بالشتئے

محمد طاہرM tahir

تشدد کا کوئی مذہب نہیں۔ مگر بالشتئے دانشور سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے۔ جو سیکولر اقدار کی قے میں اپنے نظام انہضام کا اندازا ہی نہیں رکھتے۔دہشت گردی ایک سماجی مسئلہ ہے مذہبی نہیں۔ سیکولر تشخص کی جماعت ایم کیوایم کیا ہے؟ اور طالبان کے خلاف آواز اٹھانے والے خموشیاں اوڑھے کہاں سو رہے ہیں؟وہ دہشت گردی جو طالبان کے ہاتھوں ہو رہی ہے اس کے خلاف آواز اُٹھا نا شاید مذہبی فریضہ بھی ہو۔مگر یہ کیسا تعصب ہے جو ایم کیوایم کی دہشت گردیوں کے خلاف آواز اُٹھانے سے باز رکھتا ہے؟ مدارس اپنی ادارتی حیثیت و شناخت میں کہیں پر بھی دہشت گردی میں ملوث نہیں مگر اُنہیں اس لئے موردِ الزام ٹہر ایا جاتا ہے کیونکہ مبینہ ’’دہشت گردوں‘‘ کے ساتھ اُن کی یک نوعی مذہبی مناسبت بھی قابلِ گوارا نہیں۔حالانکہ اِسی اُصول پر وہ دہشت گرد جو مدارس کا پسِ منظر نہیں رکھتے ، ایک نئی منطق سے متعارف کراتے ہیں۔کیا فوجی اداروں سے افراد دہشت گردوں سے جا نہیں ملتے۔ پھر کیا اس منطق پر اُن فوجی اداروں کے خلاف آپریشن کیا جانا چاہئے۔ دہشت گردوں میں ایک غالب قوت ایسے عناصر پر مشتمل ہیں جن کا تعلیمی پسِ منظر مغرب کی اعلیٰ درسگاہوں کا ہے۔ کیا اُن دہشت گردوں کے اعمالِ قبیحہ کی ذمہ داری مغربی درسگاہوں پر عائد ہوتی ہے؟پاکستان میں دہشت گردی طالبان سے شروع ہوئی اور نہ اُن پر ختم ہوتی ہے۔اس کے اسباب ومحرکات کا درست اندازا لگائے بغیر اس کے حل تک پہنچنا ناممکن ہے۔
جس سماج میں ظلم معاشرے کی نہاد وبنیاد میں بیٹھ جائے وہاں ظالم ومظلوم کی شناخت آسان نہیں رہتی۔ اُس کا ظالم، ظالم اور اُس کا مظلوم، مظلوم نظر نہیںآتا۔ اب دیکھئے! مسیحی بھائیوں پر کیسا ظلم ہوا؟ ایک بار پھر لاہور میں عیسائیوں کی سب سے بڑی آبادی یوحنا آباد کو نشانا بنایاگیا۔جہاں پر دس لاکھ کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں۔مگر مظلوم مسیحی برادری کا ردِعمل کیا تھا؟ وہ لاہور میں کس طرح بروئے کار آئے؟ سڑکوں کو کیسے بند کر دیا گیا؟ کھلے عام تشد د کے کیسے نظارے دیکھے گئے؟دو مشتبہ افراد کو کچھ مشتعل افراد نے کس طرح پولیس کے نرغے سے نکال کر تشدد کا نشانا بنایا اور پھر اُنہیں نذرِ آتش کر دیا ؟ ہم نے ایسا ہی تو معا شرہ بنایا ہے۔ ہماری تاریخ اور اجتماعی ہیئتِ مقتدرہ کے اجزائے ترکیبی نے سماج کی نفسیات میں ردِعمل کی یہی تاریکیاں بو دی ہیں۔اب کسی کی کوئی بھی شناخت ہو، کوئی مذہبی ہو کہ سیکولر، معاشرے میں جب بروئے کار آتا ہے تو وحشت و دہشت اور بہیمت و چنگیزیت کے ایسے ہی کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔مگربالشتئے دانشوروں نے اپنے فکر ونظر کی طوطا مینا کہانی کسی اور ہی سیاہی سے لکھ رکھی ہے۔
نائن زیرو پر رینجرز کے کامیاب دھاوے پر ان دانشوروں کا ردِعمل اسی تعصب سے گُندھا ہوا ہے۔چند دنوں میں کون کون سے حقائق ہیں جو منظرِعام پر نہیں آگئے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اِن حقائق میں سے ایسے کون سے حقائق ہیں جس کا علم پہلے سے لوگوں کو نہیں تھا؟بیشتر حقائق ان بالشتئے دانشوروں کے علم میں پہلے سے تھے۔ لاہور کے چند تجزیہ کار جب بیش قیمت گھڑیوں کے تحفے’’ لندن‘‘ سے وصول کر رہے تھے تو بھی وہ جانتے تھے کہ یہ ’’تحفے‘‘ بھتے کی کن پرچیوں کی بدولت خریدے گئے۔ اور اس کا رنگ کراچی کے کن بے گناہوں کے خون کا ہے۔ ٹیلی ویژن کے جگمگاتے پردوں پر اپنے گھڑیوں کی نمائش کرتے یہ تجزیہ کار کراچی میں متوسط درجے کے لوگوں کی نمائندگی کا چرچا کرتے نہ تھکتے تھے اور ایسے ایسے نکات اخذ کرتے کہ خود ’’تحفے‘‘ بھیجنے والے بھی اپنے فردِعمل کی ان خوبیوں سے پہلی بار آگاہ ہوتے ۔یہ ذہنوں کی لوٹ اور ایک کھلا جھوٹ ہے جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے اپنے دفاع کے حق میں گھڑ رکھا ہے کہ اُنہیں اور اُن کے ابلاغی مراکز کو کراچی میں خطرات لاحق ہیں جس کے باعث وہ حقائق بیان کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ کم وبیش یہی خطرات طالبان سے بھی ذرائع ابلاغ کو درپیش ہیں مگر طالبان کے خلاف یہ زبانیں حق گوئی اور بیباکی میں آئینِ جواں مرداں پر عمل پیرا رہتی ہیں۔ یہ بیباک قلم طالبان کے خلاف جنوں کی حکایتِ خونچکاں لکھتے ہوئے سربلند رہتے ہیں۔مگر ایم کیوایم کے حوالے سے زبان و قلم کے یہ محافظ تجزیہ کار ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘ کی آبرو باختہ تصویر بن جاتے ہیں۔ صحافت کے طالب علموں کے لئے یہ ایک دلچسپ موضوع ہے کہ سامری کے ان بچھڑوں میں جرأت و بہادری کی جان کب کب اور کیسے کیسے پڑتی ہیں؟
پورے ملک میں جاری دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کو اُٹھائیے اور پھر اس کا موازنہ کراچی میں جاری تین دہائیوں پر محیط دہشت گردی سے کیجئے۔ہر سنگین سے سنگین واقعہ کراچی میں جاری دہشت گردی کی بہیمت سے کم نظر آئیگا۔ مگر جب اُس پر قومی ردِعمل کا موازنہ کیا جائے تو صورتِ حال بالکل برعکس دکھائی دیگی۔ جس قوم میں ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم نہ کہا جاسکے وہ دوسروں کی نظر میں سرے سے قوم کہلائے جانے کے بھی قابل نہیں رہتی۔ہم ایک ایسی ہی رسوائی سے اجتماعی طور پر چپکے ہوئے ہیں۔ریاستی ادارے بآلاخراپنی اپنی ضرورتوں اور بڑھتی لاچاریوں کے باعث ہی سہی مگر ’’بیدار‘‘ہوئے ہیں۔ ابھی تک اُنہیں اپنے درست’’ سجدۂ سہو‘‘کا پوری طرح اندازا نہیں ہوا مگر کم ازکم ایم کیوایم کے معاملے میں وہ قبلہ رو ہونے کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں تو سیاسی جماعتیں مصلحت کی چادر اوڑھے اور مفادات کی کھیر کا خواب دیکھے سو رہی ہیں۔ کراچی میں سیاسی جماعتیں اپنا سیاسی کر دار ادا کرنے کے لئے کمر بستہ نہیں۔ پیپلز پارٹی وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے میں مصروف ہے۔ مسلم لیگ نون اپنی سیاسی طاقت کے مرکز پر قناعت کرتی ہے۔ اور اس سے آگے کچھ سوچنے پر بھی تیار نہیں۔ تحریکِ انصاف سیاسی سفر کو انگلی والی سرکار کی ایما پر آگے بڑھا نا چاہتی ہے۔ کیا ان لچھنوں کی حامل سیاسی جماعتوں کوحق ہے کہ وہ جمہوریت کا راگ الاپ کر جمہور کی ذہنی اذیت کا مزید سامان کر یں۔
ذرا فرض کر یں ! جو کچھ نائن زیرو سے برآمد ہوا وہ اگر کسی مدرسے سے برآمد ہوتا تو پورے ملک میں کیسی ہاہا کار مچتی؟ کیا اکتیس خطرناک دہشت گرد لال مسجد آپریشن میں بھی اس طرح میسرآئے تھے؟ کیا ممنوعہ اسلحہ کی ایسی کھیپ کسی اور مدرسے سے کبھی برآمد ہوئی؟کیا سو سے زائد خفیہ کیمروں سے کسی اور سیاسی جگہہ کی نظر داری ہوتی ہے؟کیا ایسے دہشت گرد کہیں اور سے ملے ہیں جو ڈھائی ڈھائی سو قتل کا ریکارڈ رکھتے ہوں؟ پھر قومی ردِعمل ایسا کیوں ہے؟ پورے ملک کے دانشوروں کو لقوہ کیوں ہو گیا ہے؟ وہ بیدار کیوں نہیں ہورہے؟ اُنہیں شرم کیوں نہیں آتی؟کیا ان کا سیکولر تعصب، فرقہ وارانہ تعصب سے زیادہ باسی اور بدبودار ہے؟کیا ملک کو اس رویئے سے زیادہ خطرہ نہیں؟غور کے لئے یہ ایک سوال ہے مگر بالشتئے دانشور گور تک اس کا جواب نہ دیں گے۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *