’’ میڈم یہ ریڈزون ہے اور یہاں کھسرے داخل نہیں ہو سکتے‘‘

trans 2عظمیٰ یعقوب
ٹرانس جینڈر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ پوری دنیا میں ہی غیر محفوظ ہیں ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ۔۔پہلی یہ کہ زیادہ تر لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ صنفی تنوع بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور دوسری کہ صنفی غیر جوڑی دار نظام بھی معاشرے میں کہیں موجود ہے۔
پاکستان میں سرے سے ہیجڑوں کے وجود کی ہی نفی کی جاتی ہے اسی چیز نے ان لوگوں کو بالکل کھڈے لائن لگا دیا ہے اور ساتھ ساتھ یہی چیز ان کی تذلیل کا سبب بھی ہے۔ان کو روزانہ ہی ہراساں کیا جاتا ہے، ان کی بے عزتی کی جاتی ہے اور ان کو صرف سیکس ورکر، ناچنے والا یا بھکاری سمجھا جاتا ہے۔
ان کے ساتھ اپنایا جانیوالا امتیازی سلوک یا ان کی بے عزتی ایک بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے اور کئی سالوں سے میں لوگوں کا ان کے ساتھ یہی رویہ دیکھ رہی ہوں چاہے وہ ہماری بڑھی لکھی ایلیٹ کلاس ہی کیوں نا ہو۔
اسی مہینے کے آغاز میں اپنی ساتھی ’’جولی‘‘ کے ساتھ سرینہ ہوٹل اسلام آباد میں ایک میٹنگ کے لئے جارہی تھی جس کیلئے ہمیں وہاں باقائدہ بلایا گیا تھا۔ہم دونوں نے الگ الگ ہوٹل پہنچنا تھا کیونکہ ہم مختلف سمتوں سے آرہے تھے اور مختلف ٹیکسیوں میں سوار تھے۔
جولی مجھ سے پہلے پولیس چیک پوسٹ پر پہنچ گئی وہاں نا صرف اُس کو گاڑی سے اُتارا گیا بلکہ اُس سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟سیکیورٹی کے حساب سے شائد یہ بات آپ کو ٹھیک لگے لیکن عجیب بات یہ تھی کہ پولیس اہلکار جولی کو مرد کے طور پر مخاطب کر رہاتھا جبکہ اُس کی سارا لباس اور تیاری عورتوں والی تھی اور ساتھ ساتھ ایسے حقارت آمیز جملے بھی استعمال کر رہا تھا کہ دیکھو اب سرینہ والوں نے کھسروں کو بھی ہوٹل بلانا شروع کر دیا ہے اور بعد میں اُس کو وہاں سے واپس جانے کو کہا گیا کہ اُس کو ہوٹل جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
جب تک میں خود چیک پوسٹ پہنچی تو مجھے ایک ڈری سہمی جولی سے ساری صورتحال کا پتہ چلا۔ میں نے اُس کو کہا کہ وہ میری گاڑی میں بیٹھ جائے تاکہ ہم ملاقات کے لئے ہوٹل پہنچ سکے لیکن پھر ہمیں اُسی پولیس چیک پوسٹ پر اُسی اہلکار نے روک دیا۔جب میں نے پوچھا کہ آخر مسئلہ کیا ہے تو وہ بولا ’’ کہ یہ ریڈزون ہے اور یہاں کھسرے نہیں جا سکتے‘‘۔ساتھ ہی اُس نے ہمارے ٹیکسی ڈرائیور کو دھمکی بھی دی کو وہ ہمیں واپس لے جائے نہیں تواُس کو جرمانہ کر دیا جائے گا۔
ہم واپس ہو لئے اور یو ٹرن سے دوبارہ مڑ کر آئے لیکن پھر ہمیں روک دیا گیا۔اب کی بار اہلکار غصّے میں مجھے مخاطب کر کے بولا’’ تم جیسی عورتوں( شائد وہ مجھے کوئی دلال سمجھ رہا تھا)نے کاروبار کے نئے طریقے ڈھونڈ لئے ہیں‘‘۔
اس وقت تک جولی کی آنکھیںآنسوؤں سے بھر چکی تھیں اور وہ مجھے بار بار کہہ رہی تھی کہ ’’آپی واپس چلتے ہیں، ہماری تو قسمت میں یہ بے عزتی ہے آپ اپنے آپ کو مشکل میں نہ ڈالیں‘‘۔
میں نے جولی کو ہمت دلائی کہ یہ مسئلہ اُس کا نہیں بلکہ انسانیت کی عزت کا ہے اسلئے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔میں نے اُس علاقے کے ایس ایچ او کو کال کی اور ساری بات بتائی کہ کس طرح ہم ایک ایسی جگہ نہیں پہنچ پا رہے جہاں ہمیں بلایا گیا ہے۔اُس نے ہم سے معافی مانگی اور ہم سے ہماری ٹیکسی کا نمبر لے کر ہمیں واپس چیک پوسٹ پر جانے کو کہا۔ہم اُسی جگہ واپس گئے اور ایس ایچ او کی دخل اندازی کے بعد ہمیں آگے جانے دیا گیا۔
لیکن جولی کے لئے تو یہ ابھی بے عزتی کا آغاز تھا۔جیسے ہی ہم سیکیورٹی ایریاکی پارکنگ میں پہنچے وہاں موجود لوگوں اور سٹاف نے جولی کو گھورنا شرع کر دیا جیسے اُس نے کوئی ناجائز چیزُ ا ٹھارکھی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ وہ سرینہ میں کیا کر رہی جیسے وہ ہضم ہی نا کر پارہے ہوں کہ اُس کو بھی کوئی یہاں بلا سکتا ہے۔جب ہم مین ہال میں پہنچے تو وہاں ہمیں دوبارہ روکا گیا اور ایک سیکیورٹی اہلکار نے جولی سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ میرے ساتھ ہے اس لئے کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے بات کرو۔ اس کے جواب میں اہلکار بولا کہ ’’ میڈم ان کی کوئی ڈانس پرفامنس ہے کیا؟‘‘میں نے جواب دیا ’’ پرفامنس تو ہم دونوں کی ہے لیکن ہم پرفامنس کے پیسے لیتے ہیں تمھارے پاس پیسے ہیں دینے کے لئے؟‘‘
یہ جواب میں نے اُس کو شرمندہ کرنے کے لئے دیا تھا لیکن اصل میں تو خود شرمندہ ہوگئی تھی کہ جولوگ خود ہیجڑے نہیں ہیں وہ جولی کے ساتھ کس طریقے کا برتاؤ کر رہے ہیں۔اتنا بھی شائد کافی نہیں تھا اسلئے جتنا ٹائم ہم ہوٹل میں رہے لوگ ہمیں گردنیں موڑ موڑ کر دیکھتے رہے اور جولی کو عجیب نظروں سے گھورتے رہے۔ یہ سب دیکھ کر جولی نے مجھ سے کہا’’ آپی جو لوگ ہائی کلاس جیسے نہیں ہوتے ہائی کلاس اُن سے اس طرح کا برتاؤ کرتی trans 1ہے؟‘‘
وہ حیران ہو رہی تھی کہ سرینہ میں ایسا بھی کیا خاص ہے،یہاں امیر لوگ اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ گھوم سکتے ہیں ، لڑکے شاڑت نیکرپہن سکتے ہیں اور عورتیں مہنگے ڈیزائنر لباس، لیکن ان سب چیزوں سے یہاں کی انتظامیہ کو کوئی مسئلہ نہیں، اُن کو مسئلہ ہے تو صرف جولی نام کی ایک عورت سے۔
ہر تحریک کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور کوئی بھی کامیابی کوشش کے بغیر نہیں ملتی۔ لیکن ٹرانس جینڈر لوگوں کے لئے چلائے جانے والی تمام تحاریک، جن میں ان لوگوں کو عزت دلانے کی بات کی جاتی ہے، کا کوئی نتیجہ نکلنا مشکل ہے جس کی وجہ روز مرہ زندگی میں ان لوگوں کو اس حد تک بے عزت کئیے جانا ہے۔صنف کا کردار اس قدر غیر لچک دار ہے کہ خالی ہیجڑا کہنے سے ہی ہمارے صنفی معیار پسند معاشرے کی تذلیل ہو جاتی ہے۔ہم سب لوگوں کو اپنے دماغ میں پہلے سے موجود خاکوں میں ڈھالنا چاہتے ہیں اور جواُن میں نہیں ڈھلتے اُن کو لے کر ہم transphobicہو جاتے ہیں۔
جہاں تک ان لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کا سوال ہے اُس سلسلے میں پاکستان بالکل صحیح سمت میں اقدام اُٹھا رہا ہے۔ہم نے اُن کو پڑھنے لکھنے کے، روزی کمانے کے ، اپنا شناختی کارڈ بنوانے کے اور اب تو جینڈر نیوٹرل پاسپورٹ تک بنوانے کی آزادی دی ہے۔لیکن کیا یہ سب کافی ہے؟ کیا ہم سچ میں انسانیت کی دوڑ میں اس قدر پیچھے ہیں کہ صرف کسی کو تعلیم دینا یا اُس کا شناختی کارڈ بن جانا ہی ہمارے لئے تعریف کی بات ہے؟اور تب جب اُن کو بنیادی انسانی عزت اور احترام کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا۔
یہ ہیجڑے جہان بھی جائین چاہے وہ سرینہ ہوٹل ہو یا پشاور کا ہسپتال ، انہیں ہر جگہ بے عزت ہی کیا جاتا ہے۔آپ کو علیشہ یاد ہے؟ جس کو صرفٹرانس جین ڈر ہونے کی وجہ سے ناصرف چھ گولیاں ماری گئیں بلکہ اُس کا علاج بھی ہسپتال میں باتھ روم کے آگے لٹا کر کیا گیا۔پاکستان خود اپنے کندھے کو تھپتھپا کر اپنے آپ کو ترقی پسند ظاہر کر سکتا ہے لیکن جب تک ٹرانس جینڈر صرف ’’ کھسرے‘‘ تک محدود رہیں گے تب تک ہمیں صرف شرمندہ ہونا چاہئیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *