صرف دو آپشنز ہیں 

ملک میں ستر سال سے جاری خاکی و سول برتری کی کشمکش ایک نئے فیز میں داخل ھو گئ ھے۔ اور اس وقت مسلم لیگ ن کے پاس صرف دو ھی آپشنز بچی ھیں۔ ایک سیدھا کھلا ٹکراؤ ۔ اس کی شکل کچھ ایسے ھو سکتی ھے۔ اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے۔ اور لاکھ دو لاکھ افراد پارلیمنٹ کے ارد گرد دھرنا دے کر بیٹھ جائیں۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس میں عدلیہ کے حوالے سے آئینی ترامیم کی جائیں۔ اور ان پر فوری طور پر عمل کر دیا جائے۔ عوام کا اجتماع اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو کسی ردعمل سے روک رکھے گا۔ یہ صرف عوامی طاقت ھی ھے۔ جو اس کشمکش میں سول برتری بحال کر سکتی ھے۔ اور پارلیمنٹ کو قوت مہیا کر سکتی ھے۔ اس کے علاوہ اگر پارلیمنٹ اپنے طور پر کوئی قدم اٹھاے گی۔ تو اس کا حال وھی ھو گا۔ جو ابھی پارٹی صدارت کے فیصلے سے ھوا ھے۔ یاد رھے ستر سال کی ھسٹری نے پارلیمنٹ کو بہت کمزور کر دیا ھے۔ جو لوگ اس کی ذمہ داری پارلیمنٹیرینز پر ڈالتے ہیں۔ وہ بوجہ ایسا کرتے ہیں۔ یہ لوگ یا تو بنیادی طور پر غیر جمہوری ھیں۔ یا پاکستان کی سیاسی تاریخ سے ناواقف ھیں۔ یا سیاسی شعور سے عاری ھیں۔ سیاسی مخالفین ھیں۔ اور یا پھر اسٹیبلشمنٹ کے ھرکارے ھیں۔ ورنہ حقیقت یہی ھے۔ کہ پاکستان کا سول و جمہوری سیٹ اپ بہت کمزور ھے۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ بہت طاقتور ھے۔ اور اسٹیبلشمنٹ کی یہ طاقت عدلیہ ، میڈیا ، ان کے حمایتی سیاستدان اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بے بہا بڑھ جاتی ھے۔ جبکہ دوسری جانب سیاستدان اور سول سوسائٹی باھمی طور پر تقسیم ھے۔ آج بھی یہ سمجھا جاتا ھے۔ سیاست میں کامیابی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ھاتھ پکڑنا بہت ضروری ھے۔ بھٹو نے یہ ھاتھ پکڑا تھا۔ نواز شریف اسی راستے سے سیاست میں داخل ھوا تھا۔ اور اب عمران خان بھی ایمپائر کی انگلی پکڑ کر چل رھا ھے۔
اسٹیبلشمنٹ نہ صرف طاقتور ھے۔ منظم ھے۔ یکسو ھے۔ اور متحدہ ھے۔ اسٹیبلشمنٹ ظالم بھی بہت ھے۔ انتہائی بے مروت ھے۔ اور اپنے مفاد اور اپنی طاقت اور اپنے ھولڈ کو قائم رکھنے کے لیے کوئی کام بھی کر گزرتی ھے۔ یہ اتنی ظالم ھے۔ لیاقت علی خان اور بے نظیر اور اکبر بگٹی کو قتل کروا دیتی ھے۔ بھٹو کو پھانسی لگا دیتی ھے۔ نواز شریف کو جیل میں ڈال دیتی ھے۔ جلاوطن کر دیتی ھے۔ نااھل کروا دیتی ھے۔ اپنے ھی لاے ھوے وزراء اعظم جونیجو اور جمالی کو نکال دیتی ھے۔ ایسا کرتے وقت اسٹیبلشمنٹ یہ نہیں سوچتی۔ لیاقت علی خان پاکستان بنانے میں شامل تھا۔ بگٹی گوادر بندرگاہ حاصل کرنے میں شامل تھا۔ بھٹو نے ایٹم بم بنایا تھا۔ پاکستان کو پہلا آئین دیا تھا۔ بے نظیر میزائل ٹیکنالوجی لائ تھی۔ یا نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ اور ملک کو معاشی ترقی کے راستے پر ڈالا تھا۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتی۔ جمہوری قدقنیں لگانے یا اکثریتی پارٹی کو اقتدار نہ دینے کا نتیجہ پاکستان ٹوٹنے کی شکل میں نکلا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے بابو فوری طور پر وہ کرتے ہیں جو ان کے سامنے ھوتا ھے۔ دو چار سال آگے جا کر سوچنے کی صلاحیت ان میں مفقود ھے۔ یہ بڈھا پیر کا ھوائ اڈا امریکہ کو دے دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے روس کا ردعمل کیا ھو گا۔ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کر دیتے ھیں اور بھارت کے ساتھ جنگ کی تیاری نہیں کرتے۔ تزویراتی گہرائی کے تحت طالبان بنا لیتے ھیں اور امریکہ کی لڑائی لڑتے ھیں۔ اور آج جنرل باجوہ کہتے ھیں۔ وہ ھماری غلطی تھی۔ آج خود روس کو گرم پانیوں تک آنے کی آفر کر رھے ھیں۔ کارگل پر جا بیٹھتے ھیں۔ اور یہ نہیں سوچتے۔ دنیا کا ردعمل کیا ھو گا۔ کتنا نقصان ھو گا۔
طاقت کے ساتھ جب عارضی نوعیت کے فیصلے اور مفادات جڑ جائیں۔ تو وہ خطرناک ھوتے ھیں۔ نقصان دہ ھوتے ھیں۔
اس طاقت اور عارضی فیصلوں کا ایک ھی ھدف ھے۔ ملک پر ھر صورت میں خاکی برتری قائم رکھنی ھے۔ اور سول سپریمیسی کو پنپنے نہیں دینا اسے تسلیم نہیں کرنا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو سیکیورٹی اسٹیٹ بنایا گیا۔ اسے ویلفیئر ریاست بننے سے روکا گیا۔ عوام کو یہ باور کروایا گیا۔ ھم آپ کے محافظ ھیں۔ سیاستدانوں اور جمہوریت کے خلاف مسلسل پراپیگنڈا کیا گیا۔ اور اس کے باوجود اگر کوئی لیڈر پاپولر ھوا۔ اسے جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا۔ ایسے صحافی ، دانشور ، پریشر گروپس اور سیاستدان پالے گئے۔ جو ججوں اور جرنیلوں کا دفاع کرتے ہیں۔ اپنی عقل و دانش سے ان کے اقدامات کی وضاحت کرتے ھیں اور معتوب سیاستدانوں میں کیڑے نکالتے ھیں اور کیڑے ڈالتے ھیں۔
ستر سال کی برتری نے اسٹیبلشمنٹ کو اقتدار و اختیار کا عادی بنا دیا ھے۔ جسے چھوڑنے کو وہ تیار نہیں۔ اگر کسی نے اسٹیبلشمنٹ کی سائیکی سمجھنا ھو تو وہ وزیراعظم ظفراللہ خان جمالی کو یاد کر لے جو کہتا رھا جنرل مشرف میرے باس ھیں۔ ھمارے جنرل واقعتا خود کو بآس سمجھتے ہیں۔ اور آئرنی یہ ھے۔ ان کے مائنڈ سیٹ کی ٹریننگ ھی یہ ھوئ ھے کہ وہ محب وطن ھیں۔ منظم ھیں۔ عقل مند ھیں۔ اور مسیحا ھیں۔
طاقت اور طویل تاریخ اور طالع آزمائی اور مفادات اور اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرانا حماقت ھے۔ جیسا میں نے پہلے کہا۔ یہ بہت ظالم ھیں اور کج فہم ھیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی برتری ختم کرنے اور سول سپریمیسی قائم کرنے کے لیے ایک پروسیس کا چلنا ضروری ھے۔ اور خوش قسمتی سے یہ پروسیس چل رھا ھے۔ اور یہی دوسری آپشن ھے۔ اسٹیبلشمنٹ پہلے مارشل لاء لگا کر براہ راست حکومت پر قبضہ کر لیتی تھی۔ پھر پاور شیئرنگ کا دور آیا۔ پھر کنٹرولڈ ڈیموکریسی کا زمانہ آیا۔ پہلے حکومت الٹا دی جاتی تھی۔ اب کیانی ڈاکٹرائن چل رھی۔ پہلے سامنے آ کر کھیلتے تھے۔ اب عدلیہ کی آڑ میں کھیل رھے۔ تو تبدیلی تو آ رھی۔ پارلیمنٹ نے 58 ٹو بی ختم کر دی۔ اٹھارویں ترمیم پاس کر دی۔ آئیندہ ججوں کا بندوبست بھی ھو جائے گا۔ منتخب وزیراعظم کو استثناء بھی مل جائے گا۔ پہلے پنجاب چھوٹے صوبوں کے خلاف ان کے ساتھ ھوتا تھا۔ اب پنجاب ان کے خلاف اٹھ رھا۔ بیداری اور شعور بڑھ رھا۔ لوگ بےباک اور بہادر ھو رھے۔ سوشل میڈیا اپنا کام کر رھا۔ جج سیاسی فیصلے دے رھے۔ اور پھر یہی جج وضاحتیں دے رھے۔ ووٹ کی طاقت اپنا اثر دکھا رھی۔ موجودہ کشمکش زحمت میں رحمت ثابت ھو گی۔ ارتقاء کا عمل انقلاب سے بہتر اور احسن ھے۔ لوگوں میں اتنا سیاسی شعور آ جائے گا۔ کہ سول سپریمیسی خود حاصل ھو جائے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کی برتری کے دن کم ھوتے جا رھے ھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *