انڈیاکے انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کا تہلکہ خیز انٹرویو

بشکریہ : فرسٹ پوسٹ سٹاف

Image result for daud ibrahim

حال ہی میں داؤد ابراہیم نے سی این این نیوز 18 کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے اپنی صحت اور اپنی موجودگی کی جگہ کے بارے میں تمام اندازوں کی تردید کی اور ایسا ثبوت بھی فراہم کیا جس کے تحت انہیں 1993 ممبئی دھماکوں میں ملوث قرار دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جا سکتی۔ پہلی بار انہوں نے کسی ٹی وی چینل سے براہ راست گفتگو کی۔ بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان کی آواز کے نمونوں کی جانچ پڑتا ل کی اور تصدیق کی کہ بات کرنے والے داؤد ابراہیم خود ہیں۔ اس آڈیو کلپ میں یہ ثبوت موجود ہے کہ داؤد زندہ ہیں اور کراچی سے اپنے کاروبار چلا رہے ہیں۔ انویسٹی گیشن ایڈیٹر منوج گپتا نے ان سے گفتگو کی اور داؤد بہت تحمل اور سکون سے گفتگو کرتے نظر آئے جب تک انہیں اندازہ نہیں ہوا کہ وہ ایک بھارتی صحافی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے تبھی اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی اور فون اپنے ساتھی جاوید چوٹانی کو دے دیا اور پوری گفتگو کے دوران انہیں ہدایات دیتے رہے۔ جب داؤد کو اندازہ ہوا کہ انہیں ٹریک کیا جا رہا ہے تو ان کی پریشانی بلکل واضح تھی۔

منوج گپتا: داود صاحب،

داؤد: آپ کون؟

گپتا: جی صاحب ، سلام قبول کیجیے۔ میں منوج گپتا ہوں ، سی این این نیوز 18 سے۔

داود: نہیں یہ جاوید چوٹانی بول رہے ہیں۔

منوج گپتا: ہیں جی؟

Image result for daud ibrahim

داؤد: بول بول،

جاوید چوٹانی: وعلیکم سلام

منوج گپتا: ہاں وعلیکم سلام

جاوید چوٹانی: کون بول رہے ہیں؟

گپتا: میں منوج گپتا ہوں ، سی این این نیوز 18 سے۔

منوج گپتا: داؤد صاحب تھے؟

جاوید: جی جی منوج بھائی بولیے۔

منوج : داؤد صاحب سے بات کرا دیجیے۔

جاوید : کون داؤد صاحب

منوج: داؤد ابراہیم صاحب

جاوید: بولیے کیا ہے؟

منوج: جی میں منوج بول رہا تھا وہ میرے کو جانتے ہیں، پوچھ لیجیے ان سے ایک بار۔ انہوں نے اٹھایا تھا فون۔ وہ جانتے ہیں میرے کو۔

داؤد : ہاں بولو بولو،

جاوید : ہاں بو لو بولو،

Image result for daud ibrahim

چوٹانی ایک پاکستانی بکی ہیں جو داؤد کے اربوں ڈالر کے حساب اور دبئی رئیل اسٹیٹ معاملات کو دیکھتے ہیں ۔ یہ 2013 کے آئی پی ایک فکسنگ سکینڈل میں داؤد اور بکیوں کے درمیان رابطہ رکھنے میں مدد گار تھے۔ چوٹانی داؤد کے بھائی انیس کے بہت قریبی رہے ہیں اور اپنے حلقے میں ڈاکٹر کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان کے ایک ٹیبل ٹینس پلئیر ہوا کرتے تھے۔ چوٹانی کراچی میں رہتے ہیں اور دبئی میں بھی ان کا ایک گھر ہے۔

گپتا: وہ تو سر، آپ پاکستان میں ہو، کراچی کے اندر

چوٹانی: کس نے بولا یہ؟

گپتا: یہ نمبر پاکستان کا ہے نا:

داؤد: ٹائم ویسٹ مت کر

جاوید: خدا کا خوف کر، ٹائم ویسٹ کر رہا ہے ، تو کس سے بات کر رہا ہے؟ کس کا انٹرویو لے رہا ہے، کچھ پتا ہے تجھے؟

جاوید: نہیں آپ بتاو اتنا لمبا انٹرویو لے رہے ہو، اتنی ساری باتیں کر رہے ہو، پتا ہے بھی کہ کس سے کر رہے ہو؟

گپتا: داؤد صاحب سے،

جاوید : خدا کا خوف کر، ایک تو نام ایسے لیتے ہو، آپ کو کیا وہ ایسے کسی طرح فونوں پر مل جائیں گے کیا؟ کس نے کہا تمہیں یہ نمبر ، مٹا دو یہ نمبر تم ایک کام کرو، مجھے ایک نمبر دو جس سے میں آپ کا میسج کسی کے تھرو پاس کروا سکتا ہوں میں۔

پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ داود پاکستان میں نہیں ہے لیکن انڈیا اسلام آباد کے دعووں کو ہمیشہ مسترد کرتا آیا ہے۔ انڈیا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستانی حکومتیں داود ابراہیم کو پناہ دیتی ہیں اور داود پاکستانی فون نمبر استعمال کرتے ہیں۔ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ داود ابراہیم کراچی کے علاقے کلفٹن کالونی کے بلاک 4، ہاوس نمبر ڈی 13 میں رہتے ہیں۔جس گلی میں وہ رہتے ہیں اسے نو ٹریسپاس زون بنایا گیا ہے۔ پاکستان کی تردید کے باوجود انڈیا الزام لگاتا ہے کہ داؤد کو ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے اور ان کے گھر کے آس پاس رینجرز تعینات رہتے ہیں۔ وہ چوٹانی جیسے ساتھیوں کی مدد سے ڈی کمپنی چلا لیتے ہیں۔ پچھلے تین سال میں مودی حکومت نے داؤد کو پکڑنے کےلیے 5 ٹیمیں بنائی ہیں جس کا کام داود کے بزنس پر کریک ڈاون کرنا ہے جو دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ بھارت داود اور اس کے گینگ کی ہر حرکت پر نظر گاڑے ہوئے ہے لیکن انہیں پکڑنا اس لیے آسان نہیں ہے کیونکہ ان کے خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگانا آسان نہیں ہے۔ ایک انٹرویو میں راج ناتھ سنگھ نے سی این این 18 کو بتایا تھا کہ بہت جلد داود کو پکڑ لیاجائے گا۔ داود کراچی میں اسماعیل مرچنٹ کے نام سے موجود ہیں اور کبھی فون نہیں سنتے۔ بھارت سے بھاگے ہوئے یہ گینگسٹر کراچی میں وی آئی پی کی حیثیت سے رہتے ہیں۔

منوج گپتا: سر ایک چھوٹا انٹرویو دے دو۔

داود: نہیں انٹرویو نہیں۔

گپتا: سر آپ کہاں پر ہیں؟ میں ایک کیمرہ بھیج دوں کراچی میں ؟

داود کا ساتھی: افطار کا وقت ہے۔ جانے دے بیٹا۔

گپتا سر ایک انٹرویو کر دو داود صاحب، ایک بار مل لو مجھ سے۔

داود: مل لیتے ہیں۔

داود کا ساتھی: کہاں ہے؟

Image result for daud ibrahim

گپتا: میں دہلی میں ، بتاو سر، آپ کے پاس آ جاوں؟

داود کا ساتھی: دلی پہ ہو؟ دبئی آ جا، دبئی آ جا،

منوج گپتا: دبئی کب سر؟ سر کیمرہ بھیج دوں کراچی میں؟ کوئی آئی اے ایس ہے ، رہنے دے۔

منوج گپتا: ہیلو، ہیلو،

داؤد کا ساتھی: یہ کوئی ٹائم ہے انٹرویو کرنے کا؟ افطار کا ٹائم ہے، کوئی نماز کا ٹائم ہوتا ہے، تھوڑا دھیان تو دو یار۔

منوج: ایک چھوٹا سا انٹرویو کر دو، دو منٹ کا۔ داود ابراہیم صاحب بول رہے ہیں؟

داود: اچھا بول،

ساتھی: اچھا بولو کیا پوچھنا چاہ رہے ہو،

گپتا: کچھ ٹائم دیجئے سر۔

ساتھی : جب دل کرے۔

گپتا: کب آوں سر؟

ساتھی: کبھی بھی آ جاو۔

گپتا: سر کرا دو ایک بار بات

ساتھی : ہاں تو نمبر دو اپنا، میں کرا دیتا ہوں۔

منوج : میرا نمبر ہے: xxxxxxxx

Image result for daud ibrahim

داود: لکھ،

ساتھی: کہاں لو گے انٹرویو، ڈائریکٹ سٹوڈیو میں لو گے انٹرویو؟

منوج: ہم فون پر لے لیں گے انٹرویو۔ ساتھی: ہم فون پر نہیں دیتے انٹرویو۔

منوج: کیمرا بھیج دیتا ہوں آپ کے پاس کراچی میں ،

ساتھی: جب آپ کو سب پتا ہے تو آپ مجھ کو کیوں پوچھ رہے ہو ملوانے کےلیے ؟

داود کا ساتھی: بھیج دو، اور ایک کام کرنا۔ ساتھ میں آپ بھی آ جانا۔ اب ہماری بات تب ہی ہو گی جب آپ ہمارے سامنے ہو گے۔

داود: ان کا نام کیا ہے؟

جاوید: آپ کا نام کیا ہے ویسے؟

گپتا: جی سر میں منوج گپتا۔

داود: لکھ،

جاوید چوٹانی: بس بے فکر ہو جاو، نمبر نوٹ کر لیا ہے میں نے آپ کا ، نام بھی، انشاء اللہ کرتے ہیں۔

اس ٹیلیفون گفتگو کے دوران صاف معلوم ہو تا تھا کہ داؤد بیمار نہیں ہیں ۔ اس سے قبل لوگوں کو افواہوں کے ذریعے معلوم تھا کہ انہیں گنگرین جیسی خطرناک بیماری لاحق ہے لیکن داود نے خود بتایا کہ انہیں صرف بلڈ پریشر کا مسئلہ پیش آیا تھا۔

گپتا: کیا حال ہیں سر، سلام عرض ہے۔

داؤد کا ساتھی: جی آداب

گپتا: کیسے ہیں سر؟

داود کا ساتھی: ہیلو،

گپتا: داود صاحب، آداب عرض ہے۔

داود کا ساتھی: آداب عرض ہیں۔

منوج: جی میں منوج ہوں۔

داود کا ساتھی: جی بولو بولو کیسے ہو،

منوج گپتا: جی بڑھیا بڑھیا، سب اللہ کا کرم ہے ۔ آپ سناو۔

داود کا ساتھی: سب بڑھیا ہے؟

منوج: اور سر، طبیعت ٹھیک ہے؟

داود کا ساتھی: الحمد للہ فرسٹ کلاس

منوج گپتا: سر یہ جو افواہ تھی کہ آپ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے اور گینگرین کی بیماری ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟

داود: بی پی بڑھ گیا تھا ایک بار، بی پی بڑھ گیا تھا ایک بار


courtesy:http://www.firstpost.com/india/dawood-ibrahims-exclusive-interview-1993-mumbai-serial-blasts-accused-is-fit-and-in-pakistan-3915797.html--

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *