جمہور کی پائمالی

imran zahid
دیکھئے، میں میاں نوازشریف کے جمہور کی بالادستی اور نیو سوشل کنٹریکٹ کے نعرے کی پوری حمایت کرتا ہوں۔ ستر سال سے ہم نے دیکھا ہے کہ جمہور کی رائے کو طرح طرح سے پائمال کیا گیا ہے ۔۔۔ ملکی دستور کو بار بار ردی کی ٹوکری کی نذر کیا گیا اور قانون بنانے والے، اسے نافذ کرنے والے اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے کچھ بھی نہ کر سکے ۔۔۔۔ بلکہ اس آئین شکنی کا حصہ بن کے رہ گئے ۔۔۔ جمہور اور آمریت کی اسی کشمکش میں ہم 1971 میں آدھا ملک تک گنوا بیٹھے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد : پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد ۔۔۔ ہمارے بھائی ہمارے دشمن بن گئے۔
:
تاریخ کا پہیہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ بہت دیر تک یہ مذاق اس ملک میں نہیں چل سکتا۔ گو ابھی بہت سفر باقی ہے۔ اب یا تو انقلابِ ایران و فرانس کی طرح کسی آتش فشاں کے پھٹنے کا انتظار کیا جائے یا جنوبی افریقہ کی طرح سمجھداری سے سب فریق میز پر بیٹھ کر اپنی اپنی حدود کا تعین کر لیں، ماضی کی سیاہ کاریوں سے تائب ہو جائیں اور آئندہ کے لئے ایک ایسا لائحہ عمل اپنا لیں جس میں جمہور کی رائے کا احترام بھی ہو اور نظام کا ایک ہموار تسلسل بھی ہو۔
:
اس ضمن میں چئیرمین سینیٹ رضا ربانی نے اپنے انتہائی قابلِ قدر خیالات کا اظہار کرنے ہوئے آپس میں بات چیت اور باہمی تعلقاتِ کار کے نئے نظام کو وضع کرنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
:
”پاکستان میں ایگزیکٹیو پارلیمان پر حملہ آور ہوتی ہے اور عدلیہ کے کام میں مداخلت کرتی ہے اور عدلیہ پارلیمان اور ایگزیکٹو پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے ان سب اقدامات میں پارلیمان کو انتہائی کمزور ادارہ بنا دیا ہے۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ حکومت عوامی نمائندے چلائیں گے۔ لیکن، کبھی پارلیمان کو مارشل لاء سے ختم کیا جاتا ہے تو کبھی اٹھاون ٹو بی کا سہار لے کر جمہوریت ختم کر دی جاتی ہے۔ اور، اب ہمارے سامنے ایک اور نیا طریقہ آگیا ہے، جس سے منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا جا رہا ہے۔“
:
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اداروں کے درمیان محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ لیکن، وہ یہ بات ضرور سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ ایگزیکٹیو اور پارلیمان کو اپنی مقرر کردہ حدود میں کام کرنا چاہیے۔
:
آخر میں انہوں نے کسی لائحہ عمل کو طے کرنے کے لئے دعوتِ فکر دیتے ہوئے کہا  کہ وہ سینیٹ کی جانب سے عدلیہ، ایگزیکٹیو، پارلیمان اور اسٹیبلشمنٹ کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور حدود کے تعین کے لیے آپس میں بات کریں۔
:
ایسے حالات میں قوم کے دانشوروں، لکھنے والوں، ٹی وی پر بولنے والوں کو چاہیئے کہ متشددانہ حد تک سیاسی تقسیم در تقسیم اور عدم برداشت کے رویوں کے بیچ میں راہنمائی فرمائیں کہ قوم بغیر کسی حادثے کے ایسی منزل کی طرف بڑھ سکے جس کا خواب پاکستان کے معماروں نے دیکھا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *