مسئلہ جنسی نہیں معاشرتی ہے

tariq ahmed

ہمارے محلے میں ایک جنرل اسٹور تھا۔ اس اسٹور کو ایک بزرگ چلاتے تھے۔ ستر بہتر سال کے ھوں گے۔ اور جیسا ھمارے معاشرے میں ھوتا ھے۔ جب انسان بوڑھا ھونے لگتا ھے۔ اور اس کے جسمانی قوی کمزور پڑنے لگتے ھیں۔ تو روائتی طور پر اس انسان کے چہرے پر داڑھی اگ آتی ھے۔ سر پر ٹوپی پہننے لگتا ھے۔ مسجد کے چکر لگنا شروع ھو جاتے ھیں۔ وہ خاندان اور برادری کے بڑوں میں شامل ھو جاتا ھے۔ اور مشورے دینے لگتا ھے۔ تو ان صاحب نے بھی اپنی بودوباش کچھ ایسی ھی کر رکھی تھی۔ ھم تب کچھ امتحانات کی تیاری کیا کرتے تھے۔ اور دماغی ٹینشن ختم کرنے اور ریلیکس ھونے کے لیے کبھی کبھار سگریٹ کا کش لگا لیتے تھے۔ اچھا یہ بھی ایک کلیشے ھے۔ کہ سخت سٹڈی کے دوران سگریٹ اور چائے سکون پہنچاتی ھے۔ جیسے بوڑھا ھونے پر ایک خاص قسم کی بودوباش بطور ایک سماجی کلیشہ ضرورت بن جاتی ھے۔ ورنہ لوگ کہتے ھیں۔ بابے کی عمر دیکھو اور اس کے لچھن دیکھو۔ یعنی بندہ خود بوڑھا کم ھوتا ھے۔ سوسائٹی کی ڈیمانڈ اسے زیادہ بوڑھا کر دیتی ھے۔ اور پھر وہ بوڑھا سوسائٹی کی اس منافقانہ کلیشانہ بازی کا انتقام اپنے الٹے سیدھے اخلاقی و مزھبی مشوروں سے لیتا ھے۔ ھمارے بہت زیادہ مولوی پن کے پیچھے بھی کچھ یہی صورت حال ھے۔
ھم یہ اکا دکا سگریٹ نوشی عموما اس اسٹور پر جا کر کرتے۔ جتنی دیر تک سگریٹ ختم ھوتا۔ ان حضرت صاحب سے بات چیت چلتی رھتی۔ ان کو ھم چوھدری صاحب کہتے۔ آہستہ آہستہ ھماری ان چوھدری صاحب سے بے تکلفی بڑھتی گئی ۔ اور ھم کچھ نازک معاملات پر خاصی سہولت اور رسانی سے گفتگو کرنے لگے۔ چوھدری صاحب نے عملی طور پر ھمیں اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا۔ اور انہوں نے اپنا یہ فرض منصبی سمجھ لیا تھا۔ کہ وہ کچھ خاص مسائل میں ھماری تربیت اور راہنمائی فرماتے رھیں گے۔ ھمارے معاشرے میں ایسی سرپرستی اور راہنمائی بھی ایک کلیشے کی شکل اختیار کر چکی ھے۔ ایک دن ھم نے سگریٹ کا کش لگاتے ھوے چوہدری صاحب سے پوچھا۔ چوھدری صاحب آپ کا دل تو کرتا ھو گا۔ چوھدری صاحب نے ایک لمبا سرد سانس کھینچتے ھوے کہا۔ دل تو بہت کرتا ھے۔ لیکن جسمانی قوی جواب دے گئے ہیں ۔ چناچہ صبر کرنا پڑتا ہے ۔ ھم نے ایک اور کش لگایا اور مسکرا کر پوچھا۔ صبر کے علاوہ کیا کرتے ھیں چوہدری صاحب ۔ کیا کرنا ھے۔ آتے جاتے لوگوں کو دیکھ کر دل خوش کر لیتا ھوں ۔ ھم نے قہقہہ لگایا ۔ یعنی ٹھرک پوری کر لیتے ھیں ۔ چوھدری صاحب نے مسکرا کر آنکھ ماری۔ اور بات ختم ھو گئ۔ لیکن اگلی نشست میں بات کچھ زیادہ ھی بڑھ گئی۔ ھم نے چوھدری صاحب سے پوچھ لیا۔ بچپن کی کوئی مست یادیں ھی شئیر کریں ۔ دور خلا میں گھورتے ھوے چوھدری صاحب نے جواب دیا۔ ھم گاوں کے رھنے والے ھیں۔ اور تمہیں تو معلوم ھے۔ دیہاتوں میں زیادہ تر ایک ایک دو دو کمروں کے گھر ھوتے ھیں ۔ اور پورا گھرانہ عموما ایک ھی کمرے میں سوتا ھے۔ چناچہ اکثر رات کو کچھ مخصوص آوازوں سے میری آنکھ کھل جانی۔ اور میرا دل دھڑکنے لگتا۔ وہ آوازیں اور وہ جذباتی ابھار آج بھی میرے تحت الشعور میں بیٹھا ھے۔ بات خاصی سنجیدہ ھو گئ تھی۔ ھم نے ھنس کر کہا۔ چوھدری صاحب ھمارے دیہاتوں میں پاکستان کی اسی فیصد آبادی رھتی ھے۔ تو کیا پھر پاکستان کی اسی فیصد آبادی اپنے تحت الشعور میں چھپے اسی گلٹ کے ساتھ زندہ ھے۔ چوھدری صاحب اس دن موڈ میں تھے۔ فرمانے لگے۔ شہروں کے غریب اور عسرت ذدہ علاقوں کے متعلق کیا خیال ھے۔ یہ لوگ بھی تو ایک ایک کمرے کے گھروں میں رھتے ھیں۔ اور کچن مسائل سے لے کر خانگی معاملات دن رات اسی ایک کمرے میں نپٹاے جاتے ھیں۔ اور بچوں کی تانک جھانک اور جذباتی مدوجزر جاری رھتا ھے۔ اور یہ جو میاں بیوی اب اکٹھے سوتے ھیں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو الگ کر دیتے ھیں۔ اس کے اثرات پر بھی کبھی غور کر لینا۔ ھم نے کچھ غصے سے کہا۔ چوھدری صاحب ھمیں اخلاقی اور مزھبی تربیت پر زور دینا چاہیے ۔ اور تزکیہ نفس کرنا چاھیے ۔ چوھدری صاحب نے مسکرا کر جواب دیا۔ خدا قریب ھے یا گھسن قریب ھے۔ اور میں تمہیں بتاؤں ۔ یہ مزھبی اور اخلاقی مسائل صرف مڈل کلاس کا مسئلہ ھے۔ جو اپنی پری کنڈیشن کی وجہ سے مستقل ضمیر کی خلش کا شکار ھو چکی ھے۔ جبکہ اپر کلاس اور لوئر کلاس کے ایسے جنسی اور اخلاقی مسائل نہیں ھیں۔ ایک کلاس اپنے اونچے لائف اسٹائل میں مست ھے۔ جبکہ لوئر کلاس اپنی تنگ دستی اور غربت میں حال مست ھے۔ یہ مڈل کلاس کا ضمیر ھے۔ جو ھاتھ میں نیکی اور بدی کی مہریں پکڑ کر بیٹھی ھے۔ اور دھڑا دھڑ ٹپھے لگا رھی ھے۔ ھم نے غصے سے کہا۔ یہ زیادتی ھے۔ ھمیں برائ کو برائی کہنا چاھیے ۔ اور اسے سختی سے روکنا چاھیے۔ چوھدری صاحب نے ھنس کر کہا۔ یہی تو اصل مسئلہ ھے۔ اور یہی طالبانی سوچ ھے۔ ھم معاشرتی معاملات کو اخلاقی اور مزھبی طریقوں سے حل کرنا چاہتے ھیں۔ اپنے ضمیر کو دوسروں پر مسلط کرتے ھیں۔ ھم نے ان صدیوں میں علماء اور مولوی زیادہ پیدا کیے ھیں۔ جو نسل در نسل ھماری اخلاقی اور مذہبی تربیت فرما رھے ھیں۔ اس مسلسل جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا ھے۔ آج ھماری سوسائٹی اخلاقی منافقت ، رنگ بازی ، پونڈی، ٹھرک بازی اور لونڈا بازی میں اعلی مقام حاصل کر چکی ھے۔ آخر ھم کب تسلیم کریں گے۔ ھماری سوسائٹی کے کچھ سماجی ، معاشرتی، نفسیاتی اور جذباتی اور معاشیج مسائل ھیں ۔ جنہیں انہی مسائل کی روشنی میں سمجھنا اور حل کرنا بہت ضروری ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *