نگرانی

M tahirمحمد طاہر

ایک مغربی دانشور نے کہا تھا کہ ’’اقتدار خرابیوں کو جنم دیتا ہے اور مکمل اقتدار مکمل خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔‘‘ انسانوں نے اپنے تجربے سے ہی اقتدار پر نگرانی کے ایک نظام کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ قومی زندگی کو ایک یا چند ایک لوگوں کی تحویل میں نہیں دیا جاسکتا ۔ جو اپنی مرضی سے جس طرح چاہے بروئے کار آئیں۔ یمن کا کثیر الجہتی بحران ریاستوں کے لئے اسی سبق کا آموختہ بن گیا ہے۔
یمن تنازع کا سبق یہ ہے کہ ریاستوں کے اندر معمولی معمولی تنازعات بھی بڑے بڑے بحرانوں کی بنیادیں فراہم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اگر اُن کا بروقت سدِباب نہ کیا جائے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ریاستوں کے اندر جاری کشمکش کو طاقت کے اُصول پر بھگتانے کی روش زیادہ خطرناک طریقے سے نئے نئے مسائل کو جنم دینے لگتی ہیں۔ ایسے میں حکمرانوں کی جاہ پسندی ریاستوں کو تباہی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ یہ محض اندرونِ ملک شورشوں کوہی جنم نہیں دیتی بلکہ یہ مستقل نوعیت کی جنگ میں بھی دھکیلنے کے محرکات پیدا کر دیتی ہے۔یمن تنازع کا یہ پہلو سب سے زیادہ نظرانداز کیا جارہا ہے کہ آخر کس طرح ایک شخص نے یمن کے اندر سوئے ہوئے تمام فتنوں کو جگا دیا اور کس طرح ریاست کے اندر خانہ جنگی اور بیرون ریاست علاقائی جنگوں کا ماحول پیدا کردیا۔ یہ شخص کوئی اور نہیں یمن کا سابق صدر علی عبداللہ صالح ہیں۔یمن میں آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک سیکولر اور لبرل آدمی کے طور پر بروئے کار آنے والے جاہ پسند کا حقیقی چہرہ ہے جو ایک مثال فراہم کرتا ہے کہ اس قبیل کے لوگ دراصل کس طرح مذہب، تہذیب اور ریاست کو داؤ پر لگاتے ہوئے فرقہ واریت ، نسلی مناقشے اور قبائلی تنازعے استعمال کرتے ہیں۔ پھر اپنی چھوی بھی ایک سیکولر شخص کی برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
علی عبداللہ صالح خود زیدی فرقے سے تعلق رکھتا ہے مگر حوثی قبیلے سے نہیں۔وہ 1958 میں یمنی فوج میں شامل ہوا۔اور تب سعودی حمایت یافتہ زیدیوں کے خلاف مصری فوج کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لیا۔اس جنگ میں نسبتاً زیدی شیعہ اور کٹر سلفی ایک ساتھ تھے۔اور علی صالح زیدی فرقے سے تعلق رکھنے کے باوجود دوسری طرف تھا۔تب اُس کی شناخت ایک سیکولر اور لبرل شخص کے طور پر کی جاتی تھی۔ پھر وہ منقسم یمن میں شمالی یمن کا 1978 میں صدر بن گیا جب اُن کے پیش رو صدر کو ایک بریف کیس میں چھپے بم کے ذریعے اڑا دیا گیا۔علی عبداللہ صالح نے متحدہ یمن سے قبل اپنے خلاف متعدد بغاوتوں کو کچلا۔صدام حسین کی کویت یلغار میں علی صالح نے صدام حسین کا ساتھ دیا۔اس طرح یمن اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بغداد کا ساتھ دینے والا واحد ملک تھا۔تب وہ کمیونسٹ مفادات کے ساتھ خود کو وابستہ کر رہا تھا۔علی صالح تب بھی خود کو بچانے میں کامیاب رہا۔پھر اُس نے بیسویں صدی کے آغاز پر بدلی ہوئی دنیا میں خود کو برقرار رکھنے کے نئے نسخے کے طور پر خود کو امریکا کے قریب کیا اور عدن کی بندرگاہ پر 2000 میں یو ایس ایس کول میں ہونے والے القاعدہ کے حملے میں خود کو امریکا سے ہم آہنگ کر لیا۔ مگر عرب بہاراں میں اُسے خطرناک ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہاں تک کہ اُس پر جون 2011 میں ایک جان لیوا حملہ ہوا ۔آخر کار اُسے 2012 میں ایک سیاسی معاہدے کے بعد گھر کا راستا دیکھنا پڑا۔ اپنے تیس سالہ اقتدار میں علی صالح نے نفرتوں کو بڑھایا اور اندرونِ ملک تمام تعصبات کو اُجاگر کیا۔کبھی زیدیوں کو کچلنے میں شریک علی صالح نے حوثی بغاوت کی پرورش میں کسی بھی دوسری طاقت سے زیادہ حصہ لیا ہے۔ حوثی بغاوت کو سب سے زیادہ طاقت یمن کے صوبہ صعدہ کی ایک وادی دماج سے ملی جہاں 2014 میں بدترین خوں ریزی ہوئی۔ مگر اس کی بنیاد بھی علی صالح نے رکھی۔
علی صالح نے 1979 میں اپنے ہی ہم مسلک زیدیوں کے تب کے مطالبات کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ محسوس کرتے ہوئے وہاں سلفی عقیدے کا ایک مرکز قائم کرایا تھا۔یہ کام اُس نے اپنے کزن علی محسن احمر کے توسط سے کرایا۔یہاں سلفیوں کو ایک ایسی آگ کا ایندھن بنایا گیا جو مکمل طور پر عقیدے کے بجائے سیاسی اقتدار اور قومی وسائل میں شرکت کے مطالبے سے لگی تھی۔علی صالح اپنے ہی ہم مسلک لوگوں یعنی حوثیوں کو اپنے قبائلی جثے کی مناسبت سے حقوق دینے پر تیار نہیں تھا اور اس کی خاطر اپنے مخالف سلفی عقیدے کی حوثیوں کے علاقے میں سرپرستی کرنے کو تیار ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں سلفی یہاں مسلسل مارے جاتے رہے۔ مسئلہ سیاسی اقتدار اور قومی وسائل میں شرکت کا تھا مگر اس کی بُنت و بناوٹ فرقہ وارانہ رنگ سے کی گئی۔سیکولر مزاج کی بہیمت کیا کیا گُل کھلا سکتی ہے اس کا مشاہدہ اب بآسانی کیا جاسکتا ہے۔
علی صالح نے ہی حوثی بغاوت کی تب اچانک سرپرستی شروع کر دی جب نوگیارہ کے واقعے کے بعد اُسے محسوس ہوا کہ القاعدہ ایک طاقت ور سیاسی رجحان بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر حوثیوں کے تب تک اپنے منصوبے وضع ہو چکے تھے۔ اس دوران علی صالح کو اپنے کزن میجر جنرل علی محسن احمر سے یہ مشورہ ملا کہ حوثیوں کو مسلح کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ حوثیوں کو خود یمنی فوج کے سپاہیوں نے ہتھیار بیچنا شروع کر دیئے۔ یہ گُل بھی اقتدار کی بے پناہ ہوس سے پُھوٹا تھا۔ دراصل علی صالح تب اپنا جانشین اپنے بیٹے کو بنانے کے لئے راستے ہموار کر رہا تھا۔ اور علی صالح کے کزن میجر جنرل علی محسن احمر کو یہ بات پسند نہیں تھی ۔ وہ خو دعلی صالح کے بعد یمن کی حکمرانی کا خواب دیکھتا تھا۔چناچہ اُس نے حوثیوں کو اسلحہ دینے کی حمایت کا سبب تو علی صالح کو یہ بتایا کہ اس طرح یمن کے دیگر قبائل کے سامنے ایک توازن پیدا ہوگا اور سلفی تحریکیں زیادہ پنپ نہیں سکیں گی۔ مگر اس کے پیچھے اُس کا اصل مقصد خود علی صالح کی سیاسی طاقت ختم کرنا تھا۔اس کے باوجود علی صالح ایک بار پھر حوثیوں کے مقابل آگئے جب حسین حوثی کی طرف سے علی صالح پر تنقید شروع ہوگئی۔بآلاخر جون 2004 میں حسین حوثی کو حکومت کے خلاف بغاوت اور امامت کے قیام کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اُسی سال حسین حوثی کو قتل کرا دیا گیا اور اُسے سرکاری تحویل میں دفنا دیا گیا۔ اب حوثی بغاوت کی قیادت اُس کے بھائی عبدالمالک نے سنبھال لی۔ جس نے زیادہ سنگ دلی سے دماج کا محاصرہ کرکے وہاں موجود سلفیوں کو موت کے گھاٹ اُتارنا شروع کر دیا۔ اس دوران علی صالح عرب بہاراں کے باعث مسلسل عوامی مظاہروں کے باعث اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گیا تھا۔
علی عبداللہ صالح جوں ہی اقتدار سے رخصت کیا گیا اُس نے حوثیوں کی مسلح قوت کا پوری طرح اندازا ہونے کے باعث اس کی پسِ پردہ حمایت شروع کر دی اور ملک میں جاری مسلسل بحران کا کوئی سیاسی حل نکلنے نہیں دیا۔اس دوران اُس کی حامی فوج نے حوثیوں کی حمایت شروع کردی اور اُن کے مسلح قبضے کو آسان بنانا شروع کردیا۔حوثیوں نے جب دارالحکومت صنعا کا محاصر ہ کیا تو اُن کے سامنے صف آرا علی محسن کی فوج نے برائے نام مزاحمت کرتے ہوئے دراصل اپنی فوج سے ہتھیار پھینکوادیئے۔اب تک حوثی بغاوت کو دراصل علی عبداللہ صالح کے فوجی افسران کی حمایت حاصل ہے جو مزاحمت کے بجائے حوثیوں کی قبضہ قوت کو بڑھا رہی ہے۔
یمن کی یہ وہ زمینی صورتِ حال ہے جو اب خطرناک علاقائی بحران میں بدل کر نئی نئی جنگوں کے خطرات پیدا کر چکی ہے۔ مگر اس صورتِ حال کا ذمہ دار دراصل ایک سیکولر شخص ہے۔ جس نے اپنی جاہ پسندی کے باعث یمن کے اندر سوئے ہوئے تمام فتنوں کو جگا دیا ہے۔یہ پسِ منظر دراصل قوموں کے لئے ایک سبق ہے کہ حکمرانی کی طاقت کو نگرانی کے ایک موثر نظام میں رکھنا ضروری ہے۔ اگر حکمران اپنے فیصلوں میں آزاد رہے تو وہ علی صالح کی طرح قوم کو نہ ختم ہونے والے خطرات کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ نگرانی کی یہی موثر قوت پاکستان میں بھی بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ پھر ہمیں یہ خطرہ لاحق نہیں رہے گا کہ حکمران چپکے چپکے کیا کررہے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *