امریکہ کا کردار

روز اوّ ل سے ہی پاکستان کو مشرقnajam sethi میں بھارت اور مغرب میں افغانستان کے ساتھ مسائل کا سامنا رہا ہے ۔ کابل اسلام کے ساتھ ڈیونڈر لائن پر اتقاق نہیں کرتا ۔ دوسری طرف اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ لائن آف کنٹرول کو مستقل بارڈر تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان کے لیے کابل کے مطالبے کو تسلیم کرلینے کا مطلب فاٹا اور خیبرپختونخواہ کے کچھ حصوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔ بھارت کے لیے پاکستان کے موقف کو مان لینے کا مطلب جموں اور کشمیر کے کنٹرول کو ہاتھ سے گنوانا ہوگا۔ تاہم جدید ریاستیں علاقوں کو آسانی سے ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ چنانچہ ہر علاقائی کھلاڑی دھشت گرد پراکسی دستوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے حریف کو زک پہنچانے اور صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔
یہ وہ خطہ ہے جس میں امریکہ بھی اپنی موجودگی رکھتا ہے ۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ پاکستان کا اتحادی تھا۔ اس نے پاکستان کو معاشی اور فوجی امداد کے ذریعے سہارا دیا ۔ تاہم سوویت یونین کے انہدام کے بعد جب پاکستان کی امریکہ کے لیے افادیت ختم ہوگئی تو ان کے تعلقات میں تناؤ آ گیا ۔ امریکہ سرد جنگ کے دوران کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہا اور ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ سختی شروع کردی۔ اس کی وجہ سے ریاست اور معاشرے میں امریکہ مخالف جذبات ابھرنا شروع ہوگئے ۔اسلام آباد نے علاقائی تنہائی کے رد عمل کے طور پر افغانستان میں اپنی طرف جھکاؤ رکھنے والے طالبان کو حکومت قائم کرنے میں مدد دی ۔
نائن الیون نے ایک اور تازہ بساط سجا دی ۔ امریکہ نے طالبان پر حملہ کیا اورکابل پر پاکستان کی مخالفت کرنے والے بھارت نواز عناصر کی حکومت قائم کردی، اورپاکستان کو وارننگ دی : اگر تم ہمارے ساتھ نہیں ہوتو ہمارے مخالف ہو۔’’نہ پائے ماندن، نہ جائے رفتن ‘‘ کی سی صورتِ حال کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے فوری اور طویل المدت مفادات کے لیے ایک ’’دہراکھیل ‘‘ کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ القاعدہ کی دھشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی بن گیالیکن افغان طالبان کو فاٹا میں محفوظ ٹھکانے فراہم کردیے تاکہ وقت آنے پر کابل میں پاکستان کے ساتھ دوستانہ راوبط رکھنے والے طالبان کی حکومت قائم کی جاسکے ۔
اس کے نتیجے میں امریکہ نے کئی بلین ڈالر خرچ کرڈالے تاکہ کابل میں پاکستان مخالف حکومت کو مستحکم کیا جائے ، لیکن وہ اس کوشش میں ناکام رہا۔ طالبان بتدریج اپنی طاقت اور کنٹرو ل کو مستحکم کرتے رہے ، یہاں تک اب وہ افغانستان کے کم و بیش نصف کے قریب علاقوں کا کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ غنی حکومت اُن کے تابڑ توڑ حملوں کی زد میں ہے ۔ امریکہ کی افغان پالیسی پر اقتدار سنبھالنے والے مختلف صدر متفق نہ ہوسکے۔ جارج ڈبلیو بش کے دور میں امریکہ نے افغانستان میں بے پناہ مالی اور انسانی ذرائع جھونک دیے ۔ اس نے پاکستان سے ’’ڈومور ‘‘ کاتقاضا کرنا شروع کردیا۔ اوباما دور میں اس نے افغانستان سے بڑی تعداد میں فوجی دستے نکال لیے ۔ انخلا کی اس پالیسی نے طالبان کو قدم جمانے اور علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان پر ’’ڈومور ‘‘ کا دباؤ بڑھنے لگا۔ پاکستان افغانستان میں ’’وسیع تر مفاہمت ‘‘ کا مخالف نہیں ، کیونکہ اس کے نتیجے میں لہو رنگ خانہ جنگی ختم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ چاہتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ایسے حالات پر نہ ہو جو اس کے مفادات اور سکیورٹی کے لیے نقصان دہ ہوں۔ لیکن کابل، نئی دہلی اور واشنگٹن کسی طور پاکستان کی تشویش کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ۔
اس دوران علاقائی صورتِ حال خراب تر ہوتی جارہی ہے ۔ کابل پر طالبان کے حملے بڑھ رہے ہیں، داعش طالبان کا خون بہارہی ہے ۔ داعش کابل، اسلام آباد اور امریکہ، سب کی مخالف ہے ۔ دوسری طرف پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کے خلاف اپنے پراکسی دستے استعمال کررہے ہیں۔ اسلام آباد اور کابل ایک دوسرے کے مخالف انتہا پسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔۔۔ پاکستانی طالبان کو کابل پناہ دیتا ہے جبکہ افغان طالبان پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔ امریکہ پاکستان پر چلا رہا ہے ۔ چین کو چیلنج کرنے اور سی پیک کوسبوتاژ کرنے کے وسیع کھیل میں امریکہ بھارت کی پشت پناہی کررہا ہے ۔
پاکستان اس تمام صورتِ حال سے بے خبر نہیں ۔ اس کی سلامتی کو چیلنجز کا سامنا ہے ۔ کابل کی صورتِ حال پہلے ہی بہت دگرگوں ہے ، لیکن جب تک امریکہ اسے سہارا دیے ہوئے، یہ خانہ جنگی کابل حکومت کو نہیں گرا سکتی۔ لیکن اگر امریکی شہ پر نئی دہلی اور کابل مل کر پاکستانی ریاست کو کمزور کرنا شروع کردیں تو اس کا فائدہ صرف طالبان اور داعش کو ہوگا۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ، ریکس ٹلرسن حالیہ واشنگٹن سے اس خطے میں آئے تاکہ علاقائی مسائل کا کوئی ’’حل ‘‘ تلاش کیا جاسکے ۔ لیکن اُن کے پاس تازہ خیالات کا فقدان ہے ۔ نیز اُن کے پاس پاکستان اور افغانستان کو پیش کرنے کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ۔ اس لیے وہ ’’ڈومور ‘‘ کے مطالبے کو دہراتے دکھائی دیے ،ا ور پاکستان اس مطالبے کوبار ہا مسترد کرچکا ہے ۔
تواس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟ امریکہ کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اس نے خطے میں مسائل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اب اس کے سامنے دو آپشنز ہیں۔ یہ پاکستان کو تقویت پہنچاسکتا ہے کہ یہ افغان مسلے کا حل دریافت کرے تاکہ اسلام آباد اور کابل ایک دوسرے ساتھ مل کر چل سکیں، یا کم از کم ایک دوسرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے باز رہیں۔ اس صورت میں امریکہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ کابل اور نئی دہلی پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ پاکستان کو کام کرنے دیں۔ یا پھر وہ ایک مرتبہ پھر ’’ڈومور ‘‘ کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کرسکتا ہے ، حالانکہ ایسا کرنا پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے ۔ اس صور ت میں پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات مزید پروان چڑھیں گے اور انتہا پسند تنظیمیں اس صورت حال کو اپنے سیاسی مفاد میں ڈھالنے کی کوشش کریں گی۔ اس طرح مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کا خطہ امریکہ مخالف جذبات سے لبریز ہوگا۔
کابل اور اسلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعتماد باہمی کی فضاقائم کریں۔ یہ تب ہی ہوگا جب اسلام آباد افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرے گا، اور کابل پاکستانی طالبان کو اپنے ہاں پناہ نہیں دے گا۔ اس دوران پاکستان اور انڈیا کے لیے بھی اپنے تعلقات کو معمول پر لانا ضروری ہوگا۔ اور ایسا اسی صور ت میں ہی ممکن ہے جب وہ اپنے اپنے پراکسی دستوں کو لگام دیں۔ امریکہ کو اس تمام صورتِ حال میں پاکستان مخالف کھیل کھیلنے کی بجائے آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *