ممکن ہوگا۔

سرگیو کا اپنی تحقیق میں کہنا ہے کہ  سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ منتقل کئے جانے والے سر اور دھڑ دونوں کو ہی انتہائی سرد رکھا جائے تاکہ سیلز (خلیوں) کے مرنے کی شرح کو روکا جاسکے، اس کے بعد دونوں کی گردن کاٹنے کے بعد اہم رگوں کو ٹیوب سے جوڑا جائے اور آخر میں انتہائی احتیاط سے حرام مغز کو کاٹا جائے جب کہ  سب سے اہم مرحلہ اسپائنل کورڈ کو اعصاب سے جوڑنا ہے، اس میں کئی گھنٹوں تک ان رگوں کو پولی ایتھائلین گلائکول سے دھویا جائے جس سے خلیوں میں موجود چکنائی کم ہوجاتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں پٹھوں (مسلز) اورجلد کو خون کی نالیوں سے جوڑا جائے گا اور مریض کو کئی ہفتوں تک کوما میں رکھنا ضروری ہوگا تاکہ اس کی حرکت سے یہ عمل متاثر نہ ہوسکے، خصوصاً کمر کے اعصاب کو الیکٹروڈز سے جوڑنا ہوگا تاکہ اعصاب کے نئے کنیکشنز کو مضبوط اور طاقتور بنایا جاسکے، اگر انسانی جسم اس پر ردِعمل کا اظہار کرے تو اس کے لیے امیونوسپریشن ادویات ضروری ہوجاتی ہیں۔

سرگیوکے مطابق اگر کامیابی مل جاتی ہے تو مریض فزیوتھراپی اور دیگر مدد سے ایک سال میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے، لیکن اس طریقے پر مزید تحقیق اور ٹیسٹ ضروری ہیں، سرگیو اب ایسے مریضوں پر تجربہ کرنا چاہتے ہیں جو دماغی طور پر مرچکے ہیں، چین کی ہربن یونیورسٹی میں ژیاؤپنگ رین نے کامیابی سے ایک چوہے کا سرتبدیل کیا گیا ہے جس کو سامنے رکھتے ہوئے  انسانی سر کی پیوندکاری میں مزید پیش رفت ہوسکے گی۔

اس عمل پر تنقید کرنے والے افراد ایک جانب تو طبی اخلاقیات کے پہلوؤں کو زیرِبحث لارہے ہیں کیونکہ اس میں انسانی سر اور دھڑ کی بات ہورہی ہے، دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ آنکھوں اور گردوں کی منتقلی کے مقابلے میں سرکی منتقلی بہت پیجیدہ عمل ہے اور ہم اب تک دماغی اعصاب کو بھی درست انداز میں نہیں سمجھ سکے ہیں، اس کا جواب دیتے ہوئے سرگیو کہتے ہیں کہ اگرپوری انسانیت اس طریقے کو ناپسند کرتی ہے تو میں اسے ترک کردوں گا لیکن اگر یورپ اور امریکا میں لوگ اس کے مخالف ہوں اور دنیا کے دیگر علاقے میں لوگ ایسا چاہتے ہوں تو پھر تحقیق جاری رکھنی چاہیے اور وہ اس کی کامیابی کے لیے بہت پرامید ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *