نواز شریف کے خلاف پلان بی نہیں تھا

tariq

ایک اچھا کامیاب دشمن جب پلان اے بناتا ھے۔ تو اس پلان اے کی ناکامی کی صورت میں ایک پلان بی بھی بنا لیتا ھے۔ لیکن ھماری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ یہ ایک انوکھا معاملہ ھے۔ یہ پلان اے تو بناتے ھیں۔ پلان بی نہیں بناتے۔ اور جب یہ پلان اے فیل ھوتا ھے۔ پٹ جاتا ھے۔ ناکام ھو جاتا ھے۔ ان کے پاس بچ نکلنے یا ناکامی کے اثرات کم کرنے کے واسطے یا ناکامی کو واپس کامیابی میں بدلنے کے لیے پلان بی نہیں ھوتا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ ان پلانز اے کی ناکامیوں سے بھری پڑی ھے۔ اور ان پلانز اے کی ناکامیوں کے منفی اثرات یہ ملک بھی بھگت رھا ھے۔ قوم بھی بھگت رھی ھے اور ادارے بھی بھگت رھے ھیں۔ لیکن وہ ادارے اور وہ قوتیں جو فیصلے کرتے ھیں ۔ پلان اے بناتے ھیں۔ اپنی ناکامیوں سے سیکھنے کو تیار نہیں۔ بار بار وھی تجربے دہراتے ھیں۔ ان کی مثال اس لطیفے کی مانند ھے۔ کسی کی بھینس بیمار ھو گئ۔ وہ اپنے ھمسائیوں کے پاس گئے۔ اور پوچھا آپ کی بھی بھینس بیمار ھوئ تھی۔ آپ نے کیا پلایا تھا۔ ھمسائیوں نے کہا۔ ھم نے تارپین کا تیل پلایا تھا۔ انہوں نے بھی تارپین کا تیل پلا دیا۔ بھینس مر گئ۔ غصے میں ھمسائیوں کے پاس گئے۔ اور بتایا ھماری بھینس تارپین کا تیل پلانے سے مر گئ۔ ھمسائیوں نے جواب دیا۔ بھینس تو ھماری بھی مر گئ تھی۔ لطیفہ یہ ھے۔ علاج تو پوچھ لیا تھا۔ نتائج نہیں پوچھے تھے۔
نواز شریف کا علاج سوچ لیا گیا تھا۔ کیانی ڈاکٹرائن کے مطابق پلان اے بھی بنا لیا گیا۔ یعنی سسٹم کو نہیں چھیڑنا ۔ ناپسندیدہ شخصیت کو سسٹم سے نکال دینا ھے۔ اس پلان اے پر عملدرآمد کے لیے عمران خان کو ٹاسک دیا گیا۔ وہ چار سال نواز شریف کو چور اور ڈاکو کہتا رھا۔ اس پلان کے دو حصے تھے۔ نواز شریف پر دباؤ رکھا جاے اور اسٹیبلشمنٹ فیصلے کرنے اور اقتدار انجوائے کرنے میں آزاد ھو۔ اور اگر نواز شریف پھر بھی ڈلیور کر جاے تو اسے فارغ کر دیا جائے۔ یاد رھے تاریخی طور پر اسٹیبلشمنٹ کو ایک پاپولر سول حکمران قبول نہیں جو کام کر رھا ھو۔ جب اپنے طور پر یہ یقینی بنا لیا گیا۔ کہ عمران خان اور میڈیا کے ذریعے کیے گئے مسلسل منفی پروپیگنڈے سے نواز شریف سیاسی طور پر ختم ھو چکا ھے۔ تو پھر فنش اٹ کا ٹاسک ججوں کو سونپ دیا گیا۔ اور ججوں نے بھی نااہلی کا فیصلہ دینے سے پہلے منفی پروپیگنڈے کی انتہا کر دی۔ سسلین مافیا ، ڈان اور گاڈ فادر جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔ تاکہ نواز شریف کو سیاسی طور پر رسوا کرنے اور ناکام بنانے اور غیر مقبول کرنے میں جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی ھے۔ اسے پورا کر دیا جائے۔ تاکہ جب اسے نااھل کیا جائے تو نواز شریف خاموشی سے ملک چھوڑ کر باھر چلا جاے اور باقی کی زندگی بدنامی اور گمنامی میں گزار دے۔ اور اسے یہ کہا بھی گیا۔ ملک چھوڑ دیں۔ ورنہ جیل میں ڈال دیں گے۔ یہاں تک پلان اے تھا۔ اور حسب روایت ھماری اسٹیبلشمنٹ کے بابو لوگ اس پلان اے کی کامیابی کو لے کر اسقدر پر اعتماد تھے۔ کہ یہ سوچا ھی نہیں اگر نواز شریف ڈٹ گیا اور اس نے بلیک میل ھونے سے انکار کر دیا تو پھر کالیا لوگو آپ کا کیا بنے گا۔ اور اس وقت یہی ھو رھا ھے۔ نواز شریف عوامی عدالت میں چلا گیا ھے۔ حلقہ 120 کا ضمنی الیکشن جیت چکا۔ چکوال کے بعد لودھراں میں فتحیاب ھو چکا۔ بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر رھا۔ نواز شریف کا ووٹ کی حرمت اور عدل کی تحریک کا بیانیہ مقبول ھو رھا۔ نواز شریف جلسوں میں لوگوں سے مکالمہ کر رھا۔ لوگوں کو انگیج کر رھا۔ اور نواز شریف کے جلسوں میں عوام کی بھاری شمولیت ، ان کا جوش و خروش اور ان کی انرجی کی بلند سطح صاف بتا رھی کہ نواز شریف اگلا الیکشن بھاری اکثریت سے جیت جائے گا۔ یہ صرف میں نہیں کہہ رھا۔ نواز شریف کے مخالف اور عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے حمایتی بھی تسلیم کر رھے ھیں۔ عمران خان سیاسی زوال کا شکار ھو گیا۔ ان کے جلسے ختم ھو گئے۔ نوازشریف کے خلاف ان کی سیاسی نعرے بازی ناکام ھو چکی۔ اپوزیشن کے لاھور جلسے کی بری طرح ناکامی کے بعد چالیس پارٹیوں کا اتحاد تتر بتر ھو چکا۔ قادری صاحب دھول چاٹنے کے بعد واپس کینیڈا تشریف لے جا چکے۔ پیپلزپارٹی پارٹی فی حلقہ تین چار ھزار ووٹوں کی سطح پر آ گئ۔ اور یہی اسٹیبلشمنٹ کے پلان اے کی ناکامی ھے۔ اور چونکہ اسٹیبلشمنٹ کی عقل کل پلان بی تو بناتی نہیں۔ چناچہ اپنی ناکامی اور بدنامی چھپانے اور کور اپ کرنے کے لیے ججوں کو ڈھال بنا لیا گیا ھے۔ اور جج بھی ایسے باکمال ھیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کی اس لڑائی میں پارٹی بن گئے ھیں۔ جس کے نتائج انہیں بہرحال بھگتنے ھوں گے۔ اور ان نتائج کے اشارے ملنا بھی شروع ھو گئے ھیں۔ سول سپریمیسی ، ووٹ کا احترام اور عدل کی منصفانہ عمل داری وہ مثبت نتائج ھیں۔ جو نواز شریف کو نکالنے والوں کے پلان اے کی ناکامی کی وجہ سے برآمد ھو رھے ھیں۔
اور یہ ناکامی پہلی بار نہیں۔ جیسا میں نے پہلے کہا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ ان ناکامیوں سے بھری پڑی ھے۔ انشاءاللہ اپنے اگلے کالم میں ان ناکامیوں پر سیر حاصل گفتگو کروں گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *