مال روڈ پر ’’طاقت کا مظاہرہ؟‘‘

rauf tahir

کھودا پہاڑ...‘‘ والا محاورہ تو شاید مناسب نہ ہو لیکن ''ْقطرۂ خون‘‘ والا شعر عرض کرنے میں کوئی حرج نہیں ؎
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا
28 جولائی والے فیصلے کے بعد سیاسی اُفق پر نیا منظر تھا۔ وزارت عظمیٰ سے معزولی کے بعد نوازشریف فیملی کو اب نیب مقدمات کا سامنا تھا‘ پے در پے پیشیاں۔ جی ٹی روڈ مارچ کے بعد حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں فتح مسلم لیگ (ن)کے ورکر اور ووٹر میں نئے اعتماد اور حوصلے کا باعث بنی تھی۔ ''اکیلی لڑکی‘‘ نے دیدہ و نادیدہ مشکلات کے باوجود یہ جنگ جیت لی تھی۔
نئی سیاسی بساط پر اب نیا کھیل تھا‘ ایسے میں کینیڈا والے ''شیخ الاسلام‘‘ کیوں پیچھے رہتے؟۔ وہ بھی گدلے پانی میں مچھلی پکڑنے کیلئے تشریف لے آئے‘ بعض ستم ظریفوں کے بقول ویسے بھی ان دنوں کینیڈا میں سردی بلا کی ہوتی ہے ‘ درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بھی کہیں نیچے ۔اِدھر پاکستان میں موسم ''خوشگوار‘‘ جس سے فائدہ نہ اٹھانا‘ لطف اندوز نہ ہونا کفرانِ نعمت ہوتا۔ اُدھر ''لبیک‘‘ والے مولانا خادم حسین رضوی کی صورت میں نئی قیادت اُبھر آئی تھی۔ ایسے میں منظر سے غائب رہنا ''شیخ الاسلام‘‘ افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔
شہداء ماڈل ٹائون کے خون کا پرچم‘ ساڑھے تین سال سے ''شیخ الاسلام‘‘ کے پاس موجود (اور محفوظ) ہے‘ جسے وہ حسبِ ضرورت نکالتے اور بلند کر دیتے ہیں۔ لیکن اس بار وہ اسے ''اجتماعی اونرشپ‘‘ کے سپرد کرنا چاہتے تھے‘ جس کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اگست 2014ء کے دھرنے کے وقت سانحۂ ماڈل ٹائون تازہ تھا‘ شہدا کے کفن بھی میلے نہیں ہوئے تھے لیکن تب صرف عمران خان اور چوہدری برادران ''شیخ الاسلام‘‘ کے حامی و ہمنوا تھے۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت پارلیمنٹ میں موجود دیگر تمام جماعتیں دونوں کے دھرنوں کو جمہوریت کیخلاف سازش قرار دے رہی تھیں۔ جناب سراج الحق نے تو جمہوریت کو بچانے کے لیے ''جرگہ‘‘ بھی تشکیل دے دیا تھا‘ جس میں زرداری صاحب کے دستِ راست رحمن ملک شانہ بشانہ ہوتے۔ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے جمہوریت کے حق میں اپنے واشگاف موقف کے باعث عمران خان سے ''نوازشریف کے مُنشی‘‘ کا خطاب پایا۔
2014ء کے دھرنے سے قبل کینیڈا سے روانہ ہوتے ہوئے ''شیخ الاسلام‘‘ پاکستان میں گلے سڑے نظام کو اکھاڑ پھینکنا ہی اپنی زندگی کا واحد مقصد قرار دے رہے تھے ''جس کے لئے تین چار ہزار افراد کی شہادت کوئی بڑی قیمت نہیں ہو گی‘‘۔ مزید فرمایا‘ میں نے کشتیاں جلا دی ہیں‘ اپنی بنیان اور جرابیں تک‘ سب کچھ سمیٹ کر پاکستان جا رہا ہوں۔ ان کی پاکستان آمد سے چند روز پہلے ہی ماڈل ٹائون کا سانحہ ہو چکا تھا‘ ''انقلاب‘‘ کی تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے چودہ لاشیں موجود تھیں ...اسلام آباد کے دھرنے میں‘ ایک روز کفن لہرایا‘ ''یہ نوازشریف کے اقتدار کا کفن ہے‘ وہ بچ گیا تو یہ کفن میں پہن لوں گا‘‘۔ خواتین سسکیوں سے رونے لگیں تو فرمایا ''مجھے تمہارے آنسو نہیں‘ خون کے قطرے چاہئیں۔‘‘ پھر قبریں کھودی جانے لگیں۔ پی ٹی وی پر قبضہ ہوا۔ ''انقلابیوں‘‘ کا ایک دستہ پرائم منسٹر ہائوس کے مین گیٹ کی طرف بڑھا۔ ''شیخ الاسلام‘‘ فرما رہے تھے ''ہم تمہیں قذافی بنا دیں گے۔‘‘ جنرل راحیل شریف سے ملاقات دونوں کیلئے مایوسی کا باعث تھی۔ ''شیخ الاسلام‘‘ نے یہ کہہ کر دھرنا اٹھانے کا اعلان کر دیا کہ ابھی اللہ تعالیٰ کو نوازشریف حکومت کا خاتمہ منظور نہیں۔
اب ساڑھے تین سال بعد شہداء ماڈل ٹائون کے قصاص کیلئے ''شیخ الاسلام‘‘ نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جس میں جناب سراج الحق بھی شریک ہوئے‘ کراچی سے مصطفی کمال تشریف لائے‘ گیارہ مئی 2007ء کو چیف جسٹس کی آمد پر کراچی میں پچاس افراد یوں گولیوں کا نشانہ بنائے گئے جیسے چڑیوں کا شکار کیا جاتا ہے‘ پھر بلدیہ ٹائون فیکٹری کا سانحہ جس میں اڑھائی سو کے لگ بھگ خواتین اور بچے زندہ جلا دیئے گئے۔ تب جناب مصطفی کمال اسی ایم کیو ایم کی لیڈرشپ کا حصہ تھے...اور اب دامن پر انہی داغوں کے ساتھ وہ شہدائے ماڈل ٹائون کا قصاص لینے لاہور تشریف لے آئے تھے۔ جنابِ زرداری دو بار ''شیخ الاسلام‘‘ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تیسری ملاقات کے لیے خود ''شیخ الاسلام‘‘ لاہور کے بلاول ہائوس تشریف لے گئے۔ عمران خان بھی شیخ کے آستانے کا چکر لگا آئے تھے۔
تحریک کے خدوخال تراشنے کیلئے ایکشن کمیٹیاں اور سٹینڈنگ کمیٹیاں بن رہی تھیں‘ جناب شیخ کا تازہ فرما ن تھا‘ معاملہ شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ کے استعفوں سے آگے نکل گیا ہے‘ اب مسلم لیگ (ن)ہمارا ہدف ہے‘ یہ جہاں جہاں بھی ہے‘ اس کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔
اِسی دوران قصور میں معصوم زینب کا سانحہ بھی رونما ہو چکا تھا۔ لاہور سے آدھ‘ پون گھنٹے کی مسافت پر بلھے شاہ کا شہر بدترین ہنگاموں کی زد میں تھا۔ بدقسمت زینب کے والدین عمرہ کیلئے سعودی عرب میں تھے‘ جنازہ ان کی واپسی پر ہونا تھا‘ لیکن جناب شیخ ان کی آمد سے پہلے ہی جنازہ پڑھانے کیلئے قصور جا پہنچے تھے۔ اب معصوم زینب کا قصاص بھی شہدائے ماڈل ٹائون کے قصاص میں شامل ہو گیا تھا۔
17 جنوری'' تحریک قصاص‘‘ کا نقطۂ آغاز قرار پایا‘ ہائیکورٹ کی طرف سے مال روڈ پر جلسے جلوسوں کی ممانعت کا حکم پہلے سے موجود تھا۔ اب ایک نئی عرضی بھی ڈال دی گئی۔ لیکن قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرنے والوں کو اس کی کوئی پروا نہ تھی۔ ویسے تو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے ''اشتہاری‘‘ قرار دیئے جانے کوبھی جناب شیخ نے کوئی اہمیت نہ دی(''اشتہاری‘‘ قرار پانے کے بعد شیخ کے کزن نے عدالت میں حاضر ہو کر ضمانت کرا لی تھی لیکن شیخ نے اس ''تکلف‘‘ کی ضرورت بھی محسوس نہ کی)۔
لاہور کی مال روڈ اور اس سے ملحقہ بیڈن روڈ اور ہال روڈ وغیرہ شہر کے اہم اور مصروف ترین کاروباری مراکز ہیں جو گنجان ترین رہائشی علاقوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ نسبت روڈ‘ گوالمنڈی‘ مزنگ یہاں سے ''پیدل فاصلے‘‘ پر ہیں ۔ ''اندرونِ شہر‘‘ بھی زیادہ دور نہیں۔ ذرا سی ہمت کے ساتھ ساندہ اور کرشن نگر سے بھی پیدل آیا جا سکتا ہے۔ یہ بیشتر علاقہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کے حلقہ 120 میں آتا ہے۔ یہاں ایک گھر سے ایک بندہ بھی آ جاتا‘ تو مال روڈ پر کرسیوں کے بغیر ہی دوردور تک انسانوں کا ہجوم ہوتا۔ رانا ثناء اللہ کے اس دعوے میں تو ''مبالغہ‘‘ ہے کہ جلسہ گاہ میں لاہور والوں کی تعداد 200 سے زیادہ نہ تھی‘ لاہورئیے ڈیڑھ دو ہزار تو ہوں گے۔ البتہ باقی آٹھ‘ دس ہزار کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ بیرونِ لاہور سے لائے گئے تھے۔ہائیکورٹ نے شب 12بجے تک اجاز ت دی تھی لیکن یہ شو دو‘ سوا دوگھنٹے قبل ہی اختتام کو پہنچ گیا۔
اس کھیل کا مین آف دی میچ ''شیخ الاسلام‘‘ نے فرزند لال حویلی کو قرار دیا‘ لیکن ہمارے خیال میں اصل ''بینفشری‘‘ سب پر بھاری‘ جناب زرداری رہے...برسوں سے لاہور میں پیپلز پارٹی کا خاتمہ بالخیر ہو چکاتھا۔ ایاز صادق والے حلقے (122) کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے بیرسٹر عامر حسن جیسا پڑھا لکھا امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کر سکاتھا۔ اور معزول وزیراعظم والے حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی پورا زور لگا کر اور جناب کائرہ کی پنجابی زبان میں پرجوش تقاریر کے باوجود صرف ڈیڑھ ہزار ووٹ حاصل کر پائی۔ دلچسپ بات یہ کہ دونوں بار پارٹی کی انتخابی مہم میں بھٹو صاحب‘ بینظیر اور بلاول کی تصاویر تو تھیں۔ نہیں تھی توزرداری صاحب کی تصویر نہیں تھی۔اب 17جنوری کو وہ لاہور میں منظرِ عام پہ آئے اور جاتے ہوئے اپنے سامعین بھی ساتھ لے گئے۔ پیچھے عمران خان کے لئے بڑی تعداد خالی کرسیوں کی تھی اور ہمارے خیال میں یہی خالی کرسیاں ''طاقت کے مظاہرے‘‘ میں اہم ترین خبر تھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *