عاصمہ جہانگیر کے ساتھ ایک یادگار انٹرویو

1

س: پاکستان کی اینٹیلیجنس ایجنسیاں کسی قانون کی اجازت کی پرواہ کیے بغیر کام کر رہی ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہی بڑی وجہ ہے کہ وہ حقوق انسانی کی
خلاف ورزیوں میں شامل ہیں؟

ج: جی ، یہ بھی ایک وجہ ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ در اصل گورنمنٹ چلا رہے ہیں۔ اگر آپ الیکشن دیکھیں تو اس میں ان کا ہاتھ ہے اور ثابت ہو چکا ہے کی وہ الیکشن سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پیسے دے دلا کے بھی اپنی پارٹی کو جتواتے ہیں۔ ووٹنگ کے دوران وہ پولنگ سٹیشنز پر ہوتے ہیں ۔ ان کے تحفظی نظام بھی ان کی مرضی کے ہوتے ہیں ۔ جب انہیں لگتا ہے کے سیکیورٹی خطرے میں ہے تو ان کے پاس کسی بھی حد تک جانے کا اختیار ہوتا ہے۔ وہ مخالف پارٹی کےلٖیڈر کو دہشت گردی کے ملزموں کو یا ملک کے پرائم منسٹر کو اٹھوالیتے ہیں ۔

*س: کیا کوئی ایسا قانون ہے جو اس ایجنسی کو کنٹرول کر سکے؟

ج: ابھی تک کوئی قانون نہیں ہے۔ ہم ان کے کام میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کتنی ایجنسیا ں ہیں اور وہ ہیں کون ، ان
کا مینڈیٹ کیا ہے اور ان کا ڈھانچا کیسا ہے ۔ جب ہم ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ایسا ان کے کردار کی وضاحت کے لیے نہیں کیا جاتا۔ بلکہ ہم دیکھنا
چاہتے ہیں کہ ایجنسیاں اپنے مینڈیٹ کےمطابق کام کر رہی ہیں، ان کی مصروفیت کیا ہے اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ ایجنسیوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کی کیا ذمہ
داریاں ہیں۔ اگر وہ جانتی ہیں ان پر کس کی ذمہ داری ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ ان پر کس کی ذمہ داری ہے تو یہ بہت برے حالات کی علامت ہے کیوں کہ اس
بات کا وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

*س: لیکن اینٹیلیجنس ایجنسیاں قانون کو سہارا دیتی ہیں جیسا کہ پاکستان کا فوجی کردار اور پاکستان کی سیکیورٹی کا کردار وغیرہ تاکہ ان کے کام کی وضاحت ہو سکے۔۔۔۔۔

*ج: ہاں کچھ قوانین ہیں جن کی بدولت لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستانی آرمی ایکٹ فوجی افراد کے لیے ہیں ۔اب لوگ ان قوانین سے تھک چکے ہیں
۔ اگر عام شہری لوگوں کو فوج کے خلاف کر رہا ہے تو اور بات ہے لیکن ایسے ہی کسی مجرم سویلین کو آرمی ایکٹ کے مطابق سزا نہیں دی جا سکتی۔ لیکن ایسا بھی ہوا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے ہمیں اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے۔ اور ہمیں قانون کی حد پار نہیں کرنی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ، میرا خیال ہے یقینا کچھ سیکیورٹی کے قانون ہیں جن کے مطابق ہر سیکیورٹی ایجنسی ردعمل دکھا سکتی ہے ۔ لیکن مسئلہ تو یہی ہے کہ وہ قانون کے مطابق نہیں چلتے۔ وہ لوگوں کو خود ہی اٹھا کر غائب کر دیتے ہیں۔ کوئی ان گم شدہ اشخاص کے بارے میں نہیں جان پاتا جب تک ایجینسی خود انہیں واپس ان کی فیملیوں کی طرف نہیں دھکیل دیتی۔

*س: ہمیں ان ایجنسیوں سے کچھ قانونی مسائل در پیش ہیں جو اب تک قومی سطح پرغیر حاضر ہیں؟

*ج:ایسا نہیں ہے۔ صدر آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر جب اپر ہاؤس کے ممبر تھے تو انہوں نے سینٹ میں آواز اٹھائی تھی ۔ جس کا جواب یوں ملا کہ قانون خفیہ ہے۔ پاکستان کی حقوق العباد کمیشن نے 2007 میں ایک پٹیشن فائل کی تھی اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ انٹیلیجنس ایجنسیوں اور ڈیفنس منسٹری سے ان قوانین کا پوچھیں جو ان کے کام مستند کرتے ہیں اور ان کا مینڈیٹ کیا ہے اور اندر کے لوگ اور ڈیفینس منسٹریز ایک ساتھ بتایں کہ ان پر کس کا کنٹرول ہے ۔ ڈیفنس منسٹری نے کہا کہ آپریشن لحاظ سے دیکھا جاے تو وہ جواب دہ ہیں ورنہ نہیں ۔ جب ہم نے عدالت سے درخواست کی کہ کمیشن بٹھائیں تاکہ گمشدگان کے مجرموں کی نشاندہی ہو سکے اور اس کے لیے ہم نے ایک وکلا گروپ یا کوئی عدالت کی طرف سے منتخب ٹیم بنانے کا مطالبہ کیا جو گم شدہ ہونے کے بعد واپس آنے والوں سے ملکر مجرموں کا پتہ لگائیں۔ اب سپریم کورٹ اگر گمشدگان کو واپس نہیں لا سکتا تو رٹائرڈ ججوں کا گروپ کمیشن کے طور پر کیسے انہیں واپس لائے گا۔میں سپریم کورٹ کی منظور کی گئی کمیشن سے بہت غیر مطمئن ہوں۔ اس کمیشن میں ایک فرد انٹیلیجنس بیورو کا، ایک انٹر سروسز انٹیلیجنس کا، پولیس اور وزارت داخلہ کا فرد شامل ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ان کو کام کرنا آتا ہے کیوں کہ اب تک انہوں نے واپس آجانے والے کمشدگان سے پوچھ گاچھ نہیں کی۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ کیسے اٹھائے گئے تھے، ان کو کون لے گیا تھا۔ اور ان
کو کہاں رکھا گیا اور ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا اور کتنے دن وہ غائب رہے۔

انٹیلیجنس ایجنسیز نے جن لوگوں کو گرفتار کیا ہے ان کیسز کے ساتھ عدالت نے کیا کاروائی کی ہے ؟

*ج:سچ تو یہ ہے کہ ایسا سننے میں نہیں آیا کہ عدالت نے پچھلے دس سال میں ایسا کوئی گمشدگی کا کیس لیا جس میں ملزم ان میلیٹری یا اینٹیلیجنس سے تھا ۔ ایک پہلا کیس جو مجھے یاد ہے وہ فرائی ڈے ٹائم کے ایڈیٹر نجم سیٹھی کی گمشدگی کا تھا ۔ جسٹس دحیدالزمان صدیقی اور جسٹس مامون قاضی نے آرڈر جاری کیا تھا کہ سیٹھی کو **ISI** کی گرفت میں رکھا جائے۔( عدالت کی مدخلت کی بنا پر۔) اب جب لوگ عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو بہت سے کیسسز میں گم شدہ لوگوں کی لاشیں ملتی ہیں ۔ عدالت کے لیے انٹیلیجنس ایجنسی کو قابو میں رکھنا مشکل ہے۔ عدالت آرڈر پاس کر سکتی ہے پر اس پر عمل کو دارومدار گورنمنٹ پر ہے۔

س: قانون انٹیلیجنس ایجنسی کو قابو میں رکھنے کے لیے ممکن حد تک کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

*ج: مجھے نہیں لگتا کہ قانون ایک بہترین ہتھیار ہے لیکن قانون ایک شروعات ضرور ہے۔ قانون یہ پیغام بھیجتا ہے کہ ان کو قانون کے مطابق چلنا چاہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک مینڈیٹ ہونا چاہیے جس میں حدود کی وضاحت ہو کہ اس حد کو نہیں پھلانگ سکتے۔ ورنہ ورکرز کو کیسے پتہ کہ کیا قوانین ہیں جب تک باس ان کو بتاتا رہے کے وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اگر انٹیلیجنس ایجنسی جج چنے گی اور الیکشن اور ووٹنگ ان کے کہنے پر ہوں گے اور گورنمنٹ کے لیے پریشانی کے باعث بننے والے کو حراساں کیا جائے گا تو ہم لوگوں کو حق ہے یہ جاننے کا کہ ان کی کیا حدود ہیں۔

*س: اگر آپ کو انٹیلیجنس ایجنسی کے قوانین کا ڈرافٹ بنانے کو کہا جائے تو آپ کیا کیا تجاویز شامل کریں گی؟

*ج: میں خود ڈرافٹ نہیں بناؑں گی۔ یہ بہت ٹیکنیکل مضمون ہے۔ اس کے لیے بہت گہرے بحث و مباحثے کی ضرورت ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا لوگوں کے حقوق کو تحفظ پہنچانا اور دوسرا ایجنسیز کو ناکارہ نہین ہونا چاہیے۔ میں لوگوں کے بنیادی ٖحقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی ۔ لوگوں کو لاپتہ کرنا اور تشدد کا
نشانہ بنانا ایجنسیوں کا کام نہیں ہونا چاہیے

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *