سوڈانی مُرغی اور اقوامِ مُتحدہ

جنوبی سوڈان کے ایک دوردراز گاؤں ’ ابئیے ‘ میں واقع اقوامِ متحدہ کے کیمپ میں رہتے مجھے قریب ایک مہینہ ہو چلا تھا۔ہم یہاں اقوامِ متحدہ کے امن مِشن کے تحت کام کر رہے تھے۔’ ابئیے ‘ کی ایک چمکیلی ، پُر سکون صُبح کا زکر ہے، میں ایک تُرکش پولیس افسر کو ساتھ لے کر معمول کی گشت پر نِکلا۔گاؤں کے نواح میں ہماری لینڈ کروزر ایک کچی سڑک پر رواں دواں تھی۔ماحول انتہائی پُرسکون تھا اور مسحورکُن بادِبیانی گاڑی کی کھڑکیوں پر ہلکی دستک دے رہی تھی۔’’ ابئیے ‘‘ میں رہتے ہوئے ،صحرائی خوشبوؤں سے لدی پھندی اس خُمار آور ہوا سے مُجھے عِشق سا ہو گیا تھا۔میں نے گاڑی کا ائیر کنڈیشنر بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ کھڑکی کو زرا سا کھولاتو ہوا کے ایک نرم و گُداز جھونکے نے میرے چہرے کو چھو کر بے خودی سی پیدا کر دی۔مُجھے اقبالؔ بے طرح یاد آئے:
اے بادِ بیابانی مُجھ کو بھی عنایت ہو خاموشی و دِل سوزی، سرمستی و رعنائی !
بہر طور! سحر انگیز صحرائی خوشبوؤں کو محسوس کرتے اور گاڑی میں بجنے والی انتہائی مدھر تُرکش موسیقی سے لُطف اندوز ہوتے ہم آگے بڑھ رہے تھے۔کچی سڑک کے دونوں جانب مقامی لوگوں کے جھونپڑے ، جنہیں وہ ’’ تُکل ‘‘ کہتے ہیں ،دور تک چلے گئے تھے۔ان ’ تُکلوں ‘ کے اردگرد ننگ دھڑنگ، کالے بھجنگ،بڑے سروں ،بڑے پیٹوں والے،بیمار صورت،بیکار ،بے شمار بچے کھیل کود میں مصروف تھے۔بچے پیدا کرنے میں یہ لوگ کافی خود کفیل ہیں اور غالباً یہی ان کا پسندیدہ مَشغلہ ہے۔یو ۔این کی گاڑی پاس سے گزرتی تو یہ بچے دانت نکالتے ہوئے ہاتھ ہلانا شروع کر دیتے۔سڑک کے اطراف جھاڑیوں میں کافی تعداد میں بھیڑ بکریاں اور مُرغیاں بھی نظر آرہی تھیں۔اچانک میں نے سائیڈکھڑکی سے دیکھاتو کئی بچے گاڑی کے پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمیں روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ مسلسل شور کر رہے تھے۔ جلد ہی وہ سڑک پر آکر ہمیں روکنے لگے۔ میں نے گاڑی روکی،نیچے اُترا اور اس ’’ طوفانِ بدتمیزی‘‘ کی ’’ شانِ نزول‘‘ جاننے کی کوشش کی۔دو تین بچے ہمیں اشارہ کرتے ہوئے کوئی بیس،تیس گاڑی کے پیچھے لے گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مُرغی سڑک کے کنارے مُردہ حالت میں پڑی ہے۔چونچ کی ایک جانب نکلتی خون کی لکیر اُس کی موت کی تصدیق کر رہی تھی۔بچوں کا ایک ہجوم گرد جمع تھا جِس میں اب ارد گرد کے جھونپڑوں سے آئے بڑے مرد و خواتین بھی شامل ہو چکے تھے۔مجمع اور ہم ایک دوسرے کی زبان سے ناآشنا تھے۔چنانچہ ہم نے اشاروں سے پوچھنے کی کوشش کی کہ ہر چندجواں سال مُرغی کی موت باعثِ افسوس ہے اورہماری دلی ہمدردیاں ’’ لواحقین‘‘ کے ساتھ ہیں،لیکن اس پر اتنے شورشرابے کے ساتھ ہمیں گھیر گھار کر لانے کی ضرورت کیونکر پیش آئی؟ جواب میں اشاروں سے ہی ہمیں بتایا گیا کہ یہ مُرغی ہماری گاڑی کے نیچے آ کر مری ہے۔اس اچانک الزام پر ہم تلملا کر رہ گئے۔بچوں کے ساتھ اب بڑے بھی احتجاج کر رہے تھے۔اتنے میں وہاں سکول ماسٹر ٹائپ ایک صاحب آئے جنہیں انگریزی کے چند الفاظ کی شُد بُد تھی۔چھوٹتے ہی ہم نے اُس سے پوچھا کہ اس ’ ہُلّڑ بازی ‘ اور بد تمیزی کی کیا وجہ ہے؟اور اس گُستاخ ہجوم کا ہم سے کیا مُطالبہ ہے۔اُس نے بتایا کہ یہ لوگ آپ کی گاڑی کے نیچے آ کر مرنے والی مُرغی کی موت پر سخت نالاں ہیں اور اب اس کی قیمت طلب کر رہے ہیں۔ہم نے گاڑی کی رفتار وپوزیشن سے واضع کرنے کی کوشش کی کہ غلطی ہماری نہیں تھی۔اور یہ جائے وقوعہ سے بھی ثابت ہورہا ہے کہ ’ آنجہانی مُر غی‘ قریبی جھاڑی سے نکل کر بڑی سُرعت سے گاڑی کے پچھلے ٹائر کے نیچے آئی تھی۔واقعاتی شہادت سے اغلب گُمان ہو رہا ہے کہ بیچاری مُرغی نے اقدامِ خود کشی کیا ہے۔ہمارے پولیس کے تجربے سے دیکھا جائے تو اسکا یہ اقدام ہمیں اندرونی حا لات اور گھریلو ناچاقی کا شاخسانہ لگتا ہے، اور پسِ مرگ اس کی پُرسکون حالت بھی اسی امکان کی تائید کر رہی ہے۔اُس نیک سیرت سکول ماسٹر نے جب ہماری یہ تاویلات اُن لوگوں تک پہنچائیں توناہنجار اور بدتمیز لونڈوں پر مُشتمل وہ پُر احتجاج ہجوم اور بھی بپھر گیا اور ’’ ٹمبّے،، ڈھسّے اُٹھا کر ہمارا گھیراؤ کرنے لگا۔صورتِحال کی سنگینی کا اندازہ لگا کر ہم نے ترجمان سے کہا کہ ان بد لحاظوں سے پوچھیں کہ وہ مُردہ مُر غی کی کیا قیمت مانگتے ہیں؟ترجمان نے اُن سے پوچھ کر مُقامی کرنسی میں مطلوبہ قیمت بتائی۔ہم نے جھٹ موبائل کا کیلکو لیٹر نکالا اور ضرب تقسیم کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ جو قیمت وہ مردہ مرغی کی مانگ رہے تھے ہمارے ہاں اتنے پیسوں میں ایک بکری خرید ہو سکتی ہے۔ہم ’’ بارگیننگ‘‘ پر غور کر رہے تھے کہ اُس ’’ مجمع خلافِ قانون‘‘ میں سے ایک بزرگ تھوڑا آگے آئے اور ہاتھ کے اشارے سے پہلی دفعہ ہماری توجّہ مُرغی کے اُن چوزوں کی طرف کروائی جو اپنی مُردہ ماں کے گرد طواف کی طرز پر گھوم رہے تھے۔چوزوں کی اس بے تاب حرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بُزرگ موصوف کُچھ بُڑبڑا بھی رہے تھے۔ترجمان نے بڑبڑاہٹ کا ’’ ترجمہ‘‘ کرتے ہوئے بتایا کہ بزرگ کہہ رہے ہیں ان معصوم بے زبانوں سے اُن کی ماں چھین کرآپ نے جتنا بڑا ظُلم کیا ہے اس کے سامنے تو مانگی گئی قیمت کُچھ بھی نہیں۔مذکورہ الزام کے مُتعلق ہمارے ’’ تحفظّات‘‘ اپنی جگہ۔۔لیکن!! بابا جی کے استدلال میں ،بہرطور،وزن تھا۔ پردیس میں قریبی رشتوں کی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔ انجانے جذبات سے مغلوب،غیر ارادی طور پر میرا ہاتھ جیب کی طرف گیا ، میں نے مطلوبہ رقم نکالی اور اسی باباجی کے ہاتھ میں تھما دی۔

Image result for died chickenمیری نظر اب ان چار، پانچ چھوٹے چھوٹے چُوزوں پر مرکوز تھی جو بڑی بے قراری سے اپنی مُردہ ماں کے گرد گھوم رہے تھے۔ان میں ایک چوزہ خاص طور پر میری توجّہ کا مرکز تھا!! یہ نحیف و لاغر سا چُوزہ، جو جسمانی لحاظ سے باقی بھائیوں سے چھوٹا تھا، سب سے زیادہ مُضطرب اور بے قرار نظر آرہا تھا۔باقی چُوزوں کی نسبت یہ ماں کے زیادہ قریب مگر بے حِس و حرکت کھڑا تھا۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنی ننھّی مُنھّی سی زرد چُونچ اپنی ماں کی خون آلود چُونچ پر رکھ دیتا ! موت و حیات کے فلسفے سے عاری اس کا ذہن یہ سوچنے سے قاصِر تھا کہ اُس کی ماں بولتی کیوں نہیں ؟اُس کی ’’ سمجھ ‘‘ سے باہر تھا کہ خطرے کی ہلکی سی ارتعاش پر بھی اُ س کو اپنے اندر چھُپا لینے والے ممتا کے وہ نرم و گُداز پَر آج بے حرکت کیوں تھے؟۔اُ س کی ’’پناہ گاہ‘‘ وا کیوں نہیں ہورہی تھی ؟۔ایک لمحے نے اُس کی حفاظتی چھتری چھین لی تھی۔اُس کی پناہ گاہ لُٹ چکی تھی۔۔ممتا کے سرہانے کھڑا وہ مُسلسل چُوں چُوں کر رہا تھا!! لیکن ! اُس کی آہیں ۔۔فریادیں، صدا بصحرا کی مانند،بے ثمر تھیں۔۔۔اُس کی کربناک۔۔دردناک چیخیں بے اثر لوٹ رہی تھیں !!! اور پاس۔۔۔بالکل پاس۔۔اقوامِ مُتحدہ خاموش کھڑی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *