مجھے پراسرار رہنا پسند ہے، معروف اداکارہ مہوش حیات سے انٹرویو

بشکریہ :عمیر علوی

Photos: Kashif Rashid

مہوش حیات کچھ سالوں سے کامیابی کی لہروں پر سفر کر رہی ہیں۔ وہ ملک کی مطلوبہ اداکاراوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے متاثر کن ذخیرے میں اضافہ کرتے ہوئے،وہ اب گلوکاری میں بھی کامیاب ہیں۔قدرتی طور پر ، جب کوئی اداکار یہ مقام حاصل کر لے،تو اپنے گرد پراسرار یت کی ایک چمک پیدا کر لیتا ہے۔ اس پر اسرایت کو دور کرنے کے لیے آمنے سامنے انٹرویو کرنا ضروری تھا تو ہم ان سے ملے۔

جہاں ہم ملے اس کیفے میں بہت رش تھا، بچے ان کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے جمع تھے؛اور باقی سب کا رخ بھی ہماری طرف تھا جیسے وہ مہوش کےلیے آئے ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ :"سب کی توجہ پانا بہت اچھا لگتا ہے۔" آج کل سب انہیں ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں ـــــ فلموں میں، ٹی وی پر، گاتے ہوئے بڑے ٹی-وی شو پر­­­­­­­­­­­­­ـــــــ مہوش کی بہت سی خفیہ زندگیاں ہیں۔ وہ اداکاراہ ہیں،ٹی-وی ہوسٹ اور ٹی-وی اشتہارات میں بھی نظر آتی ہیں۔ وہ اپنی فلم "پنجاب نہیں جاؤں گی" کی ریلیز کی تیاری میں مصروف ہیں جس میں ان کا پہلا مرکزی کردار ہے۔

انہوں نے کہا :"مجھے پر اسرار رہنا پسند ہے کیوں کہ مجھے لوگوں کو سرپرائیز دینا پسند ہے۔" اہک اداکار کا سنگر بن جانا یقین دلاتا ہے کہ کوئی بھی مکمل طور پر اس جیسی زندگی گزار سکتا ہے۔ "کوک سٹوڈیو یقینی طور پر پر عزم لوگوں کے لیےپلیٹ فارم ہے لیکن میں نے پہلی بار نہیں گایا۔ " ان کو ڈائیریکٹر نعیم بیگ نے ٹائٹل سونگ "منجلی "کے لیے چنا تھا بعد میں نادیہ یاسر کے مارننگ شو کے تھیم سانگ کے لیے ان کو چنا گیا۔’"مجھے گانے کا بہت شوق تھااور میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے سٹرنگ اور شیراز جیسے قابل لوگوں کے ساتھ کوک سٹوڈیو میں گانے کا موقع ملا۔" تنقید نگارہر جگہ موجود تھے لیکن منفی سے ذیادہ مثبت آراء ملیں۔ میں اپنی کارکردگی سے خوش ہوں۔ میں ابھی یو- ایس کے ٹور سے آئی ہوں وہاں میں نے ہوسٹن، ڈلاس اور نیویارک میں پرفارم کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کبھی ممکن نہ ہوتا اگر میں اپنے تجربہ میں کامیاب نہ ہوتی۔

بہت سے ایکٹر سوشل میڈ یا پراپنی کار کردگی کی بنا پر ٹرینڈ بنے لیکن مہوش اس سے بھی ذیادہ مشہور ہوئیں اور اس سال پاکستان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران ٹویٹر پر ٹرنڈ بنی رہیں۔ کیا یہ لاھور قلندرز اور لاہوری باولرز کی ہار ہے کہ پورے پاکستان میں فلم "ایکٹر ان لو" کا خوبصورت چہرا پورے سٹیڈیم کی بڑی سکرینوں اور ٹی-وی پر چھایا ہوا تھا۔

"مجھے کوئی آئیڈیا نہیں تھا کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران میرا نام ٹویٹر پر ٹرینڈ کیا جا رہا ہے، بلال اشرف اور میں یو -اے -ای میں لاھور قلندرز کے لیے برینڈ امبیسیڈرکے طور پرگئے تھے اور ہماری ٹیم نے کھیلا ،ہم نے فینز کی طرح دعا کی اور حوصلہ افزائی کی ۔ بد قسمتی سے ہماری ٹیم زیادا تر میچ ہاری لیکن سب ٹیمز پاکستانی تھیں، ہم نے خوب مزہ کیا۔ میں پی-ایس-ایل سے پہلے کرکٹ فین نہیں تھی اور اب اگلے سال بھی اس کھیل کا حصہ بننا چاہوں گی۔"

انہوں نے اپنے دکھ کا اظہار کیا کہ اس سال کی چیمپین ٹرافی نہیں دیکھ پائیں جو پاکستان نے انڈ یا کی مخالفت میں جیتی کیوں کہ انہیں انگلینڈ جانے کا ویزہ نہیں ملا تھا۔­­­­ہم نے انڈیا میں کام کرنے پر بھی بات چیت کی جس میں ان کی ساتھی صبا نے انڈ یا اور پاکستان دونوں اطراف میں کامیابی حاصل کی ۔ "انہوں نے کہا اگر صبا جیسا کوئی کردار کوئین ، ہیروین ، جب وی میٹ یا ہندی میڈیم جیسی فلم میں ملا تو میں ضرور کروں گی۔" انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈیڑھ عشقیہ میں کام کرنے کی آفر ھوئی جسے انہوں نے بولڈ سین کی وجہ سے رد کر دیا۔ اگر میں نے کبھی ہندی فلم کی تو میں اپنی ٹرمز اور کنڈیشنز پر کروں گی نہ کہ ان کی کیوں کی میں نے بہت ایمان داری اور خلوص سے پاکستان میں اپنی جگہ بنائی ہے اور میں شو پیس کے طور پر کام نہیں کروں گی۔ میں باعزت طریقے سے کام کروں گی۔" آیٹم نمبر میں کام کرنے کی تنقید پر انہوں نے جواب دیا کہ:" جب میں نے کام کرنا شروع کیا تو انڈسٹری کی حالت کمزورتھی اسی لیے ٹی-وی اداکارایں فلموں میں آسانی سے نہیں جاپاتی تھیں۔ میں نامعلام افرد میں میں بلی کے لیے پہلی چوائس نہیں تھی لیکن مجھ سے جب پوچھا اور نجھے کونسیپٹ اچھا لگا تو میں نے قبول کیا۔" میں بلی کو آیٹم نمبر نہیں کہتی کیوں کہ وہ فلم کا اہم حصہ ہے۔ ڈان نا معلوم افراد کو نہ ڈھنڈ پاتا اگر بلی کا کردار نا ہوتا۔ ہاں گانے کی وجہ سے سینیمہ کا رش بڑھا لیکن کیا صرف یہ ہی میری کامیابی کی وجہ ہے؟

مہوش کے پچھلے کچھ سال بیت زبر دست گزرے انہوں نے جو بھی رول لیا اس میں کامیاب ہویں، چاھے وہ علی خان کا پلے "آپ کی سونیا" ہو یا ان کی فلم "جوانی "ہو جو ندیم بیگ نے ڈائریکٹ کی اور جو پاکستان کی سب سے ذیادہ پیسے کمانے والی فلم ثابت ہوئی ان سب پر انہیں بہت داد ملی اور اوم پوری مرحوم نے بھی مہوش کے کام کی تعریف کی۔

بیسٹ ایکٹریس ٹی وی اور بیسٹ ایکٹریس فلم نہ ملنے پر انہوں نے کہا کہ میں ہر شخص کی رائے کو اہمیت دیتی ہوں اور مجھے شائقین کی توجہ کے لیے مزید محنت کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ بہت جلد پاکستانی فلمیں اور ڈرامے بہتر ہو جائیں گے ۔ کچھ سال قبل یہاں سٹار پلس اور ترکی کے ڈرامے سب سے زیادہ مقبول تھے لیکن اب بہتری کی وجہ سے پاکستانی ڈرامے سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔

خواتین کے گرد گھومنے والی فلم میں بہت کم ایکٹرز کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اپنی نئی فلم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے لیے اس سے بہتر کوئی موقع نہیں مل سکتا تھا۔ فلم کے ڈائیلاگ بہت اچھے اور چلینجنگ تھے۔ گانا فلماتے وقت موسم بہت ٹھنڈا تھا اور مجھے اس حالت میں بھی خود کو پر سکون ظاہر کرنا تھا۔ فلم کے کام میں بہت مزہ آیا۔

اب جب پی این جے ریلیز ہونے والی ہے تو مہوش کا اگلا قدم کیا ہو گا؟ کیا وہ کچھ نیا کرنا چاہیں گی یا سابق معمول ہی رہے گا؟ انہوں نے بتایا: مجھے بہت سی فلموں کی پیش کش ہوئی ہے لیکن میں خواتین کے مسائل سے تعلق رکھنے والی فلموں میں کام کی خواہش رکھتی ہوں۔ کیا وہ پنجاب جائیں گی؟ یہ تو آپ کو فلم دیکھ کر ہی پتہ چلے گا۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1354951/the-icon-interview-the-many-lives-of-mehwish

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *