جوڑے

1

جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں یا زمین پہ بنائے جاتے ہیں اس سے ماوراء ہو کر یہ خیال بہت اہم ہے کہ جوڑے دیر پا اور مثبت پہلوؤں کے حامل ہونے چاہیئں کہ جوڑے بننے بنانے والوں کی جلر بازی میں افراد نہ جھلس جائیں، ایک رشتہ ہوتا ہے تو دو انسان نہیں دو زندگیاں نہیں کئی نسلیں ساتھ جڑتی ساتھ چلتی ساتھ جیتی اور ساتھ مرتی ہیں لیکن یہ کون سوچتا ہے کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اور جس قدر محبت سے گزاری جا سکے وہ غنیمت ہے اور اس غنیمت کا انکار کرنے والے کیسے خوش رہ سکتے ہیں

ہم نے افراد پیدا کیے انسان نہیں اور افراد یا صرف طاقت کےلیے استعمال ہوتے ہیں یا پھر گنتی کے لیے نہ کہ جذبات کے لیے ، ہم احساس سے عاری نسلیں پیدا کرنے والے لوگ صرف نسلیں بڑھانا جانتے ہیں لیکن نسلوں کو انسانی معاشرے نہ بنا سکے ہم نے ہر دور دیکھا ہر زمانہ دیکھا زوال دیکھا کمال دیکھا دیوار کی دوری دیکھی در کی دستک دیکھی جانیں لے کر دیکھیں جان دے کر دیکھی لیکن ہم نہ بن سکے تو با شعور نہ بن سکے اور میں اس دکھ کو کہاں تک بیان کروں

لوگ کہتے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ انسانی بقا کا ہے اور میں تو سمجھتی ہوں کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ محبت کی بقا کا ہے انسانی احساسات و جذبات کی بقا ہے انس و رواداری کی بقا کا ہے معاشرتی اخلاقیات کی بقا ہے لیکن یہ مرے سمجھنے سوچنے لکھنے یا چیخنےسے کیا ہو جائے گا کچھ بھی نہیں ،ہم ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ اپنی چال ڈھال بدلنے والے لوگ خود اپنا راستہ کہاں بنا سکتے ہیں

کہا جاتا ہے کہ لڑکی کا رشتہ جب کسی اچھے لڑکے سے ہو تو وہ ویسی ہو جاتی ہے چاہے اس کا ماضی کیسا بھی رہا ہو کس ماحول میں رہی ہو ، لیکن آج کل دیکھا جائے تو جس حد تک طلاق کا مسئلہ بڑھ رہا ہے تو یہ حالت تشویشناک ہے اور اس میں صرف لڑکی کو قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں، ہم نے اپنے لڑکوں کی ایسی تربیت کی جو ایک گھر کو گھر بنانا جانتے ہوں؟ جو عورت کو جلد باز تو کہتا ہے لیکن خود اس سے زیادہ عدم برداشت کا شکار ہے، جو عورت کو کم عقل تو کہتا ہے لیکن خود دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کرتا جو عورت کو کم تر تو ثابت کرنا چاہتا ہے لیکن خود اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت نہیں دیتا

ہمیں سوچنا ہو گا کہ اچھے رشتے نہیں بن رہے جو بھی جوڑے بن رہے ہیں وہ اچھے ثابت نہیں ہو رہےتو اس میں قصور کس کا ہے؟ نکاح خواں کا ؟ لڑکی کا؟ لڑکے کا؟ سسرال کا یا میکے کا؟ یا پھر ذمہ داری آسماں پہ ڈال دی جائے، میں بتاتی ہوں قصور تربیت کا ہے، ہم نے لڑکی کو جس طرح تربیت دینی تھی وہ بھی نہ دے سکےاور جو ہم نے لڑکے کو جوان مردی سکھانی تھی وہ بھی نہ سکھا سکے، ذرا ذرا سی بات پہ لڑائی اور اس پہ خاندانی معاملات، زندگی کو اجیرن بنا دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں لیکن ہم سمجھ نہیں سکے کہ ان سب معاملات کو ہم پہلے سے کیوں طے نہیں کرپاتے جن کی وجہ سے دو گھر آگ میں جل رہے ہیں ہم یہ کیوں سمجھ نہیں پاتے کہ دو جانور بھی ایک کیل کے ساتھ نہیں باندھے جا سکتے تو دو انسان جن کی ذہنی ہم آہنگی نہیں جن کے مزاج میں بہت زیادہ فرق ہے جن کے رہن سہن میں تضاد ہے جن کو ایک دوسرے کی عادات سے مسائل ہیں مختلف سوچنے والے ذہن کیسے اکٹھے رہ سکتے ہیں جب تک ان کی دلی و ذہنی ہم آہنگی نہ ہو

محبت کی شادی ہو یا گھر والوں کی پسند، انجام ایک جیسا نظر آتا ہے، طلاق نہ ہو تو دو دل جلتے جلتے زندگی گزارتے ہیں، خاندان کی عزت ماں باپ کی باتیں معاشرے کی روایتیں، سب کو برداشت کر بھی لیں تو عمر بھر ایک ایک کونے میں پڑے رہنے والے آہیں بھرتے بھرتے اپنی اگلی نسلوں کے لیے قربانی دے جاتے ہیں اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ پوری عمر برباد کر کے بھی اگلی نسل کے لیے نہیں سوچتے کہ جو ہمارے ساتھ ہوا وہ ہماری اولاد کے لیے نہ ہو لیکن ہم کہاں سدھرنے والے لوگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *