دنیائے اسلام کے مسائل

Ayaz Amirلیجئے اب شام کی باری ہے۔ ’انسان دوستی ‘ کے جذبات سے مغلوب مغربی طاقتیں فوجی مداخلت کے لیے پر تول رہی ہیں۔ جیسا کہ اس قہر میں کچھ کمی رہ گئی ہو، اسلامی ممالک بھی شام کے مسلے پر دودھڑوں میں بٹ گئے ہیں... ایران بشار الااسد کی حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی، قطر اور سعودی عرب اس کے خلاف ہیں۔یہ حال ہے ان کے نفاق کا ،لیکن دنیا بھرکے مسلمان غیر ملکی سازشوں کو اپنے مسائل کی وجہ گردانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری مشکلات کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل خود حل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ غیروں کی سازشیں بھی ہوں، لیکن مسلمانوں پر تاک کربرق صرف اس لیے گرتی ہے کہ ہماری نااہلی اسے ایسے کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
بشار الااسد سعودی شاہی خاندان، امیرِ قطر یا ترکی کے لیے کس خطرے کا باعث ہیں؟اس کے باوجود وہ اُس کو اقتدار سے ہٹانے پر تلے ہوئے ہیں، چاہے اس مقصد کے لیے اُنہیں مغربی طاقتوں کے مہرے کیوں نہ بننا پڑے۔جب اسلامی ممالک شام کی سرزمین پر ناقابلِ فہم اورغیر واضح مقاصد کے لیے برسرِ پیکار ہوں تواسرائیل کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟کہا گیا ہے کہ شام کے آمر حکمران نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور یہ بات ناقابلِ برداشت ہے۔ عراق کے صدام حسین نے بھی ایران کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے مگر اس وقت تو امریکہ کی جبین شکن آلود نہ ہوئی، بلکہ (سی آئی اے کی افشاہونے والی دستاویزات کے مطابق)اس نے خلا سے لی گئی تصاویر سے ایرانی تنصیبات کی معلومات بھی عراق کو فراہم کیں۔ اس کی وجہ سے ایران اس جنگ میں فتح حاصل نہ کر سکا۔ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی اور ان کے استعمال پر ظاہر کیا جانے والا اشتعال عراق جنگ کی یاد دلاتا ہے جب یہ کہا گیا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں ۔ اگرچہ کوئی ثبوت نہیں تھا کہ صدام حسین کے پاس ایسے غیر روایتی ہتھیار موجود ہیں لیکن جارج بش اور اس کے ہم خیال جنگ کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اُنہیں جو مرضی دلیل دی جاتی، وہ سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اب ان کا ہدف شام ہے اور کم وبیش ویسی ہی منطق گردش میں ہے۔
دوسری طرف قاہرہ میں کھیلی جانے والی آگ وخون کی ہولی بھی جائز ہے کیونکہ امریکہ اور سعودی عرب اخوان المسلمین کی واپسی نہیں چاہتے۔ تاہم شام کے بارے میں انہیں کوئی ابہام نہیں ہے اور نہ ہی کسی مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔ اس کے خلاف مہیب افواج کی پیش قدمی کا مقصد دکھی انسانیت کی مدد نہیں بلکہ حکومت کا تختہ الٹنا ہے... مسٹر اسد کو منظر سے ہٹانا ہے۔ اس سے پہلے معمر قذافی نے مغربی طاقتوں کا غصہ ٹھنڈ اکرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے کیونکہ وہ لیبیا کے حکمران سے نفرت کرتے تھے اور اُسے اقتدار سے ہٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ اگر چہ قذافی کو اندورنی طور پر بھی شورش پسندوں کا سامنا تھا لیکن یہ برطانیہ اور فرانس کے فضائی حملے تھے جنھوں نے اس کی سرکاری فوج کو مفلوج کرکے اس کے مخالفین کو فائدہ پہنچایا۔
شام میں بھی تاریخ خود کو دہرانے جارہی ہے ...واحد فرق روس کا رویہ ہے ،کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ روس لیبیا کے واقعے سے سبق سیکھ چکا ہے، چناچہ وہ اسد کی پشت پناہی کررہا ہے۔ ایک اور بات، مسٹر پیوٹن روس کو عالمی معاملات میں ایک مرتبہ پھر سامنے لانا چاہتے ہیں۔ پیوٹن کا تعلق ’کے بی جی‘ سے تھااوراُنھوں نے سوویت یونین کے عروج کے دور کو قریب سے دیکھا ہوا ہے ...وہ دور جب لفظ ’’سوویت یونین ‘‘ عالمی معاملات میں وزن رکھتا تھا۔ پھر اس کے بعد اُنھوں نے اس عظیم ملک کا شیرازہ بکھرتے ہوئے بھی دیکھا ... کون جانتاہے کہ پیوٹن کی یادوں کے نہاں خانے میں اب کیسی تصویر ابھر رہی ہے؟
لیکن دنیائے اسلام کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟بگڑے ہوئے تمام معاملات کا حل یقیناًدشوار عمل ہے ، لیکن اس کے لاتعداد بادشاہ، امیر اور دیگر حکمران قدرے بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے۔ اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اسد اچھا ہے یا برا، سوال یہ ہے کہ امریکہ اور اس کا حواری، برطانیہ، جن کا دامن عراق کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے لیے بولے گئے جھوٹ سے داغ دار ہے، کس منہ سے عالمی اخلاقیات کے ٹھیکے دار بنے پھرتے ہیں؟اس ضمن میں مغربی عوام کی رائے بھی منقسم ہے۔ اس بات پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ٹین ڈاؤننگ سڑیٹ لندن میں عوامی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لیے گئے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شام میں فوجی مداخلت کے خلاف ہے۔ لیکن جب اسلامی دنیا میں سکوتِ مرگ طاری ہے تو ہم اغیار کو اپنے مسائل پر موردِ الزام کیسے ٹھہرا سکتے ہیں؟
ایسا لگتا ہے کہ ہم وقت کے جال میں الجھ کر آگے بڑھنے سے قاصر ہیں۔ یورپ نے اتنی مہیب جنگیں لڑی ہیں کہ ہم ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے، لیکن اب وہ دور ختم ہو چکا ہے۔ فرانس اور جرمنی صدیوں تک ایک دوسرے کے جانی دشمن رہے ہیں لیکن اب ان میں قربت پائی جاتی ہے۔ دو عالمی جنگوں نے یورپ کو ماضی کے گرداب سے نکال کر مستقبل کی راہ پر گامزن کر دیا۔ اب تو سرد جنگ کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ موجودہ عالمی صورتِ حال کو بھی ایک نئی سرد جنگ سے تعبیر کیا جائے لیکن بہرحال اس کی شدت اتنی زیادہ نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوویت یونین اب بہرحال اس پائے کی عالمی طاقت نہیں ہے جیسی کہ وہ ستر کی دھائی میں تھی۔
اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات اتنے سنگین نوعیت کے نہیں ہیں جتنے جرمنی اور فرانس کے درمیان تھے، تو پھر ہم اپنے معاملات کو خود نمٹانے میں اتنے بے بس کیوں ہیں؟اس کی دو وجوھات سمجھ میں آتی ہیں: (1) اسلامی دنیا میں جمہوریت کا جڑیں مضبوط نہ کرپانا، (2) سرزمینِ حجاز کا عدم تحفظ کا شکار ہونا۔اسلامی دنیا میں سیکولرازم ناکام ہو چکا ہے، یا ابھی ٹھیک طریقے سے سمجھا نہیں گیا ہے۔ اسلامی دنیا کے اکثر ممالک میں جمہوریت کو قابلِ قبول طرزِ حکومت نہیں سمجھا جاتا ہے۔تنزانیہ، الجیریا، مصر، شام اورعراق بڑی حد لبرل ممالک ہیں اور ان کے ہاں خواتین کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے، لیکن یہ ممالک شورش پسندی اور افراتفری کا شکار ہونے کی وجہ سے سماجی طور پر بکھررہے ہیں۔ مصر کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ عرب دنیا میں بیداری کی لہر کے نتیجے میں بپا ہونے والی تبدیلی ابھی جمہوری قدروں کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ سعودی عرب کا شاہی خاندان ایران سے خائف ہے کیونکہ ایران شیعہ ملک ہے۔ اسی وجہ سے وہ حزب اﷲ کی مخالفت کرتا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اس کی سرزمین پر بھی مخالف عصبیت سر نہ اٹھالے، اس لیے یہ دیگر اسلامی ممالک میں چلنے والے تحریکوں، جو اس کی ہم مسلک ہوں، کی معاونت کرتا ہے۔
اسلامی دنیا کی یہ داخلی کمزور ی ہے جس کی وجہ سے یہ عالمی معاملات پر فعال کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں تو عوامی رائے عراق جنگ کے خلاف ہوگئی اور اُنھوں نے بھر پور احتجاج بھی کیا لیکن دنیائے عرب اور دیگر اسلامی دنیا میں ایک پتا بھی نہ کھڑکا۔ سب لوگ ٹی وی چینل دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں غصے سے کڑھتے رہے ، لیکن یہ غصہ قومی مزاج کو نہ بدل سکا ۔ پیدا ہونے والے اس فکری خلا کو انتہا پسندی کی قوتوں ، جیسا کہ القاعدہ ، نے پر کیا ہے۔جن مذہبی معرکوں کا ہم شکار ہیں، یورپ کئی صدیاں پہلے ان سے گزر کر سبق سیکھ چکا ہے۔ جب میری عمرکے لوگ جوان ہورہے تھے ہم نے اسلامی دنیا میں فرقہ واریت کے بارے میں نہیں سنا تھا۔ شیعہ اور سنی موجود تھے لیکن وہ اپنی اپنی رسومات سرانجام دیتے تھے۔ ان کے درمیان جنگ نہیں ہوتی تھی۔ اب تومعاملات اس حد تک سنگین ہو چکے ہیں ہماری عالمی سیاست میں بھی ان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ شام کے معاملے پر سنی ممالک ایک طرف ہیں تو شیعہ ممالک دوسری طرف۔
جب پاکستان وجود میں آیا تو یہ ایک معتدل مزاج ملک تھا۔ اس سے کچھ سیاسی غلطیاں ہوئیں... قومی نظریے کی تلاش، اس کے ردِ عمل اٹھنے والی تحریکوں پر سختی، جیسا کہ مشرقی پاکستان اور بلوچستان... لیکن یہاں مذہبی شدت پسندی ایسی نہ تھی کہ فروعی اختلافات پر ایک دوسرے کی نسل کشی کی جائے۔آج پاکستان میں نظر آنے والی فرقہ واریت بڑے پیمانے پر عالمِ اسلام کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ ہمارے ساتھ کیا خرابی ہے؟ ہم اپنے مقدر کا خودفیصلہ کیوں نہیں کر سکتے؟ہم ابھی بھی یقین کرتے ہیں کہ ہم دنیا کی بہترین قوم ہیں، لیکن اس دعوے کا عملی اظہار کرنے کے لیے ہمارے دامن میں کچھ نہیں ہے۔ ہم اپنی مذہبی رسومات پوری عقیدت سے انجام دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان سے ہماری نجات ہو جائے گی۔ ہو سکتا ہے کہ دوسری دنیا میں نجات مل جائے ،لیکن اس دنیا کے معاملات تو غیر وں کے ہاتھ ہیں۔ یہاں ہماری حیثیت دوسرے درجے کے شہریوں سے زیادہ نہیں ہے۔
یہ تمام صورتِ حال بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ہم دنیا کے ساتھ قدم ملاکر کیوں نہیں چل سکتے ہیں؟ہم کس چیز نے ماضی کے قیدخانے میں جکڑرکھا ہے؟جاپان نے اپنے بقا کی جنگ لڑتے ہوئے جدیدطرزِ فکر کو اپنالیا، روس میں شورش کے دور میں لینن جیسے رہنماؤں نے جنم لیا، چین میں چیئرمین ماؤ تھا... لیکن آج اس فتنہ پروردور میں ہمارے ہاں کیا ہے؟ مغربی دنیا میں سائنسدان اور مفکرین نے آنکھ کھولی لیکن ہمارے ہاں القاعدہ، بن لادن ، حافظ سعید و ہم نوا ہیں۔ یقیناًدنیائے اسلام میں کے ساتھ کوئی سنگین مسلہ ضرور ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *