نیم لیکچرار گوالمنڈی میں

tariq

جب ھم خدا خدا کرکے اور جدا جدا کرکے انگریزی ادب میں ماسٹر ھو گئے۔ اور جب ھم بیکار پھر پھر کے اور انتظار کر کر کے بالآخر بڑے ماسٹر مقرر ھو گئے۔ اور ایک مقامی کالج میں تقرر ھو گئے۔ تو ھم نے اپنے بچپن کے ایک کن ٹٹے دوست سے پوچھا ۔ یہ ریلوے روڈ کدھر ھے۔ اس کن ٹٹے نے ھماری بات سن کر مکمل بے شرمی کے ساتھ ھمیں یوں اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ جیسے ھم کوئی فاحشہ مخلوق ھوں اور کسی ھوٹل کی لابی میں کسی گاہک سے بھاو تاو کر رھے ھوں ۔ پھر واھیاتی سے بولا۔ جہاں تک میں جانتا ھوں ۔ تم خود کرشن نگر جبکہ تمہارے ننھیال اندرون شہر رھتے تھے۔ اور تمہارا آدھا بچپن کرشن نگر اور لوھاری گیٹ کی گلیوں میں پتنگیں لوٹنے اور گلی ڈنڈا کھیلنے میں گزرا ھے۔ جبکہ باقی کا آدھا بچپن تم نے اپنے محلے کے اوباش لونڈوں سے بچتے بچاتے گزارہ ھے۔ کچھ ایسے ھی پپو تھے تم۔ اور آج تم مجھ سے پوچھ رھے ھو۔ یہ ریلوے روڈ کہاں ھے۔ ھم نے اپنے اس کن ٹٹے دوست کی یہ بات سن کر باقاعدہ شرماتے اور اپنا بدن سمیٹتے ھوے کہا۔ دیکھو ایسے نہ مجھے تم دیکھو۔ میں ایک معزز آدمی ھوں اور ابھی حال ھی میں ھماری بطور لیکچرار اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں تقرری ھوئ ھے۔ اور یہ کہ محکمہ تعلیم کا خیال ھے۔ ھمیں درس و تدریس کا کام کرنا چاھیے ۔ خواہ اس کے لیے ھمیں گوالمنڈی ھی کیوں نہ جانا پڑے۔ اسی لیے ھم تم سے ریلوے روڈ کا پتہ پوچھ رھے ھیں۔ کن ٹٹے دوست نے ھماری بپتا سن کر ھمیں ترحم بھری نظروں سے دیکھا جیسے وہ ھمارے مستقبل سے مکمل مایوس ھو گیا ھو۔ اور پھر سر ھلا کر بولا۔ تم ایسا کرو۔ اپنی گاڑی میں سوار ھو کر نکل جاو۔ اور گاڑی کا شیشہ کھول دو۔ لاھور کی جس سڑک پر تانگے میں جتے گھوڑے کا سر تمہاری گاڑی کے اندر آ جائے ۔ وھی ریلوے روڈ ھے۔ اس سے ھم ایک بات تو سمجھ گئے۔ کہ جس علاقے میں ھم پڑھانے جا رھے ھیں۔ وہاں تانگوں اور گھوڑوں کی بہتات ھے۔ لیکن یہ بات ھمیں وہاں جا کر ھی معلوم ھوئ کہ یہ علاقہ پہلوانوں میں بھی خود کفیل ھے۔ ھم تانگوں گھوڑوں سے تو بچتے رھے۔ اور گاڑی کا شیشہ بھی بند رکھا۔ مبادہ کوئی گھوڑا واقعتا اپنا منہ گاڑی کے اندر کرکے ھم سے علیک سلیک شروع کر دے۔ زیادہ ڈر یہ تھا۔ بات علیک سلیک سے بڑھ کر کہیں چما چاٹی تک نہ پہنچ جائے ۔ اور سچی بات ھے۔ اگرچہ ھماری ابھی شادی نہ ھوئ تھی۔ لیکن ھم اتنے بھی محرومی کا شکار نہ تھے۔ کہ نوبت گھوڑوں کے پیار تک پہنچ جاتی۔ غلطی یہ ھوئ ۔ ھم نے ایک پہلوان کے عین پیچھے جا کر ھارن بجا دیا۔ یہ پہلوان دھوتی اور بنیان پہن کر عین سڑک کے درمیان چل رھا تھا۔ اب خدا گواہ ھے۔ ھم نے پہلوان کی دھوتی اور بنیان پر اعتراض کی وجہ سے ھارن نہیں بجایا تھا ۔ دھوتی اور بنیان لاھوریوں کا قومی لباس ھے۔ اور ھم خود اس ایئر کنڈیشن لباس سے گرمیوں میں محظوظ ھوتے رھے ھیں۔ بات یہ تھی۔ یہ پہلوان اپنے آدھے فرلانگ پھیلے پیٹ کے ساتھ عین سڑک کے درمیان چل رھا تھا ۔ جبکہ ھمارے عقب میں آنے والے ایک گھوڑے نے ھماری واٹ لگا رکھی تھی۔ ھارن کی آواز سن کر پہلوان کا ترا نکل گیا۔ اس نے مڑ کر خشمگیں نظروں سے ھمیں دیکھا۔ اور منہ بھر کر ھماری شان میں ایک فی البدیہہ قصیدہ پڑھ ڈالا۔ اب ھمارا تراہ نکلنے کی باری تھی۔ ھمیں احساس ھوا۔ پہلوان کو غصہ ھارن پر نہیں اپنا تراہ نکلنے پر ھوا ھے۔ اتنی دیر میں گھوڑے کی جگہ پہلوان کا سر ھماری گاڑی کے اندر آ چکا تھا۔ اور ھمیں ڈر تھا۔ ھم ابھی اس گنبد سے ٹکرا کر پاش پاش ھو جائیں گے۔ اور کل کے اخباروں میں یہ خبر چھپے گی۔ اے راہ حق کے شہید تجھے گوالمنڈی کی ھوائیں سلام کہتی ھیں۔ ھاتھ جوڑ کر کہا۔ پہلوان جی بڑی غلطی ھو گئ ۔ معاف کر دیں۔ میں آپ کے علاقے میں استاد بن کر آیا ھوں۔ ھماری بات سن کر پہلوان کا ھاسا نکل گیا۔ اور ھمارے کندھے پر زور سے ھاتھ مار کر پھٹی ھوی آواز میں بولا۔ استاد بن کر آئے ھو۔ اور کہہ ایسے رھے ھو۔ جیسے تھانیدار بن کر آئے ھو۔ ھمارا وہ کندھا ابھی تک ٹھیک نہیں ھوا۔
سچی بات ھے۔ ھم خود راجپوت رانگڑ تھے۔ اور غصے کے زھری تھے۔ لیکن ھم نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں جو سترہ سال نوکری کی۔ وہاں کے گھوڑوں، پہلوانوں اور طالب علموں نے ھمارے اندر وہ صبر پیدا کیا اور وہ برداشت پیدا کی۔ جس کا فائدہ ھمیں اپنی شادی شدہ زندگی میں بھی ھوا۔ اور آج فیس بک پر بھی ھو رھا ھے۔
باقی آئیندہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *