عرب بہاراں کا انجام

(سجاد میر )sajjad mir

محمد اظہار الحق کی کلیات ہی کہہ لیجئے، شائع ہوگئی ہے۔ اور انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ ایک کاپی عنایت کی ہے۔ اس بے مثال شاعر اور اس کی شاعری پرتو پھر کبھی بات ہوگی، اس وقت یونہی، ان کا ایک شعر ذہن میں اٹک سا گیا ہے۔
ابھی سے کیوں طنابیں بحروبر کی کھنچ گئی ہیں
ابھی تو واقعہ میں نے سنایا ہی نہیں ہے
یقین کیجئے، جونہی میں عالم اسلام کی موجودہ صورت حال پر غور کرتا ہوں اورطرح طرح کے واقعات ذہن کی لوح پر ابھرنے لگتے ہیں، تو مجھے اتنا معلوم ہے کہ کائنات کی نبضیں رکتی ہیں یا نہیں، طنابیں بحروبر کی کھنچتی ہیں یا نہیں، مگر میرے ذہن کی رگیں اور میرے اعصاب تن جاتے ہیں۔ کہانی کہاں سے شروع کروں اور کہاں جا کر رکوں۔ اپنا ہی رونا کم نہیں ہے۔ اس کی بھی کئی پرتیں ہیں مگر پورے کے پورے عالم اسلام کا حال برا ہے۔ کبھی بنگلہ دیش، کبھی برما اور سب سے زیادہ مشرق وسطیٰ۔ ہم جسے عرب بہاراں کہتے اور سمجھتے رہے ہیں، وہ تو ایک ایسا خزاں رسیدہ موسم نکلا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ابھی کل تک مصر کا رونا تھا جو ابھی کم نہیں ہوا کہ شام کے در بجنے لگے ہیں۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ امریکہ کسی وقت بھی اس پر حملہ کرنے والا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ا مریکہ کی ایک بڑی رائے عامہ اس بات پر اوباما کی حکومت کو اکسا رہی ہے۔ میں تو حیران رہ گیا ہوں ان کے ”اہل دانش“ کی تحریر ہی پڑھ کر۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ اوباما کو چاہئے کہ شام پر اس کا ہدف بشار الاسد اور آل اسد کا ایک ایک فرد ہو۔ جو کوئی بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہو کہ وہ بشار الاسد کا جانشین ہے، اسے قتل کر دینا چاہئے تاکہ نہ بانس رہے نہ بجے بانسری۔ لگتا ہے کہ وہ قرون وسطیٰ کے دور سیاہ میں جی رہے ہیں جب خاندانوں کے خاندان اس لئے تہ تیغ کر دیئے جاتے تھے کہ مبادا کوئی بچ جانے والا تخت کی وراثت کا دعویٰ نہ کر دے۔ میں تو یہ مضمون پڑھ کر لرز کر رہ گیا ہوں۔ میری بشار الاسد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اس نے اپنے عوام پر جو ظلم کئے ہیں، اس پر وہ کسی ہمدردی کا مستحق نہیں۔ میری ہمدردی وہاں کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں جو اس وقت ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں، مگر کیا خیال ہے امریکہ ان کی محبت میں آرہا ہے۔
وہ تو ایک عرصے سے پر تولتا رہا۔ فوجیں اتارنے سے وہ خائف ہے۔ عراق اور افغانستان کا تجربہ کامیاب نہیں رہا۔ لیبیا میں اس نے یورپ کو استعمال کیا۔ فرانس اور برطانیہ کو آگے کیا۔ اب امریکی عوام دنیا بھر کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے کے قائل نہیں رہے۔ انہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ امریکی معیشت اس بوجھ تلے بیٹھی جا رہی ہے۔ مصر میں البتہ انہوں نے ایک دوسری چال چلی ہے۔ آج ہی میں طارق رمضان کا ایک مضمون دیکھ رہا تھا۔ یہ حسن البناءشہید کے نواسے ہیں۔ان کے والد سعید محمد رمضان کو پاکستان میں پناہ لینا پڑی تھی۔ وہ پاکستان کا مقدمہ لے کر دنیا بھر میں جاتے بھی رہے ہیں حتیٰ کہ اردن نے انہیں سوئٹزر لینڈ میں اپنا سفیر مقرر کر دیا ۔ طارق رمضان انہی کے صاحبزادے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، مصر میں جب سے انقلاب آیا ہے، گزشتہ دو سال سے، لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم مصر کیوں نہیں جاتے۔ آخر تمہارا وطن ہے۔ تمہارے وہاں داخلے پر اٹھارہ سال سے پابندی تھی۔ ان کا جواب ہے کہ میں کہتا تھا کہ مصر میں تو انقلاب آیا ہی نہیں۔ اب بھی وہاں فوج کا مکمل کنٹرول ہے۔ فوج نے تو صرف اپنی پرانی قیادت سے گلوخلاصی حاصل کی ہے۔ مرسی وہاں برائے نام صدر تھا، سب اختیار فوج کے پاس تھا۔ جنرل سیسی نے عوامی ہنگاموں سے پہلے ہی اپنے صدر کو بتا دیا تھا کہ آپ کو جانا پڑے گا۔ یہ ہنگامے تو بس جواز پیدا کرنے کے لئے کرائے گئے کہ کوئی کارروائی کی جا سکے۔ یہ جنرل سیسی تو مصری انٹیلی جنس کا آدمی ہے جس نے صحرائے سینا میں اسرائیل اور امریکہ سے رابطے کا کام کیا تھا۔ اور ایک بات اچنبھے کی انہوں نے یہ بتائی کہ اسی دن لامودے اور دوسرے کسی اخبار میں یہ چھپ گیا تھا کہ صدر صرفچھ ماہ یا ایک سال کے لئے ہونگے۔ امریکی حکومت نے اسے فوجی بغاوت قرار نہیں دیا، وگرنہ اپنے قانون کے تحت وہ مصری فوج کی کوئی مالی مدد نہیں کر سکتی تھی۔ شام پر بھی امریکہ حملے کا جواز ڈھونڈ رہا ہے، سلامتی کونسل کے بغیر کہ وہاں تو چین اور روس ویٹو کر دیں گا۔ وہ جواز کیا ہوگا؟امریکہ کہتا ہے قانون کے مطابق ہوگا۔
اصل میں سارا رونا اس عرب بہاراں کا ہے۔ تیونس اور مراکش کی حکومتیں جیسی اسلامی ہیں، وہ سب کو معلوم ہے۔ یہاں مصر میں جامعہ الازہر والے، مرسی کے مخالف جا رہے ہیں۔ سلفیوں کی پارٹی النور جو ریفرنڈم میں ساتھ تھی ،اب وہ مخالفت پر تلی ہوئی ہے۔ سعودی عرب ، قطر، متحدہ عرب امارات مرسی کے خلاف بغاوت کی حمایت کر رہے ہیں اور12ارب ڈالر امداد بھی بھیج چکے ہیں۔ قطر کا امداد میں حصہ نہیں، کیونکہ اس کے اپنے مالی مفادات خطرے میں ہیں۔ یہ تینوں ممالک شام میں بھی باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ کوئی بات سمجھ نہیں آتی۔ خیر، ایسا بھی نہیں، سب سمجھ میں آتا ہے، مگر نوک قلم پر لانے سے قلم تھراتاہے۔
طارق رمضان تو یہ کہتے ہیں کہ ”انقلاب “ ابھی جاری ہے۔ مصری فوج اس ”انقلاب “ کی پشت پناہ ہے۔ مصر کے حوالے سے بھی ایک اور جیالے کا مضمون پڑھا۔ وہ تو ایسا نقشہ کھینچتا ہے گویا مرسی کا دور حسنی مبارک کے دور سے خطرناک ہے۔ الازہر کے ایک پاکستانی استاد سے بات ہوئی۔ نہایت معقول شخص، مسلک کے لحاظ سے سلفیوں سے بالکل الٹ ۔مگر وہ بھی الازہر کی فکر کے موید ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ عالم اسلام میں کیا ہو رہا ہے اوربچارا مسلمان کہاں جائے۔
حیرانی تو اس بات پر ہے کہ امریکی مصر کے معاملے میں اب تک کھل کر بات نہیں کر رہے۔ دل کی دل میں رکھ رہے ہیں۔ اوپر سے اتنا تو کہہ رہے ہیں کہ مصری فوج بھی تحمل کا ثبوت دے۔ اس سے زیادہ نہیں، مگر مسلمان بھائی تلے ہوئے ہیں کہ مصر کی جمہوری حکومت کے مقابلے میں فوجی حکمرانوں کا ساتھ دیا جائے۔ وہ چاہے، ہجوم پر ٹینک چڑھا دیں ان کی مدد کی جائے۔
طارق رمضان توصرف اتنا کہتے ہیں کہ مصر میں ”انقلاب“ جاری ہے، جبکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ بیسویں صدی کی ابتداءسے جنگ بلقان اور دوسری جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ کو تتر بتر کرنے کی جو مغربی سازش شروع ہوئی تھی، اس کی معرکہ آرائیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ یہ نہیں کہ یہ سب اسی کے اثرات ہیں جن سے یہ نتائج نکل رہے ہیں، بلکہ یہ کہ مغرب ابھی اپنے اس مشن کی تکمیل پر جتا ہوا ہے جو اس نے ایک صدی پہلے شروع کیا تھا۔ اسرائیل کا قیام اسی کا حصہ تھا۔ اب اس کی حفاظت بھی اس مشن سے منسلک ہے۔ جو باہمی سازشوں کا حصہ ہم ایک صدی پہلے بنے تھے، وہ آج بھی جاری ہیں۔ میں تو چکرا گیا ہوں، کون حق پر ہے اور کون غلط ہے۔ شاید ہم سب ہی غلط ہیں، ہم میں کوئی بھی حق پر نہیں وگرنہ خدا ضرور ہماری مدد کرتا۔ تو کیا حق دنیا سے معدوم ہوگیا ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اسے پہچان نہ پا رہے ہوں، مگر اسے زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا۔ اپنے اعصاب کو سنبھالئے، ذہن کو یک سو کیجئے، یہ شاید ہمارا ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ امتحان سخت سہی، مگر مایوسی گناہ ہے۔ ہم سے شاید ماضی میں بہت کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ وہ تو ہم سے اب بھی ہوتی جا رہی ہیں۔ تو کیا یہ ناختم ہونے والا سلسلہ ہے۔
ایسا ہو نہیں سکتا۔ خدا کی رحمت ضرور جوش مارے گی اور ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو جائے گا۔ ملت اسلامیہ کو اس تباہی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں۔
معاف کرنا، ہمارے بس میں تو ہے نہیں۔ ہو سکتا ہے خدا ہماری کوتاہیاں معاف کرکے ہمیں یک سو اور یک جان کر دے۔ خدا کرے ایسا ہو!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *