چکن چاوٴ من

Yasir Pirzadaمیرا خیا ل تھا کہ انسان فیس بک ، ٹوئٹر، یو ٹیوب اور ”میرا سلطان “ کے بغیر ایک ہفتے سے زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا ، میرا اندازہ غلط تھا ، مجھے چین میں اب تین ہفتے ہونے کو آئے ہیں ، میں نہ صرف زندہ ہوں بلکہ مسلسل آدھ گھنٹے تک چینی ٹی وی پر کامیڈی پروگرام دیکھ کر محظوظ ہو سکتا ہوں اور چینی زبان میں چکن چاوٴمن لکھ کر دکھا سکتا ہوں، اس سے ہاضمہ درست رہتا ہے اور رات کو ڈراوٴنے خواب بھی نہیں آتے۔جو ”شاہانہ “ طرز زندگی ہم پاکستانی اپنے ملک میں گذارتے ہیں ، چین یا دنیا کے بے شمار دیگر ممالک میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔ سیاست دانوں کے لتے لینا ، جمہوریت کو گالی دینا ، فوج کو برا بھلا کہنا ، کسی بھی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر بطور ”سینئر تجزیہ کار“ کچھ بھی کہہ دینا، یہ تمام عیاشیاں ہمارے ملک میں تو ممکن ہیں لیکن چین میں ان کا کوئی تصور نہیں۔ اس ضمن میں ان کی دلیل نہایت سادہ ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا واحد فوکس صرف اور صرف معاشی ترقی ہے جس کے ذریعے غریب آدمی کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر حکومت اور عوام یکسو ہو کر اس میں جْت جائیں ۔ مغربی جمہوریت ، شخصی آزادیاں ، احتجاج کا حق ، آزاد میڈیا اور بے باک سول سوسائٹی جیسی ”لغویات“ اس تیز رفتار معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالتی ہیں ۔ شاید اسی لیے چین میں صرف ایک ہی سیاسی جماعت ہے ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا، اسی کی حکومت ہے ، جسے سیاست کرنی ہوتی اسی پارٹی میں آ تا ہے۔ذاتی ملکیت کا کوئی تصور نہیں ،تمام ادارے اور زمین ریاست کی ملکیت ہیں،چائنیز سینٹرل ٹی وی (CCTV) یہاں کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے جو حکومتی ادارہ ہے ، دو ہزار کے قریب اخبارات و جرائد شائع ہوتے ہیں جبکہ سو سے زائد ریڈیو سٹیشن ہیں اورتقریباً تمام ہی ر یاست کی زیرنگرانی چلتے ہیں، ریاست کا کنٹرول بے حد کڑا ہے ، حکومت پر تنقید ممکن نہیں۔ اپنے یہاں تو جس کا دل کرتا ہے اٹھ کر سیاست دانوں کو ٹھاپیں لگانا شروع کر دیتا ہے جبکہ چین میں یہ ٹھاپیں حکومت لگاتی ہے۔ریاست کے کنٹرول کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت نہ صرف قومی میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے بلکہ غیر ملکی اخبارات تک رسائی بھی ممکن نہیں ، بے شمار انٹر نیٹ سائٹس بلاک ہیں ، حکومت کا انٹر نیٹ فلٹریشن کا نظام اس قدر سخت ہے کہ بعض اوقات مجھے”خبر ناک “ دیکھنے میں بھی دشواری ہوتی تھی ، اسی لیے ازرہ تفنن اسے ”Great Firewall of China“ بھی کہتے ہیں!
چین میں ہاوٴسنگ کا طریقہ کار نہایت دلچسپ ہے ، تما م زمین ریاست کی ملکیت ہے ، آپ دس مرلے کا پلاٹ بھی نہیں خرید سکتے ، البتہ اگر آپ بلڈر ہیں تو حکومت کے متعلقہ ادارے سے رجوع کریں اور خواہش ظاہر کریں کہ آپ فلاں علاقے میں ایک رہائشی سکیم یا اپارٹمنٹس تعمیر کرنا چاہتے ہیں، حکومتی ادارہ آپ کواور دیگر بلڈر حضرات کو زمین کی بولی لگانے کی دعوت دے گا ، جس پارٹی کی بولی سب سے زیادہ ہو گی ، زمین اسے ستّر برس کے لئے ”لیز“ پر دے دی جائے گی ، کامیاب بلڈر وہاں مکانات تعمیر کرے گا اور پھر منہ مانگی قیمت پر آپ کو ”فروخت“ کر دے گا۔ یہاں فروخت کا مطلب یہ ہے کہ ستّر برس تک آپ اس مکان میں رہنے کے مجاز ہیں، اس کے بعد وہ زمین دوبارہ سے حکومت کی ہو جائے گی ، اور پھر کیا ہو گا یہ کوئی نہیں جانتا۔اس سارے سسٹم میں دو خرابیاں ہیں، ایک، زمین کی الاٹمنٹ کا صوابدیدی اختیار طاقتور سرکاری افسران اور مقامی عہدے داران کے پاس ہے جس میں بدعنوانی کی کہانیاں اکثر سننے کو ملتی رہتی ہیں تاہم چینی حکومت کی پالیسی اس ضمن میں خاصی کڑی ہے۔ دوسرا، سرکار کے اس قدر سخت کنٹرول کے باوجود جائیداد کی قیمتیں ساتویں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک دفعہ چینی وزیراعظم نے کہا کہ بیجنگ میں پراپرٹی کی قیمت بہت زیادہ ہے ، حکومت کو اسے کم کرنا چاہئے، اگلے ہی لمحے قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔ایک شریف آدمی نے مجھے بتایا کہ بیجنگ میں اڑھائی ہزا ر امریکی ڈالر فی مربع گز کے حساب سے ڈیڑھ سو گز کا ایک اپارٹمنٹ خریدا جس کی قسطیں اتارتے اس کی عمر گذر جائے گی۔ میری ناقص ریاضی کے مطابق یہ دو مرلے کا مکان تقریباً پونے چار کروڑ روپوں کا ہوا،یقین نہیں آتا، نہ جانے یہ اشتراکیت کی کون سی قسم ہے!
lچین میں مجھے بیجنگ کے علاوہ انر منگولیا جیسے دور دراز علاقے کے دارالحکومت ہوہاٹ اور پھر وہاں سے چنگ داوٴ اور وے فانگ جیسے شہروں میں جانے کا اتفاق بھی ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اقتصادی ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے ، منگولیا کی آخری حدوں تک سڑکیں شاندار ملیں ، بجلی ہر جگہ موجود ، سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ، جابجا سی سی ٹی وی کیمرے لگے دیکھے ، نسبتاً کم ترقی یافتہ شہروں میں بھی جدید شاپنگ مال ، بلند و بالا عمارتیں اور زندگی کی تمام بنیادی ضرورتیں مہیا نظر آئیں، صرف ایک بات کی کمی محسوس ہوئی کہ لوگ حکومت کے خلاف ”بکواس “ نہیں کر سکتے ، ویسے ان سہولتوں کے بعد ”بکواس“ کرنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں رہتی۔ یہ ساری ترقی گذشتہ پینتیس برس میں ہوئی اور اس کا زیادہ تر کریڈٹ عظیم چینی رہنما ڈینگ زیاوٴ پنگ کو جاتا ہے جس نے پہلی مرتبہ کمیونسٹ چائنا میں اصلاحات کا آغاز کیا ، مارکیٹ اکانومی کی بنیاد رکھی اورریاست کی بندشوں سے آزادکرکے لوگوں کو اجازت دی کہ وہ وہاں سرمایہ کاری کریں جہاں انہیں منافع نظر آئے، اسے سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کا نام دیا گیا، ایک طرح سے یہ سرما یہ دارانہ نظام کی نئی شکل تھی۔ڈینگ کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بلی کالی ہے یا سفید ، دیکھنا یہ ہے کہ وہ چوہا پکڑ سکتی ہے یا نہیں!ڈینگ کی اس پالیسی نے چین کی کایا پلٹ دی،جس ملک میں کسان کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی تھی اب اس ملک کے قصبوں میں بھی پیزے بکتے ہیں۔
lمغربی لباس اور طرز زندگی یہاں اب مکمل طور سے غالب ہے ،اپنی پانچ ہزار سال پرانی تہذیب اور ثقافت پر بظاہر فخر کرنے والے چینی اندر سے مغرب سے خاصے مرعوب نظر آتے ہیں۔ تاہم مغرب کی جس خرافات کو انہوں نے اب تک گلے نہیں لگایا وہ ان کا خاندانی نظام ہے۔ امریکہ کی طرح چینی اپنے بچوں کو سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد زندگی کے تھپیڑے کھانے کے لیے گھر سے باہر نہیں نکالتے بلکہ ہماری طرح تب تک بچوں کو سپورٹ کرتے ہیں جب تک انہیں ضرورت رہتی ہے اور اس کی وجہ شاید فی خاندان ایک بچہ پالیسی ہے۔ اس پالیسی کی ایک دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ اگر آپ سرکاری ملازم نہیں تو حکومت کو دس ہزار یوآن ادا کر کے دوسرا بچہ پیدا کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ کو کسی ”ہیلتھ سینٹر“ جانے کی ضرورت نہ ہو!
lآج کا چین مکمل طور پر سرمایہ دارانہ نظام کا رنگ ڈھنگ اپنا چکا ہے،ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پر شکوہ دفاتر ، بین الاقوامی فوڈ چینز ، یورپ اور امریکہ کے فیشن۔
lبرینڈز کی چکا چوند اورمہینے بھر کی کمائی منٹوں میں اڑا لے جانے والے شاپنگ مال جا بجا نظر آتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں طاقت کمیونسٹ پارٹی کے پاس ہے اور پیسہ سرمایہ داروں کے پاس جبکہ اصولی طور پر طاقت اور پیسے کا چولی دامن کا ساتھ ہوتاہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کمیونسٹ چائنا اگلی کتنی دہایئوں میں سوشلزم کا بچا کچا لبادہ اتار کر کیپٹل ازم کی جینز پہنتا ہے !
lچین سے متعلق یہ میرا آخری کالم تھا ، مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ قارئین اس روداد چین سے کما حقہ بور ہوئے ہوں گے ، لیکن میری مجبوری یہ تھی کہ چونکہ خود بور ہوا لہٰذا سوچا کہ آپ کو بھی بور کروں، خود تو ڈوبا ہوں آپ کو بھی لے ڈوبوں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *