کیا آج نواز شریف کو 77جیسے حالات کا سامنا ہے؟

ندیم ایف پراچاnadeem 2

مسلم پاکستان رولنگ لیگ میں نواز (PML-N) اور کچھ اور میڈیا کے لوگوں نے حال ہی میں اشارہ کیا ہے کہ 1977 کی حکومت کے خلاف اور مارشل لا کے لیے سازش کی جا رہی ہے۔ اس طرح وہ 1977 اپریل کی  احتجاجی تحریک کا حوالہ دیتے ہیں جو بھٹو کی پیپلز پارٹی کے خلاف شروع کی گئی تھی جس کی وجہ سے 1977 میں  ضیا الحق نے مارشل لاء لگایا تھا۔

یہ تحریک  ایک نو جماعتی اتحاد پر مشتمل تھی ،  پاکستان نیشنل اتحاد کی  زیادہ تفصیلات تحریری صورت میں موجود نہیں ہیں۔ بر عکس 1968 میں ایوب خان کی لیڈر شپ کی تحریک کے دستاویزکے ، جو مکمل طور پر موجود ہیں۔ 1968 کے دستاویز کے بر عکس  1977 کے دستاویز بہت کم مطلوب رہے کیوں کہ 1968 کی تحریک نے بڑے پیمانے پر1970 کے پہلے الیکشن جو بالغ فرنچائز کی بنیاد پرتھے منعقد کرنے میں  بائیں بازو کا کام کیا اور بائیں سیاسی جماعتیں، لیبر یو نین اور سٹوڈینٹ آرگینازیشنز نے بھی راستے ہموار کیے ۔  اس تاریخی الیکشن کا ایک نتیجہ سول جنگ کے بعد سابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی تھا جو دسمبر 1971 میں بنگلا دیش بنا۔

1977 کی تحریک کے واقعات 1968 کی تحریک کے واقعات سے بلکل مختلف ہیں ۔ پہلا یہ کہ ، سابق مشرقی پاکستانی لیڈر شپ کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس وقت کی رائج گورنمنٹ کے خلاف تھے ۔ دوسرا یہ کہ ، اس کا نتیجہ مارشل لاء اور ایک معزول وزیر اعظم کو پھانسی تھا اور فوج کی حکمرانی 11 سال رہی۔ اس حکمرانی کے معاشرتی اور سیاسی اثرات (جنرل ضیاالحق کی حکمرانی کے دوران ) ایسے تھے کہ حکومت اور سیاست اب تک ان اثرات سے نمٹ رہے ہیں۔ ایل – ڈی  اے نے اپنی  کتاب ( دی اسلامک ورلڈ ان دی پوسٹ ماڈرن ورلڈ ) میں لکھا کہ "ضیاء کی لیڈر شپ نے پاکستان کے سیاسی اور معاشرتی ارتقاء کو پسماندہ کر دیا ہے۔ "

1977  PNA تحریک کو مد نظر رکھتے ہوئے  اب کچھ مبصرین اور سیاست دانوں کی طرف سے حوالہ دیا جارہا ہے کہ آج جو ہو رہا ہے وہ موجودہ حکومت  کے خلاف  ویسی ہی سازش کا یتیجہ ہے۔

دسنمبر 1976 میں جب بھٹو کی حکومت نے پہلے الیکشن کا اعلان کیا تھا تب سے 10 ماہ پہلے ہی  PNA کا انعقاد ہوچکا تھا ۔ اعلان کیا گیا تھا کہ الیکشن 1977 جنوری میں ہوں گے۔ (ڈاکٹر مبشر حسن )جو بھٹو کی حکومت میں سینئر منسٹر تھے  اور PPP کے بنیادی ممبران میں سے ایک تھے  نے اپنی کتاب( دی میراج آف پاور) میں لکھا کہ بھٹو اپنی دوبارہ جیت پر پراعتماد تھے اور ان کو پارلیمنٹ میں بڑی تعداد چاہیے تھی تا کہ وہ  آئین میں تبدیلیاں کر سکیں اور پاکستانی پارلیمنٹ کے جمہوری نظام  کو  صدارتی بنا دیں۔

بھٹو گورنمنٹ کے  مشیر جناب رفعی رضا نے اپنی کتاب( بھٹو اینڈ پاکستان 1967-1977)میں لکھا کہ بھٹو PNA کے بننے پر حیران تھے کیوں کہ اس وقت پارلیمنٹ کی مخالف پارٹیاں ایک دوسرے پر شک و شبہات میں گھری ہوئی تھیں۔ PNA میں 9 اینٹی   PPP پارٹیوں کے علاوہ تین بڑی مذہبی جماعتیں بھی شامل تھیں : جماعت اسلامی JI ،  جماعت علمائے  اسلام JUI ، اور  ،  جماعت علمائے  پاکستان JUP ۔

PNA کے تجربہ کار  اور بائیں بازو  لیڈر جیسے کہ ولی خان ، اور بیگم نسیم ولی اور کٹر لبرل ڈیموکریٹس جیسے کہ اصغر خان  نے اپنے الیکشن سلوگن "نظام مصطفیٰ" کے ساتھ اسلامک معاشی اور جمہوری اتحاد کے  نفاذ کا اور بعد میں الیکشن مہم میں  شریعت کے نفاذ کا وعدہ کیا۔

الیکشن سے کچھ دن پہلے، بھٹو نے اشارہ دیا کہ PNA خون چوسنے والے صنعت کاروں کی تخلیق ہے۔ سیاسی اکانومسٹ ڈاکٹر  اکبرزیدی نے اپنی کتاب "ایشوز ان پولیٹیکل اکانومی " میں کہا کہ  مشرقی پاکستان کی 1971 کی سول جنگ کے بعد کے  معاشی حالات کا موازنہ کیا جائے تو بھٹو حکومت نے 1973 میں پیٹرول کی انٹرنیشنل قیمتوں میں اضافے کے باوجود  کسی حد تک معاشی حالات کو بحال کیا اوران  صنعت کاروں کی دارالحکومت کی طرف پروازیں شروع ہوئیں جنہوں نے ایوب خان کے دور میں اپنی قسمت بنائی تھی۔

جناب زیدی مانتے ہیں کہ 1960 میں ایوب حکومت کے دوران معیشت بہت  مضبوط تھی لیکن اس  بہتری کا فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے بجائے، ایوب کی پالیسیوں نے باشاہت اور اجاراہ داری کو فروغ دیا۔ لیکن  تب بہت سے اکانو مسٹ تھے جنہوں نے "بھٹو کے  سوشلسٹ پالیسیز ”کوملکی معیشت کی ترقی  پر برے اثرات کا الزام دیا ۔

آگے دیکھیں تو پرویز مشرف کی 1999-2008 تک کی حکومت میں معیشت مزید گری۔ اور 2008-2013 کی زرداری حکومت میں  اور بھی  لڑکھڑا گئی جب ملک انتہا پسند سول فوج اور گورنمنٹ کی آپسی مخالفت اور  دہشت گردی میں غرق تھا۔ 2013 میں PML-N حکومت کے دوران فوج نے 2014 میں وسیع پیمانے پر آپریشن کیا جس کے باعث معیشت بہتر ہوئی اور دہشت گردی میں بھی کمی ہوئی۔ جیسے بھٹو نے 1970 میں کیا اور نواز شریف بھی یہ مانتے ہیں کہ PML-N گورنمنٹ نے ایک تباہ حال معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کی۔

PNA تحریک کو ڈاکٹر خالد  بی سعید نے بہت اچھے سے اپنی 1981 کی بہترین  کتاب (پالیٹکس ان پاکستان) '' دی نیچر اینڈ ڈائیریکشن آف چینج'' میں  پیش کیا ۔ انہوں نے اس کتاب میں کہا کہ : PNA کے 1977 کے الیکشن کے رزلٹ  کو رد کرنے اور اس تحریک کی شدید مخالفت کرنے کے بعد  اس کے ساتھی بڑی تعداد میں وہی درمیانے  اور نچلے درمیانے طبقے کے جوان، تجارتی ، اور دکاندار تھے۔ 1977 کی تحریک کے دوران بھٹو نے برہم صنعتکاروں پر اس تحریک کی بنیاد رکھنے کا  الزام لگایا۔اور جب کچھ آفیسرز نے لاہور موب کے خلاف ایکشن لینے سے انکار کیا تو ان پر بھی الزام لگائے گئے۔

جبکہ PNA بھٹو پر معیشت کو گدلا کرنے کا اور مخالفوں کے خلاف مضبوط ہتھ کنڈوں کے استعمال کا الزام لگاتی رہی۔ PML-Nحکومت پر کرپشن کا الزام تھا۔ لیکن دونوں حالات میں درمیانے  اور نچلے درمیانے طبقے کے جوان ہتھیار بنے رہے۔ حال ہی میں، PML-N حکومت پر " اسلامی آئین  " کو بدلنے کی کوشش کا الزام لگا۔ PNA تحریک کے دوران ، PNA نے بھٹو کے ایمان پر سوال اٹھایا تھا اور انہیں "اینٹی اسلامک " اور "شرابی" بھی  کہا گیا۔

ڈاکٹر مبشر کے مطابق، بھٹو دیہی مڈل کلاس حلقے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے  کیونکہ انہیں بھٹو کی پالیسیوں سے اعتراض تھا ۔ PML-N بھی یہ ہی کر رہی ہے ۔ اس  کامطلب یہ نہیں کی پارٹی اپنا پنجاب میں روایتی ووٹ بینک کھو رہی ہے بلکہ اس وجہ اس مخصوص ووٹ بینک کا ایک حصہ  پاکستان PTI تحریک انصاف کو جائے گا اور کچھ حد تک بنیاد پرست نئی مذہبی تنظیموں کو۔ 1970  کے درمیانے عرصے میں بھٹو خوشحال دیہی لیبرل سہارے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور PML-N نے حیران کن طور پر PPP  کے پنجاب سے خوشحال / لیبرل ووٹ حاصل کیے۔

اس مختصر خلاصے سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1977 کی تحریک  آج کے معاملات میں بہت کچھ ایک سا ہے۔ لیکن جیسا کہ میرے سندھی بھائی نے کہا:"1977 تحریک میں عوام سندھ کے خلاف احتجاج  کر رہے تھے جب کہ اس  دفعہ PML-N اور PTI کے درمیان مقابلے کی وجہ سے پنجاب کے مڈل اور نچلے مڈل  کلاس لوگ  ایک دوسرے کے خلاف الجھ رہے ہیں۔ "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *