لیاقت علی خان۔۔۔ ایک رہنما جنہیں سب سے غلط سمجھا گیا

liaqat 13ڈاکٹر محمد رضا کاظمی  

لیاقت علی خان پاکستان کے استحکام  میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں جیسے قائداعظم پاکستان کی تخلیق میں ۔ وہ ملک کے پہلے پرایم منسٹر بنے صرف اس لیے نہیں کہ  وہ قائداعظم  کے وفادارساتھی  تھے بلکہ اس لیے بھی کہ تقسیم ہند  سے پہلے انہوں نے مسلم لیگ بلاک میں  عبوری حکومت کے دوران  اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا تھا۔ جناب لیاقت علی نے اپنی ساری دولت انڈیا میں چھوڑ دی ، اور مہاجر کی حیثیت سے کلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا ۔نواب زادہ نے اپنا زندگی کا معیار بھی کم کر دیا اور نئے ملک میں اداروں کے قیام پر کوشش صرف کر دی۔ اس قدر بہترین ہمارے پہلے وزیر اعظم کی شخصیت تھی ۔

اس موڑ پر پاکستان کا سفر دیکھا جا سکتا ہے اپنے جان نشینوں تک جنہوں نے ہمیشہ  اپنی دولت کے بارے میں پوچھ گاچھ کا سامنا کیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے استحکام میں جب بازی پلٹی تو لیاقت علی خان کے انتخابی حلقوں پر سوال اٹھنے لگے۔

لیاقت علی کے دور اقتدار کے بارے میں  بعض حلقوں کا خیال ہے کہ انہوں نے پاکستان کو متنازعہ سمت پر رواں کیا۔  دو بنیادی تنازعات تھے۔ ایک یہ تھا کہ  انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ نہ چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کی گونج راولپنڈی سازشی کیس میں بھی سنائی دیتی تھی۔

اس طرف پہلا قدپم مئی 3 ، 1948 میں لیا گیا جب  یہ اعلان کیا گیا کہ یونین سوویت سوشیلیسٹک ریپبلک USSR اور پاکستان  سفارت کاروں کا تبادلہ کریں گے۔اس موقع پر لیاقت علی نے کہا:"یہ پاکستان کی خواہش تھی کہ دنیا بھر کی اقوام کے ساتھ اس کا دوستانہ رشتہ ہو اور روس کے ساتھ  سفارتاکاروں کے تبادلے کا فیصلہ اسی پالیسی  کا نتیجہ ہے۔   " اور پھر ایک سال بعد  روس نے  پاکستانی وزیر اعظم کو روس کے دورے  کی دعوت دی۔ روس نے مطالبہ کیا کہ دورہ سے قبل پاکستان اور روس آپس میں  سفارتکاروں کا تبادلہ کریں۔ جون 9  کو سر ظفر ا للہ کی طرف سے مزاحمت کے باوجود لیاقت علی خان نے ایسا ہی کیا۔ پاکستانی سفارتکار کی تعیناتی  31 دسنمبر 1929 میں قیام عمل میں آئی جب کہ روسی سفارتکار 22 مارچ 1950  کو تعینات ہوئے۔

جون 1949 میں USSR نے دعوت کی تاریخ  20اگست سے 14 اگست کر دی اور لیاقت علی خان اس تار یخ پر آمادہ نہیں تھے کیوں کی یہ قائداعظم کی liaqat 11وفات کے بعد پہلا آزادی کا دن تھا۔ اور پھر جب امریکہ سے مدعو کیا گیا تو مئی 1950 کو لیاقت علی خان روانہ ہوئے۔

امریکہ جاتے وقت  وہاں پہنچ کر اور پھر واپسی پر انہوں نے سویت کے دعوت نامے کا ذکر کیا ۔ ایک سال بعد کرچی پریس کانفرنس میں انہوں نے وضاحت کی کہ: "میں ماسکو نہیں جا سکا  کیوں کہ ملاقات کی تاریخ 14اگست 1949 تھی اسی لیے میں نے جواب بھیجا تھا کہ یہ ہمارا جشن آزادی کا دن ہے  اور اس تاریخ کے بعد میں کبھی بھی آ سکتا ہوں  اس کے بعد انہوں نے جواب نہیں دیا۔ "

میں پہلا نہیں ہوں جسے ماسکو کی دعوت کے متھ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ارتضی حسین، منصور عالم اور شاہد امین  بھی گواہ ہیں۔ اس وقت کے ایران میں موجود  ڈپلومیٹ سعید اشفاق حسین نقوی   کہا کہ لیاقت علی خان نے کوئی دعوت نامہ مسترد نہیں کیا۔  ماسکو میں تعینات ڈاکٹر سمیع اللہ  قریشی نے اس قصے کا اپنی کتاب "ڈپلومیٹس اینڈ ڈپلومیسی " میں حوالہ دیا:" 1949 میں مسٹر شعیب USSR  کے پہلے ایمبسڈر تھے۔ انہوں نے اندر گرومیکو  جو تب ڈپٹی فارن منسٹر تھے  کو یہ بتانے بلایا  کہ پرائم منسٹرنے  جلد از جلد روانگی کا ارادہ  کیا ہے تاکہ  وہ ان کے ماسکو کے وزٹ کی تیاریاں کر سکیں۔  " گرومیکو نے جواب دیا:" ہمارا دعوت نامہ؟؟ او، آپ کی ان کے یہاں آنے کی پیشکش۔' اس کے بعد سوویت گورنمنٹ نے اس موضوع پر بات نہیں کی۔ "

مسئلہ یہ ہے کہ تاریخوں کا ردو بدل جو سوویت اور لیاقت علی کے بیچ ہوا اسے دیکھ کر پاکستان پر ایک ورلڈ پاور کو دوسری ورلڈ پاور پر ترجیح دینے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔  وہ سیدھا اس دعوت نامے کا جواب دیتے رہےجو ملا تھا یعنی سویت یونین دعوت نامہ نہ کہ اس کا جو  اس وقت میز پر  تھا ہی liaqat 3نہیں اس کو اہمیت دینے کا الزام کیسے ہو سکتا ہے ۔

دوسری لیاقت علی کے خلاف سازش قرارداد مقاصد سے جڑی ہے جس میں الزام یہ تھا کہ جنرل ضیاءالحق کی اسلامائی زیشن کے لیے  لیاقت علی خان نے راہیں ہموار کی ہیں۔ اس کی پرواہ کیے بنا کی پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے یا  نہیں ، پاکستانی تحریک صاف بتاتی ہے کہ یہ علاقہ اس نظریے کے لیے نہیں بنا بلکہ نظریہ اس علاقے کے لیے بنا تھا۔ انسانی حقوق کی حفاظت ، اور اسلامی روایات اور اقدار  کے تحفظ کے لیے نظریہ کی اہمیت ہے  نا کہ علاقے کی ۔

 لیاقت علی خان کی قرار داد مقاصد ایک رجعت پسندانہ دستاویز کے طور پر مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ وہ اس قراداد کی بنیاد پر وہ مبینہ طور پر قائداعظم کے سیکولر نقطہ نظر کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کررہے تھے۔ تصدیق کے لیے ہمیں تین دستاویز دیکھنا ہوں گے۔

ایک مذہبی پارٹیوں کے اتحاد کا ڈرافٹ ہے۔ جس میں لکھا ہے:"پاکستان پر حاکمیت صرف اور صرف اللہ کی ہے۔ اور پاکستان کی گورنمنٹ کو اللہ کی مرضی کے خلاف جانے کا کوئی  حق نہیں۔ پاکستان کا قانون بنیادی طور پر اسلامی شریعت ہے۔ سارے غیر اسلامی  قوانین کی رد کر دیے جائیں گے اور مستقبل liaqat 2میں اس طر ح کے کوئی قوانین لاگو نہ ہوں گے۔ اور پاکستان کی گورنمنٹ اتھارٹی اسلامی شریعت سے تجاوز نہ کرے گی۔ "

لیاقت علی کے ڈرافٹ میں لکھا ہے:"جہاں ساری دنیا پر حاکمیت صرف اللہ کی ہے اور اتھارٹی جو خدا نے اس اسٹیٹ پاکستان  کو دی ہے  یہ اللہ کی امانت ہے۔  یہ قانون ساز اسمبلی جو پاکستان کے لوگوں کی نمائندگی کر رہی ہے ،   ایک آئین تیار کرنے کے لئے پختہ عزم کرتی ہے  جس کے مطابق یہ ریاست اپنی طاقت اور اختیار کو عوام کی امنگوں کے مطابق استعمال کرے گی۔

ان دونوں ڈرافٹوں میں کیا فرق ہے؟ ایک جس میں علما جمہوریت کو رد کرتے ہیں اور دوسرا جس میں لیاقت صاحب نے  جمہوریت پر زور دیا۔جمہوریت کے بغیر بہت معمولی تعداد بھی اکثریت پر حکومت کر سکتی ہے ۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے  مڈل ایسٹ  آج  تک کنفیوژن کا شکار ہے۔

تیسرا ڈرافٹ وہ تقریر ہے جو لیاقت علی خان نے  قانون سازاسمبلی میں 7 مارچ کو کی تھی ۔ "میں اقلیتوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر اقلیتیں  انسانی تعلیم اور سوچ میں حصہ داری کے قابل ہیں تو اس کا کریڈٹ پاکستان کو ملے گا اور اس سے قوم کی زندگی میں نکھار آئے گا۔ اسی لیے اقلیتوں کو آگے کا سوچنا چاہیے ۔ اپنی سوچ کو صرف آزادی  تک محدود رکھنے کی بجائے اکثریت کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی وقف کرنا چاہیے۔

سر، بہت سے معاملات میں اقلیتوں کو تحفظ کی ضرورت ہے ۔اس تحفظ کی فراہمی اس قرارداد میں شامل ہے۔  ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ وہ جس تکلیف میں ہیں یہ ان کی غلطی نہیں ہے۔ لیکن اب وہ ہمارے شہری ہیں  اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں دوسرے شہریوں کے برابر لائیں  تاکہ وہ بھی اپنے شہری ہونے کی حیثیت سے آزادانہ شہری اور ترقی یافتہ ریاست کا حصہ ہونے کی ذمہ داری نبھائیں۔      "

یہ سچ ہے کہ پاکستان نیشنل کانگرس  نے اس  قرارداد پر اعتراض کیا، لیکن ، دوسروں کے ساتھ، اسے سر ظفراللہ خان اور میاں افتخار الدین  کی حمایت حاصل تھی  جن کے بہت سے پیروکار تھے لیکن بعد میں  مذہبی اور سیاسی اقلیتوں کا حصہ بنے۔ اور یہ سب اپنے آپ میں لیاقت علی کی قرارداد مقاصد   کے بارے میں اچھی نیت کا ثبوت ہے۔

علاوہ ازیں لیاقت  علی خان نے یقین دلایا کہ قرار داد مقاصد آئین کا بنیادی حصہ نہیں بنے گی۔  یہ اور دوسرے الفاظ کی ردو بدل  ضیا الحق کے دور میں کی گئیں۔ اسی لیے یہ نا انصافی ہوگی کہ لیاقت علی خان کواس حد کے تجاوز کا  الزام دیا جوئے ، جو اس ڈکٹیٹر کا قصور ہے جن کی وجہ سے اور خرابی کے liaqat 1در کھلے ۔

تنقید گار جو بھی کہیں، لیاقت وہی تھے جو وہ تھے۔  وہی تھے جن کی وجہ سے پاکستان صنعت کاری کی راہ پر گامزن ہوا۔ مغربی ممالک جو پاکستان کی ناکامی کے منتظر  تھےانہوں نے پیسوں پر بھی مشینری اور پارٹس دینے سے انکار کر دیا۔ وہ پاکستان کو بھارت کے زیر اثر دیکھنا چاہتے تھے ۔اس کے با وجود لیاقت علی خان نے مشرقی یورپ سے  بھاری قیمت پر ضروری سازو سامان خریدا ۔سیشیر چندر گپتا نے  قانون ساز اسمبلی میں کہا: مشرقی بنگال اور کلکتہ کا تعلق کبھی نہ ٹوٹے گا لیکن  لیاقت نے یہ تعلق توڑ دیا۔

  انہوں نےتب  کرنسی کی تخفیف سے انکار کر دیا جب برطانیہ اور انڈیا نے  اپنی کرنسی کی قیمت کم کر دی۔ انڈیا نے کپاس کی نئی قیمت پر خریدنے سے انکار کر دیا تو وہ سیدھا کسانوں کے پاس گئے اور ان سے اپیل کی کہ  اسے پرانی قیمت پر مت بیچو۔انہوں نے کسانوں کو یقین دیلایا کہ اگر   ضرورت پڑی تو پاکستان کی حکومت ان سے سارا سٹاک خرید لے گی ۔ کولکتہ کی جیوٹ ملیں مشرقی بنگال کی جیوٹ کے بغیر نہیں چل سکتیں۔اور اسی لیے مالک جیوٹ  نئی قیمت پر خریدنے پر مجبور ہو گئے۔ کوریا کی جنگ کی وجہ سے ان بدلتے حالات میں اس فیصلے سے لیاقت علی خان نے بہت فائدہ اٹھایا۔  اور وہ ملک جسے کمزور اور بہت جلد ختم ہونے کا منتظر سمجھا جاتا تھا اب اس کی اہمیت دنیا کے سامنے آنا شروع ہو گئی۔

 1857 سے برطانیہ نے فوجیوں کی  بھرتی کرنے کے  کچھ معیار مقرر کر رکھے تھے۔ لیاقت صاحب نے انہیں رد کر دیا بنگالیوں کو پاکستان آرمی میں بھرتی کیا۔ اسی طرح مشرقی پاکستان سے صرف ایک ہی ICS آفیسر نورن نبی چوھدری تھا ۔ لیاقت خان نے مشرقی بنگال سول سرونٹس  کے لیے  فورا 50٪ کوٹا طے کیا اور برابری کی فضاء پیدا کی۔

لیاقت خان کے ناقدین زندہ رہے پر لیاقت نہ رہ پائے۔ وہ ایسے حالات میں فوت ہوئے کہ جن کی وجہ سے آج تک قاتل کا نام لینے کی کسی نے ہمت نہیں کی۔  ان کی زندگی اور کام نے تب  تنازعات پیدا کیے جب ایسے تنازعات کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ ان کی وفات بھی متنازعہ طریقے سے ہوئی جسے آج  تک کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔  وہ اس سےکئی زیادہ بہتر سلوک کے حق دار تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *