سنجے دت کو جیل میں 35 روپے روزانہ مزدوری ملتی تھی

— فائل فوٹو

بولی وڈ اسٹار سنجے دت 42 ماہ قید کی سزا کاٹ کر گزشتہ سال فروری کے آخر میں جیل سے باہر آئے تاہم اب بھی وہ اس تجربے کو فراموش نہیں کرسکے ہیں۔اور وہ اب بھی اپنی زندگی کے مشکل مرحلے پر بات کرتے رہتے ہیں۔ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی بولی وڈ میں کم بیک فلم بھومی میں ان کے ساتھ کام کرنے والے اداکار شرد کیلکار کے مطابق سنجے دت اپنی زندگی کے مشکل زمانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے گھبراتے نہیں۔انہوں نے بتایا ' سنجے دت کچھ بھی نہیں چھپاتے، انہیں متعدد مشکلات کا سامنا ہوا مگر وہ ماضی کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں جس کے دوران وہ ماضی کو یاد نہیں رکھنا چاہتے'۔جب شرد نے سنجے دت سے جیل کے اندر گزارے دنوں کے حوالے سے پوچھا تو سنجو بابا جواب میں بتاتے ' یار اب اتنا دیکھ لیا ہے کہ فرق نہیں پڑتا'۔ایک دفعہ سنجے دت سے پوچھا گیا کہ جیل کے اندر انہیں چکن ملتا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا ' ہاں سال میں دو بار، بس اتنا ہی ملتا تھا اور مجھے 35 روپے روزانہ مزدوری کے ملتے تھے، جس میں سے بچت کرکے میں زیادہ چکن لے سکتا تھا'۔گزشتہ سال ایک ایونٹ کے دوران سنجے دت نے کہا تھا ' ایک بار جب آپ امید چھوڑ دیتے ہیں تو زندگی آسان اور آپ بچ نکلتے ہیں۔ جیل میں کچھ نہیں ہوتا ماسوائے امید کے، مگر جب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے کوئی امید نہیں چاہئے، تو سلاخوں کے پیچھے کا سفر آسان اور بہت تیزی سے کٹ گیا'۔سنجے دت مزید بتاتے ہیں ' میں نے جیل میں رامائن، بھگوت گیتا، بائبل، قرآن شریف اور گورو گرنتھ صاحب پڑھی، اب میں بیٹھ کر کسی بھی مولانا یا پنڈٹ سے بات کرسکتا ہوں اور دلائل دے سکتا ہوں۔ میرے گھر میں چھوٹا سا مندر ہے، مگر خدا تو آپ کے دل میں ہوتا ہے'۔انہوں نے کہا کہ جیل جاتے وقت ان کا وزن 110 کلو تھا تو انہوں نے وہاں اضافی وزن کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ' میں نے احاطے میں ٹریننگ شروع کی، پانی کی بھاری بوتلیں اٹھائیں۔ اپنے ناخنوں کو دیوار پر مارنے کی عادت بنائی جس سے میری ہتھیلیاں زخمی اور سوج گئیں مگر میں روزانہ یہ کرتا رہا، کیونکہ میں درد سے گزرنا چاہتا تھا'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *