مایوسی کے خلاف طبل جنگ

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

 آج صبح جب میں یہ سطور لکھنے کے لئے بیٹھا تو اس وقت میرے کان میں درد ہو رہا تھا، نیز سماعت میں خاصی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ تاہم اس کافائدہ یہ ہوا کہ میں گھر میں آن اس دیسی واشنگ مشین کے شور و غل سے بے نیاز ہو گیا جو بیئرنگ کی خرابی کی وجہ سے
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کا راگ الاپ رہی تھی اور کاخ امراء کے در و دیوار ہلانے میں مشغول تھی، چنانچہ مجھے کلام اقبالؒ کے بارے میں سوچ بچار کے لئے تھوڑی سی یکسوئی میسر آگئی، میں نے تقابلی جائزے کے لئے اردو شاعری کے منظر پر ایک نظر ڈالی تو ہر شاعر کے دیوان میں کئی کئی جنازے اٹھتے دکھائی دیئے، ایک سوگ، افسردگی اور مایوسی کی فضا تھی اور ان شاعروں کی آہ و بکا سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی
جو اس شور سے میرؔ سوتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
فانی ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
مرتا ہوں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
بند ہوگئیں دیکھتے دیکھتے آنکھیں غالبؔ
یار لائے میرے بالیں پہ اسے پر کس وقت
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج ہم کل تمہاری باری ہے
اردو کی تمام کلاسیکی شاعری اسی طرح کے مضامین سے کچھ اس قدر بھری ہوئی ہے کہ یہ سارا کلام کسی گورکن کا کلام لگتا ہے۔ مولانا حالیؔ مایوسی سے بھری ہوئی اس شاعری کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور اقبالؒ کی صورت میں فلک سے ان کے نالوں کا جواب آتا ہے
ہمت ہو پر کشا تو حقیقت میں کچھ نہیں
وہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسماں
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ ؐ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
نہ تو زمین کے لئے ہے نہ آسماں کے لئے
جہاں ہے تیرے لئے، تو نہیں جہاں کے لئے
یہ لہجہ ایک مرد کا لہجہ ہے۔ اس میں کوئی انفعالیت نہیں۔ لگتا ہے کہ کوئی ’’جنا‘ ‘ بات کر رہا ہے۔اقبالؒ جانتا تھا کہ کسی قوم پر فتح حاصل کرنے کے لئے توپ و تفنگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے صرف مایوس کردینا کافی ہوتا ہے۔ ایک قوی ہیکل پہلوان اگر ہمت ہار دے تو اسے ایک کانگڑی پہلوان چت کرسکتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ انسان پر اگر کوئی شدیدصدمہ آن پڑے جس کے نتیجے میں وہ ہمت ہار بیٹھے تو اس کے تمام جسمانی اعضا اپنی جگہ پر صحیح و سالم موجود ہونے کے باوجود بے کار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ زبان ذائقے سے محروم ہو جاتی ہے۔ ہاتھ حرکت نہیں کرتے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور پائوں من من کے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح انسان اگر خوش ہو، پرامید ہو تو اس کے کمزور اعضا میں بھی بجلیاں سی دوڑنے لگتی ہیں۔ اگر کسی بیمار کو صرف چار ایسے عیادت کنندگان میسرآ جائیں جو اس سے گلے مل کر رونا شروع کردیں تو پانچویں عیادت کنندہ کی آمد سے قبل ہی وہ اللہ کو پیارا ہو چکا ہوتا ہے لیکن اگر کوئی بیمار امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور مایوسی اور ناامیدی کو خاطر میں نہیں لاتا اور بیماری کا مقابلہ ہمت سے کرتا ہے تو خدا اسے شفا عطا فرماتا ہے۔ میں نےایسے کئی مریض دیکھے ہیں جو اگر تندرست نہیں ہوتے تو اپنی وِل پاور کی وجہ سے زندہ ضرور رہتے ہیں مگر ان کے اہل خانہ کو کچھ عرصے بعد یہ وِل پاور ایک آنکھ نہیں بھاتی چنانچہ وہ اس کی ’’مشکل‘‘ آسان کرنے کے لئے اس کے سرہانے سورۃ یٰسین پڑھنے لگتے ہیں۔ بیمار کو علم ہوتا ہے کہ سورۃ یٰسین بیمار کے سرہانے کس وقت پڑھی جاتی ہے۔ چنانچہ اپنی موت کا یقین ہونے پر وہ موت کے خلاف مزاحمت ترک کردیتا ہے اور پھر چند ہی لمحوں میں وہ موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں ننانوے فیصد اموات سورۃ یٰسین سے ہوتی ہیں۔ ہماری مایوس قوم نے پورے قرآن مجید کو طاق پر رکھ دیا ہے اور اس میں سے سورۃ یٰسین کا بھی عجب استعمال نکالا ہے حالانکہ صرف یہی ایک سورۃ ہماری زندگی کے دھاروں کا رخ مثبت سمت کی طرف موڑ سکتی ہے۔
اس وقت پاکستانی قوم ایک بیمار قوم ہے۔ گزشتہ 68 برسوں میں اس کی عیادت کے لئے جو بھی آیا، اس نے اس کے گلے لگ کر رونا شروع کردیا جس کے نتیجے میں ہر بار اس قوم کی کوئی خصوصیت عیادت کرنے والے کے ہاتھوں ہی میں دم توڑ گئی۔ اب گزشتہ کئی برسوں سے ہم اس کے سرہانے سورۃ یٰسین پڑھنے میں مشغول ہیں لیکن یہ قوم موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہونے کے باوجود تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی زندگی کا ثبوت فراہم کردیتی ہے جس سے ہمار ےمسیحائوں کو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ کلام اقبال اسی مایوسی کے خلاف اعلان جہا د ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *