کرینہ کپور کی موٹی ٹانگیں اصل مسئلہ نہیں ہے۔۔۔

parnia awanپرنیا اعوان
یہ سوچ کہ ماہرہ خان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد ٹویٹر بریگیڈ خاموش بیٹھ جائے گا ایک خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ماہرہ خان کو سگریٹ نوشی اور نا مناسب لباس پہننے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ خواتین کے لیے سگریٹ نوشی انہیں بد کردار بنانے کا باعث سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بعد کرینہ کپور کو انسٹاگرام پر تصویر میں اپنی موٹی ٹانگیں دکھانے پر سوشل میڈیا بریگیڈ کا سامنا کرنا پڑا۔ آج تک کرینہ کپور جو کچھ ماہ پہلے اپنے پہلے بچے تیمور خان کی پیدائش کی وجہ سے خبروں میں تھیں انہیں ایک رول مادل سمجھا جاتا رہا ہے۔ اپنے حمل کے دوران کرینہ کپور نے فیشن ڈیزائنر کےلیے والک میں بھی شمولیت اختیار کی اور اپنی فٹنس پر بھی توجہ دیتی رہیں۔ اپنے آپ کو فٹ رکھنے کےلیے حمل کے دوران وہ یوگا اور ڈائٹینگ جیسے ٹوٹکے آزماتی رہی ہیں۔ اپنے بچے کی پیدائش کے بعد انہوں نے جم میں شمولیت کی بھی تصاویر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ شئیر کیں جس پر انہیں سخت تنقید کاسامنا کرنا پڑا۔ چونکہ ان کے چاہنے کے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لیے بہت سی خواتین انہیں اپنا رول ماڈ ل مانتی ہیں۔ انہیں کرینہ کا فٹنس پر توجہ دینے کا عمل بہت پسند ہے۔ اس کے علاوہ کرینہ اس مشکل وقت میں بھی اپنی فلم کی شوٹنگ میں بھی مصروف رہیں۔
جب ان کی بہن کرشمہ نے ایک تصویر انسٹا گرام پر شئیر کی تو کرینہ کے جسم پر مختلف قسم کے تبصرے کیے گئے۔ اس تصویر میں کرینہ کی ایک ٹانگ گھٹنے کے اوپر تک نظر آ رہی تھی۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک خاتون کی ٹانگ کو بھی بخشا نہیں گیا۔ عام تنقید تو کسی بھی طرح قابل قبول مان لی جاتی لیکن ٹانگوں پر بھی تبصرے کیوں ہونے لگے؟ مجھے لگتا ہے کہ بہت سی خواتین کرینہ کی یہ تصویر دیکھ کر ایسا ہی جسمانی سٹائل اپنانے کی کوشش میں kareena 1لگ گئی ہوں گی۔ خواتین چاہے جو بھی فیصلہ کریں آخر جسم تو ان کا ہی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ جو خواتین پتلے جسم کو برقرار نہیں رکھ سکتیں انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا نے خوبصورتی کے کچھ معیارات طے کر رکھے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ افسو س کی بات یہ ہے کہ خواتین کو حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد ان کی جسمانی حالت کو قبول کرنے میں لوگ بہت تکلیف دہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔
یہاں ایک بہترین مثال ایشوریا رائے بچن کی دی جا سکتی ہے جنہیں دنیا کی سب سے خوبصورت خاتون قرار دیا جاتا ہے۔اپنے پہلے بچے کی پیدائش کی بعد انہیں وزن گھٹانے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں بہت برے طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ لوگوں نے سر عام اس بات پر گفتگو کی کہ بچے کی پیدائش کے بعد ابھی تک ایشوریہ اتنی موٹی کیوں ہیں اور انہوں نے ابھی تک وزن کیوں نہ گھٹایا۔ دوہری ٹھوڑی پر بھی انہیں بھارت کے چہرے پر بد نما دھبہ کا خطاب دیا گیا۔ ان کے لیے وزن گھٹانا ایک عام ماں کی طرح بہت معمولی کام نہیں ہے۔ اس کے باجود خواتین کے جسم کے ہر حصے پر بحث اور تنقید کی جاتی ہے۔
پہلی بار ماں بننے والی خواتین کو دوسرے بہت سے اہم مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل بچے کی پیدائش کے عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلا 70 فیصد نئی مائیں بے بی بلیو بیماری کا شکار رہتی ہیں۔ یہ بیماری کچھ عرصہ کی ہوتی ہے جس میں خاتون بہت کمزور اور پریشان محسوس کرتی ہے اور اس کا موڈ بھی نارمل نہیں رہ پاتا۔ یہ مسائل ہارمونز میں تبدیلی کیوجہ سے پیش آتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی سیکشن آپریشن، بریسٹ فیڈنگ، نیند کی کمی، ذاتی یا فیملی kareena 2ڈپریشن، سوشل سپورٹ کی کمی جیسے مسائل ہیں جن پر توجہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پوسٹ پارٹم ڈیپریشن (پی ڈی ڈی) کے بارے میں بھی محتاط رہنا چاہیے۔ پی ڈی ڈی ایک بیماری ہے جس میں بچے کی پیدائش کے وقت ایک عورت بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار رہتی ہے۔ اس کے رویہ اور جذبات میں نمایاں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ، کمزور اور بے چین محسوس کرنے لگتی ہے۔ 15 فیصد خواتین اس مسئلے کا شکار ہوتی ہیں لیکن پھر بھی اس اہم مسئلے پر بہت کم بات چیت سننے کو ملتی ہے۔ بچہ پیدا کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ان احساسات کی وجہ سے ایک خاتون بہت سی مشکلات اور تنہائی کا شکار ہو سکتی ہے۔
پہلی بار ماں بننے والی بہت سی خواتین مختلف قسم کے خوف کی وجہ سے دوستوں اور خاندان سے دوری اختیار کر لیتی ہیں تا کہ کوئی انہیں بُری اور نا اہل ماں قرار نہ دے۔ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہونے والی خواتین کو اپنے خاندان کے افراد، دوستوں اور ڈاکٹروں سے مدد کے حصول کے قابل بنانے کےلیے پی ڈی ڈی کی آگاہی بہت ضروری ہے۔ اگر والدین اس معاملے میں اجتماعی کوشش کریں یہ سوشل رکاوٹیں ختم ہو سکتی ہیں جن کی بدولت خواتین اپنا علاج کروانے سے گھبراتی ہیں اور کمزور ماؤں کو اپنی صحت کی بہتری کے لیے اقدامات کرنے پر ابھارنے میں مدد مل سکتی ہے۔
برک شیلڈ، ڈریو بیری مورkareena 3، سیلائن ڈیون جیسی ہالی وڈ سے تعلق رکھنے والی مائیں بھی میڈیا پر اپنے تجربات بیان کر چکی ہیں۔ ایک اور تازہ ترین والدہ بننے والی خاتون کریسی ٹیگن ہیں جنہیں اسی طرح کی علامات کا سامنا رہا۔ انہوں نے گلیمر' کے اپریل میں شائع ہونے والے شمارے میں شامل انٹرویو میں بتایا کہ پہلی بچی کی پیدائیش کے بعد انہوں نے زیادہ تر دن ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر گزارے اور ان کے لیے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر بیڈ روم تک جانا مشکل تھا۔ وہ صوفے پر اپنے خاوند کے ساتھ کئی دن تک سوتی رہیں تا کہ اوپر نہ جانا پڑے۔ سیڑھیاں چڑھنے میں انہیں بہت مشکل ہوتی تھی۔ میرے جیسی خاتون جسے اپنے جسامت کی وجہ سے بہت سے مواقع پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو وہ سوچ بھی نہیں سکتی کہ حمل کے بعد اس کا جسم کس طرح کی شکل اختیار کر ے گا۔ جب میں بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کروں گی تو مجھے بہت امید ہو گی کہ میری فیملی اور میری سہلیاں میری سپورٹ کریں تا کہ میرے جسم کی تبدیلی میرے لیے نفسیاتی مسائل کا باعث نہ بن جائے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ بہت سے مواقع پر وزن گھٹانا بہت مشکل ہو جاتا ہے، میں ان نئی ماؤں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہوں جو اتنی محنت کے بعد اپنے جسم کو اپنی اصلی حالت میں واپس لانے کی طاقت دکھاتی ہیں۔
جہاں تک کرینہ کپور کا تعلق ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک فٹنس کوئین ہیں اور انہوں نے بچے کو جنم دینے کے بعد صرف چھ ماہ میں اپنے جسم کو واپس اصل شکل میں ڈھال لیا ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا کی سہولت تقریبا ہر ایک کو میسر ہے اس لیے ان معروف سلیبریٹیز کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنانا بہت آسان مرحلہ بن چکا ہے۔ ماضی میں دیپکا پڈیکون، پریانکا چوپڑا، اور فاطمہ ثنا شیخ جیسی معروف خواتین کو سخت الفاظ اور گالیوں کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کی وجہ ان کا ایسا لبا س تھا جو ان سوشل میڈیا بریگیڈ کو پسند نہ تھا۔ کئی بار خواتین کو بہت پتلی،بہت موٹی یا بہت پر کشش ہونے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آج کے دور میں پر اعتماد خواتین کے ساتھ عدم برداشت کا معاملہ عروج پر ہے جبکہ وہ خود اپنے آپ کو ہر طرح سے فٹ اور خوبصورت بنائے رکھنا چاہتی ہیں۔البتہ اچھی خبر یہ ہے کہ ان معروف خواتین کے پاس ایسی بھی بہت سی باتیں اور کام ہیں جن کے بارے میں مثبت طریقے سے سوچا جا سکتا ہے چاہے وہ بچوں کی مائیں ہوں یا کنواری اور غیر شادی شدہ ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *