راجہ داہر ، عمران خان اورجاوید چودھری !

ہمارے زمانہ صحافت کے اولین دوستوں میں جاوید چودھری ٹاپ آف دی لسٹ ہیں ۔ ان کی زاویہ قائمہ کے متوازی کامیابی پر ہمیں بجا طور پر فخر ہے ۔انتہائی خوب صورت نثر نگاری، کہانی کے اسلوب میں دلچسپ پیرایہ، کہ قاری ایک دفعہ پڑھنا شروع کرے تو کالم ختم کرکے دم لے ۔ چھوٹا جملہ ، آسان زبان ،اور ’’حسب ضرورت‘‘ مصدقہ معلومات ۔ان کے نقطہ نظر سے یقیناًاختلاف کی گنجائش ہوتی ہے لیکن بطور کالم نگار وہ ایسے ہی ہیں جیسے مشتاق احمد یوسفی مزاح نگاری میں ۔ اس کی بہترین مثال ان کا و ہ کالم ہے جو انھوں نے عمران خان کی تیسری شادی کی خبروں کے حوالے سے لکھا تھا ۔اب جب پنکی او معاف کیجیے گا بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے تو اس موضوع پر بے شمار لوگ کالم لکھیں گے ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ سب سے اچھا کالم انہی کا قرار پائے گا ۔ اسی وجہ سے وہ پچھلے کئی برسوں سے پاکستان کے مقبول ترین کالم نگار ہیں ۔
ان کے کالم کا خلاصہ یہ ہے کہ بشریٰ بی بی کو خواب میں حضور ﷺ کی طرف سے ہدایت ہوئی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائیں اور عمران خاں سے شادی کر لیں تاکہ ان کے راستے کی رکاوٹیں دور ہو جائیں اور وہ وزیر اعظم بن کر مملکت خدادا دپاکستان کو ترقی وخوشحالی کے راستے پر گامزن کر سکیں ۔ بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر کا بیان اس خلاصے کے ایک ایک لفظ کی تصدیق کر رہا ہے ۔
ہم مسلمانوں کو اپنی بعض انہونی قسم کی باتیں منوانے کے لیے خوابوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے ۔ ہمارے قائد انقلاب حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ، جن کو ان کے ایک بدخواہ ’باہر الپادری ‘ جیسے انتہائی لغو اور قابل مذمت قسم کے لقب سے یاد کرتے ہیں، بھی فرما چکے ہیں کہ انھیں حضور ﷺ نے خواب میں پاکستان کی ڈوبتی نیاّ کو پار لگانے کا ’’ایڈونچر ‘‘سونپا تھا،اسی لیے وہ طاغوتی قوتوں سے پنجہ آزما ہیں ،وہ علیحدہ بات ہے کہ جب تھک جاتے ہیں تو ذرا سستانے کینیڈا چلے جاتے ہیں لیکن اپنے خواب کی لاج وہ بہر حال کسی نہ کسی طرح رکھ ہی رہے ہیں ۔ اسی طرح ناموس رسالت کے لمحہ موجود میں سب سے بڑے’’ ٹھیکے دار‘‘ مولانا خادم حسین رضوی،المعروف بہ گالیوں والی سرکار، کو بھی ایک عدد’’ ولی صفت ساتھی‘‘ یہ کہہ چکے ہیں کہ آپ کے بارے میں حضور ﷺخواب میں بشار ت دے چکے ہیں کہ اس وقت وہی ہیں جو پاکستان کو اسلام کاقلعہ، امن کا گہوارہ ، اسلامی تہذیب وتمدن کا مرکز بنا سکتے ہیں ۔ اب یہ تینوں پیشن گوئیاں بیک وقت کیسے پوری ہوں گی، یا تینوں میں درست کون سی ہے اور غلط کون سی اور اگر کوئی غلط بھی ہے تو اس پر گستاخی رسول کا مقدمہ بنتا بھی ہے کہ نہیں۔ لیکن ان فضول اور انتہائی پیچیدہ سوالوں کا جواب دینا ہمارا کام نہیں ۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ خواب میں حضور ﷺکی زیارت کا معاملہ تو صحابہؓ رسول کے ساتھ خاص تھا کیونکہ وہی آپؐ کو پہچان اور تصدیق کرسکتے تھے کہ خواب میں آنے والی ہستی حضور ﷺ ہی ہیں ۔ رہا سیاست میں بشارتوں اور پیشن گوئیوں کا معاملہ، تو یہ مرض کوئی آج پیدا نہیں ہوا، اس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسان کی ۔ آئیے اس سلسلے کی ایک انتہائی دلچسپ ’روحانی واردات ‘کی تفصیل آپ کو سناتے ہیں ۔
راجہ داہر (663-712 )کی سوتیلی بہن رانی بائی کی ہاتھ کی لکیریں بتا رہی تھیں کہ اس کا خاوند ایک وسیع ریاست کا مالک ہو گا ، چنانچہ اس کے بھائیوں کو فکر ہوئی کہ اس کا رشتہ کہاں کیا جائے ۔ ا س دوران داہر کے وفادار وزیر بدھی مان نے داہر کو ایک عجیب مشورہ دیا ۔ اس نے کہا کہ آپ رانی بائی سے شادی کر لیں کیونکہ وہ آپ کی حقیقی بہن تو ہے نہیں ۔ لیکن داہر نے اس مشورے کو بہت برا قرار دیا۔ لیکن بدھی مان مصر رہا ۔ جب اس نے دیکھا کہ داہر کسی طور اس کے مشورے پر کان نہیں دھر رہا اور اس کی سوئی ’’ لوگ کیا کہیں گے ‘‘پر اٹک گئی ہے تو اس نے ایک ترکیب آزمائی ۔ اس نے ایک گھنے بالوں والی بھیڑلی ۔ اس پر پہلے زرخیز مٹی ڈالی اور پھر اس کی اون پر پانی کا خوب چھڑکاؤ کیا ۔اب اس پر کائی کے بیج بکھیر دیے ۔ ایک دو دنوں میں بھیڑ کے اوپر کائی کے بیج اگ آئے ۔ ایک بھیڑ پر پودوں کا اگنا بڑی حیرت کی بات تھی۔ بدھی مان نے بھیڑ کو لوگوں کے سامنے کر دیا۔ لوگوں کا جم غفیر اسے دیکھنے کے لیے ٹوٹ پڑا ۔ لوگ دور دور سے آکر اسے دیکھنے لگے ۔ مگر یہ عمل ایک آدھ ہفتے کے بعد ماند پڑنے لگا ۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچی ایک ماہ کے بعد بھیڑ بیچاری گلی بازاروں میں ماری ماری پھرنے لگی اور اس کودیکھنے والا اور اس پر حیران ہونے والا کوئی نہ تھی۔ تب بدھی مان داہر کے پاس گیا اور اسے سمجھاتے ہوئے بولا ، مہاراج یہ ٹھیک ہے ،پہلے پہل رانی بائی سے شادی پر خوب شور مچے گا ۔ لیکن پھر اس انہونی بات پر اسی طرح لوگ خاموش ہو جائیں گے ، جس طرح بھیڑ کے معاملے میں خاموش ہوئے تھے۔ داہر کو بات میں وزن لگا ۔ بدھی مان نے لوہا گرم دیکھ کر آخری ضرب لگاتے ہوئے کہا: ’’ اور حضور، آپ نے کون سی حقیقی شادی کرنی ہے ، محض نام کی شادی کرنی ہے تاکہ لیکھاؤں کی شرط پوری ہو ۔ ‘‘یوں داہر نے حامی بھر لی۔ لیکن اس نے اس بات کی کوشش کی کہ یہ شادی زیادہ سے زیادہ دیر تک اس کے بڑے بھائی جے سیناسے پوشیدہ رہے۔ ا س کا بڑابھائی راج دھانی سے باہر تھا، لیکن کوئی نامراد ’’ عمر چیمہ ‘‘ یہ خبر لے اڑااور اس نے خبر جے سینا کو جا پہنچائی ۔ وہ فوج لے کر آگیا ۔ تب بدھی مان ہی کی کوششوں سے طے ہوا کہ دونوں بھائی بغیر ہتھیار کے آپس میں بات چیت کریں لیکن داہر ہتھیار چھپا کر لے گیا جس سے اس نے بھائی کو قتل کر کے اس کی سلطنت پر بھی قبضہ کر لیا ۔ یوں اس کی راستے کی رکاوٹ دور ہوگئی ۔ اس کے بعد داہر نے اپنی ریاست کو مزید وسیع کیا ۔ رانی بائی کا ’’شوہر‘‘ واقعی اپنے وقت کا عظیم راجا بن گیا ۔ لیکن اس کے بعد کی ریکھا شاید کسی نے نہیں پڑھی تھی ۔ ورنہ وہ اپنے وقت کی سپر پاور سے پنگا نہ لیتا ۔ مگر طاقت کے نشے نے اسے اندھا کر دیا تھا ۔اسی لیے دیبل پر بصرے والوں کے جہاز کا لٹنے کا واقعہ ہوا تو وہ حجاج بن یوسف جیسے ا ڑب گورنر سے سینگ پھنسا بیٹھا۔ یہ اس دور کا گویا نائن الیون تھا ۔ اس کے نتیجے میں وقت کی سپر پاورمسلمان ایمپائر’’ یونائیٹڈ سٹیٹ آف عرب‘‘ سے مڈبھیڑ ہو گئی ۔یوں اس کی ریاست پر محمد بن قاسم کا قبضہ ہو گیااور ہاتھ کی ریکھاؤں میں پوشیدہ بات پوری ہو نے کے باوجود راجا داہر کو خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچا سکی ۔
ہمارا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ اس’’ متنازعہ‘‘ تاریخی واقعے اور عمران خان کی تیسری رجسٹرڈ شادی میں کوئی مماثلت تلاش کریں ۔اس کو بیان کرنے کامقصد صرف یہ یاد کراناتھا کہ اس طرح کے روحانی ٹوٹکے ہر دور میں آزمائے جاتے رہے ہیں لیکن وہ شاید ہی فائدہ مند ثابت ہوئے ہوں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹومرحومہ کے متعلق بھی بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے کسی’’ بنگالی بابا‘‘ سے چھڑیاں کھائیں ۔ تب اس نے بشارت دی کہ جب فضا میں آم پھٹیں گے تو وہ وزیراعظم بنیں گی ۔ اور پھر جب ضیاء الحق کے طیارے میں رکھی آم کی پیٹیوں میں چھپائے بم پھٹے اور وہ آں جہانی ہوئے تو اگلی وزیراعظم وہی بنیں مگر کتنے دنوں کے لیے ؟ اسی طرح دروغ بہ گردن راوی، جب نواز شریف قبلہ طاہر القادری صاحب کو کندھے پر بٹھا کر طواف کرا رہے تھے یا غار حرا پر لے جارہے تھے تو انھوں نے بھی بہت بشارتیں دی تھیں ۔ انھی کی دعاؤں کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ تک پہنچے تھے ، مگر کس طرح بد مزہ ہوئے ، سب جانتے ہیں ۔ اس لیے عمران خاں نے رسک تو بہت بڑا لیا ہے ۔ بشریٰ بی بی کے خواب پر پوری عقیدت سے ایمان لائے ہیں اور صرف وہی نہیں ان کے سابق شوہر خاور صاحب بھی ایمان لائے ہیں ۔ اسی لیے تو انھوں نے ’’ایک پاک باز ، عبادت گزار، نیک بیوی ‘‘ کو طلاق دینے کا ’’ بہادرانہ ‘‘کام کیا ہے ۔ ورنہ خود سوچیے کہ آج تک کسی شوہر نے اپنی نیک بیوی کو بشارت ملنے پر طلاق دی ہے ؟اس لیے ہماری نیک تمنائیں خاں صاحب کے ساتھ ہیں ۔ وہ پاکستان کی قسمت بدلنے کے لیے یہ سارے جتن کر رہے ہیں ۔اگر اب بھی وزیراعظم نہ بنے تو اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی لیکن اس وقت غصہ ان پر نہیں بشریٰ بی بی پر آنا چاہیے۔ لیکن اللہ جانے انھوں نے اپنی بشارت میں کتنے ’’ ifs ‘‘ اور کتنے ’’ Buts‘‘ لگائے ہوں گے ، اس کا راز تو الیکشن کے بعد ہی کھلے گا ۔ مگرایک دفعہ تو خاں صاحب ساری کشتیاں جلا چکے ہیں !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *