خوش آمدید صوفی محمد

syed tallat hussain

جس شخص کو سوات طالبان کی تحریک کے بارے میں معلوم ہے وہ صوفی محمد کی رہائی اور پھر انہیں ٹی وی سکرین پر درس دیتے ہوئے دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا ہو گا۔ صوفی محمد نے دیر اور مالاکنڈ میں اپنی نفاذ اسلام کی تحریک چلا رکھی تھی جس کے تحت بہت سے لوگوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ ان کی چھوٹی خواہشات میں سے ایک یہ تھی کہ ٹریفک دائیں سائیڈ چلنی چاہیے اور بڑی خواہشات یہ تھیں کہ پاکستان میں جمہوری نظام کو ہٹا کر نظام خلافت کو رائج کیا جائے جس کا مطالبہ کچھ سال بعد جنید بغدادی نے داعش کی جماعت کے سربراہ کے طور پر دہرایا۔

ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے بعد صوفی محمد نے بہت سے نوجوانوں کو بہکا کر افغانستان جنگ میں حصہ لینے بھی بھیجا لیکن انہیں خود افغانستان میں رہنے کا موقع نہ ملا اور انہوں نے سوات میں آ کر سوات طالبان گروپ کی سربراہی کا کام اپنے سر لیا اور ان کے داماد فضل اللہ نے عسکری گروپ کی قیادت کا آغاز کیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے لیکن قتل و غارت کی یہ تاریخ اس قدر پرانی ہو چکی ہے کہ اب صوفی محمد جیسے دہشت گردوں کو تائب انسان کے طور پر متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ اب عدالت سے انہیں ضمانت دی گئی ہے اور وہ آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں اور میڈیا پر پاکستانی فوج کی حمایت اور حب الوطنی کا چورن بیچنے لگے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد نہیں آ رہا کہ ان کے جرائم کیا ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے مسلح بریگیڈ نے کیسے ہمارے ملک کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا اور پھر فوج کو طاقت کے زور پر وہ علاقہ واپس حاصل کرنا پڑا۔

مالاکنڈ، باجوڈ، مہمند، ساوتھ وزیرستان اور دوسری فاٹا ایجنسیون میں جو دہشت گردی شروع ہوئی وہ ہمارے لیے بحیثیت قوم سر جھکا دینے والا واقعہ تھا۔ یہ بات بہت شرمناک تھی کہ ریاست پاکستان نے اپنا علاقہ دہشت گردوں کے ہاتھوں کھو دیا اور وہاں کے عوام کو قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اس کے بعد یہ بات ہمارے لیے قابل فخر تھی کہ ہماری فوج نے زبردست آپریشن کے ذریعے ان تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا۔ ایک بڑا موقع ہماری تاریخ کا یہ تھا کہ ہمیں لاکھوں لوگوں کو سوات اور آس پاس کے علاقوں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا اور پاکستان بھر کے عوام نے ان بے گھر لوگوں کے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔

مالاکنڈ میں ہونے والے فساد کا ممبع صوفی محمد اور ان کے داماد فضل اللہ تھے۔ وہاں کے جی او سیز نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس بہت اعلی قسم کے ہتھیار اور نقشے تھے جو انہیں بیرون ملک سے ہی مل سکتے تھے۔ میں نے وہاں بہت سے لوگوں کو قتل ہوتے دیکھا۔ میرا اپنا ایک ساتھی رضا آغا فضل اللہ کی رہائش کے باہر گولی لگنے کے بعد بال بال بچا۔ اب بھی وہ ایک بازو سے مکمل طور پر معذور ہے۔ ہم نے خونی چوک پر لاشیں لٹکتی ہوئی دیکھیں۔ طالبان کسی کو وہ لاشیں اٹھا کر دفن کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ پورے علاقے میں دہشت اور خوف کا راج تھا۔ ہم نے بہت سی ایسی عورتوں کےاہلخانہ سے بات کی جنہیں بد چلن قرار دے کر قتل کیا گیا تھا اور بہت سے بچوں کے والدین سے بھی ملے جو خود کش حملوں کا شکار ہو گئے تھے۔ ہم نے سکولوں کو دھماکوں کی نذر ہوتے دیکھا چونکہ ہر دوسرے دن صوفی محمد کوئی نیا فتوی جاری کرتے تھے اور دہشت گردوں کو ہمت دیتے تھے کہ وہ اس ملک کی تہذیب کا ہرنشان مٹا کر رکھ دیں۔

مالاکنڈ میں سے دہشت کا سماں اس وقت ختم ہوا جب فوج نے طاقت کے بل پر طالبان کو شکست دینے کی ٹھان لی اور صبح سے شام تک ہزاروں طالبان کو موت کی نیند سلانے کا عمل شروع کیا۔ مالاکنڈ پر ریاست کا قبضہ ہوتے ہی دوسرے علاقوں میں بھی طالبان کمزور پڑنے لگے ۔ سوات پر طالبان کے قبضے اور پھر ریاست کی رٹ کی بحالی کے بعد ہمارے پاس موقع تھا کہ فیصلہ کر لیے کہ مستقبل میں کون اس ریاست کے فیصلے کیا کرے گا۔

دنیا کے سامنے ریاست پاکستان نے اس واقعہ کو ایک مثالی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور یہ ظاہر کیا کہ یہ ریاست طالبان کو شکست دینے کی پوری اہلیت رکھتی ہے۔ یہ ایک نایاب واقعہ بھی تھا کیونکہ امریکہ کی بار بار کی پیشکش کے باوجود پاکستان نے ان کی کوئی مدد نہیں لی اور اپنے بل بوتے پر مالاکنڈ اور باقی تمام علاقے فتح کیے۔

ہم اپنے ہی دامن کو خود ہی گندا کر لیتے ہیں۔ ہم ایسا کئی بار کر چکے ہیں۔ سوات پر قبضہ اور آزادی کے بعد یہ بحث چل رہی تھی کہ ریاست ایسا کیا کرے گی کہ دوبارہ کوئی گروپ قبضہ کرنے کی جرات نہ کرے۔ اس بحث میں سب سے زیادہ توجہ ان لوگون پر تھی جنہوں نے ریاست سے بغاوت کی اور دہشت گرد پیدا کیے۔ سوات کے ان لوگوں جنہوں نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ ٹی این ایس ایم اور سوات طالبان اللہ کی جنگ اسلام کی بھلائی کے لیے لڑر ہے ہیں ان کی ڈی ریڈیکلائزیشن کا معاملہ اس بات پر منحصر تھا کہ ریاست شہریوں کو بتائے کہ ایسا نہیں ہے اور نہ اس کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بہت اہم مباحثہ تھا کیونکہ تحریک طالبان کی طرح سوات طالبان کو بھی طاقت ملنا ریاست کے بر وقت حرکت میں نہ آنے کی وجہ سے ممکن ہوا تھا کیونکہ ریاست نے کچھ عجیب و غریب اور احمقانہ علاقائی پراجیکٹ شروع کر رکھے تھے۔

اس سمبلزم کی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں کہ صوفی محمد کی واپسی ہماری بہت بڑی بد قسمتی ہے۔ اس سے دہشت گردی کا شکار ہونے والے لوگوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ پاکستانی ریاست صوفی محمد جیسے بڑے دہشت گردوں کو بھی قبولیت بخشنے پر آمادہ ہے۔ اس سے قبل احسان اللہ احسان کو بھی ایسے ہی اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے میڈیا پر دکھا کر یہ کوشش کی گئی تھی کہ انہیں پاک صاف اور تائب مسلمان قرار دے دیا جائے۔ بہت سے دوسرے ایسے دہشت گرد ہیں جنہوں نے نہتے عوام کو بے دردی سے مارا لیکن اب ریاست کی کسٹوڈی میں محفوظ ہیں اور انہیں عدالت میں اپنے گناہوں کی صفائی دینے پر بھی مجبور نہیں کیا جاتا، سزا دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کون یہ فیصلے کرتا ہے؟ ہم یہ جاننا نہیں چاہتے کیونکہ سچ سامنے آجائے تو بہت تکلیف دہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ سچ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کافی کامیابی سمیٹی ہے اور اب کوئی گروہ ہمارے ملک کے کسی حصہ پرقبضہ کی جرات نہیں کر سکتا۔ لیکن دہشت گردی کی جنگ کا تعلق علاقے سے نہیں بلکہ دلوں اور دماغوں سے ہے۔ یہی ہمیں ہر دوسرے دن یاد دلایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جب سابقہ دہشت گردوں کو ہماری ریاست معاف کر دیتی ہے تو دنیا بھر میں بہت برا تاثر جاتا ہے۔ ہم خادم رضوی کو اسلام آباد لاک ڈاون کر کے حکومت کو ذلیل کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور صوفی محمد اور احسان اللہ احسان کو میڈیا پر سپیس دیتے ہیں اورانہیں ایسا بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے وہ اب گناہوں سے پاک اور ہر لحاظ سے قابل قبول ہوں اور پھر ہم ایک بیانیے کی رٹ بھی لگاتے ہیں۔ کوئی بے وقوف ہی ہو گا جو اس بیانیے کو قبول کرے گا۔

سچ یہ ہے کہ ہم جو دہشت گردی کے خلاف بیانیہ پیش کرتے ہیں یہ در اصل بیانیہ ہے ہی نہیں۔ یہ بس کنفیوژن ہے۔ غلطی صوفی محمد اور احسان اللہ احسان کی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی ہے جو ایسے عناصر کو اپنی تازہ ترین تاریخ کا مطالعہ کیے بغیر واپس دونوں ہاتھوں سے قبول کر لیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *