سوار ِاشہب ِدوراں

اگرچہ ہم اختلاف رائے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن یہ بات ہم نے بہت پہلے اتفاق رائے سے طے کرلی ہوئی ہے کہ یہ فرسودہ نظام گل سڑ چکا ہے اور اسے بیخ و بن سے اکھاڑے بغیر تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ۔آپ کسی ڈھابے پہ مانگ کر سگریٹ پینے والے فری لانسر دانشور سے بات کر لیں یا پھر سوشل میڈیا کے تجزیہ نگاروں کا بھاشن سننے کا خطرہ مول لیکر دیکھیں ،سب کی تان اسی جملے پر آکر ٹوٹے گی کہ اب تو خمینی جیسا کوئی انقلابی لیڈر ہی حالات ٹھیک کر سکتا ہے۔ہم ہر دور میں کسی مسیحا اور نجات دہندہ کی راہ تکتے رہے ہیں اور شوقِ انقلاب کا یہ عالم ہے کہ ایوب خان ،یحییٰ خان ،ضیا ء الحق اور پرویز مشرف جیسے خوابوں کے سوداگر ہمیں بے وقوف بنا کر چلتے بنے ۔سیاستدانوں سے تو ہم بہت پہلے ہی مایوس ہو چکے تھے لیکن پرویز مشرف نے ہاتھ کیا تو اِدراک ہوا کہ ان تلوں میں بھی تیل نہیں ۔ناامیدی کے سائے پھیلتے ہی جا رہے تھے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری دفعتاً مسیحا کے روپ میں دکھائی دیئے اور سب یکلخت پکار اٹھے ،یہی تو ہے وہ صبح ِخوش جمال جس کی راہ تکتے آنکھیں پتھرا گئیں۔پہلی بار ’’چیف تیرے جانثار‘‘ کے نعرے خاکی چیف کے بجائے کسی اور چیف کے حق میں لگے۔لاکھوں جتن کرکے اس چیف کو واپس لائے۔ عوامی توقعات کا پہاڑ سر کرنے کے لئے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کوہ پیمائی کا آغاز کیا ہی تھا کہ ان کی مدت ملازمت ختم ہو گئی ۔ان کے بعد کتنے ہی چیف جسٹس آئے، جسٹس تصدق حسین جیلانی ،جسٹس جواد ایس خواجہ ،جسٹس ناصرالملک ،جسٹس انور ظہیر جمالی ،یہ سب ہی قابل احترام جج ہیں لیکن ہم مقہور ومجبور اور لاچار و بے بس عوام کو تو پھر سے کسی مسیحا کی تلاش تھی ،ہم سیاستدانوں کے ستائے اور ظالمانہ نظام سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو تو کسی نجات دہندہ کا انتظار تھا۔ایسے قاضی القضاۃ کی تلاش تھی جو قانونی موشگافیوں میں الجھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے بے خوف و خطر مظلوموں کی داد رسی کرسکے ۔
سچ تو یہ ہے کہ محض چند ماہ پہلے تک پورے وثوق سے یہ بات نہیں کہی جا سکتی تھی کہ عدل و انصاف کا ایک سنہری دور شروع ہونے کو ہے ۔مگر اب احساس ہوتا ہے کہ لاعلمی اور جہالت بھی بہت بڑی لعنت ہے ۔ہم شورو فغاں میں مگن تھے اور پیر مغاں ہمارے غریب خانے پر دستک دے رہا تھا۔ہاں مگرجب سب نقاب الٹ گئے اور حالات یکسر پلٹ گئے تو ہر شخص چلااٹھا :
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو
جسٹس افتخار چوہدری پر تو لوگوںنے تب محبتیں نچھاور کیں جب انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا لیکن آپ نے تو ایسے حالات پیدا کئے بغیر ہی سب کو اپنا گرویدہ کرلیا ۔اب تو وکلاحضرات بھی میسج کرکے کہتے ہیں ،ہمیںپینے کا صاف پانی درکار ہے،ہمیں صاف ماحول اور صاف ہوا چاہئے ،ہمیں خالص دودھ چاہئے، ہمیں مردہ جانوروں کا گوشت نہیںکھانا،ہمیں ہماری فصلوں کی جائز قیمت ملنی چاہئے ،ہمیں اسپتالوں میں مفت علاج ملنا چاہئے اور سب سے آخر میں سستا اور معیاری انصاف بھی مل جائے تو نوازش ہو گی۔ اب اگر لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ضروریات صاحبِ عدل پوری کر سکتے ہیں تو وہ ان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کیوں نہ کریں۔یقیناً یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں کہ کسی تحریک کے بغیر ہی نثارانِ نثار کی تعداد روزبروز بڑھتی جا رہی ہے اور اب تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیںکہ لوگ صاحبِ عدل کے حق میں پوسٹرز لگا کر اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرنے لگے ہیں۔بعض ’’پٹواریوں ‘‘ اور ’’لفافہ صحافیوں ‘‘ کو عدلیہ کی مقبولیت ایک آنکھ نہیں بھا رہی تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جا کر اپنی بھینس چرائیں ،اس عوامی پذیرائی پر جلنے والوں کا منہ کالا اور عدل و انصاف کا بول بالا۔
ہم پاکستانیوں کی طرح دیگر ایشیائی ممالک کے باشندے بھی کسی ایسے ہی معجزے کے منتظر تھے ۔اور ان میں سے کئی بدقسمت معاشروں نے تو ایسے گوہر نایاب پاکر کھودیئے ۔مثال کے طور پر سری لنکا میں تو ہوبہو پاکستان کی تاریخ دہرائی گئی ۔صدر مہندا راجہ پکسے جو دوسری مرتبہ حکومت بنانے میں کامیا ب ہوئے تھے انہوں نے عوامی مینڈیٹ کے زعم میں چیف جسٹس شیرانی بندرانائکے کو پارلیمنٹ میں قانون پاس کرکے برطرف کر دیا اور اپنے قانونی مشیر موہن پیئرس کو چیف جسٹس تعینات کر دیا۔وکلا اور سول سوسائٹی اس غیر قانونی اور غیر آئینی فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک شروع کر دی۔اس دوران انتخابات ہوئے تو عوام نے بھی مہندا راجہ پکسے کو مسترد کر دیا ۔ سابق وزیر صحت میتھری پالا صدر منتخب ہوئے تو ان پر عدلیہ کی بحالی کے لئے شدید دبائو تھا ۔نومنتخب صدر نے کابینہ کا اجلاس بلایا اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے موہن پیئرس کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس شیرانی بندرا نائکے کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا۔ عوام کا خیال تھا کہ اب ان کے دن سنور جائیں گے مگر چیف جسٹس شیرانی بندرا نائکے نے اگلے ہی دن چیف جسٹس کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور یوں انقلاب کے پھول بن کھلے ہی مرجھا گئے ۔بنگلہ دیش میں چیف جسٹس سریندرا کمار سنہا نے برسہا برس سے ظلم و جبر کی چکی میں پیسے جا رہے عوام کی داد رسی کرنے کی کوشش کی تو حسینہ واجد کی صورت میں حکومت پر قابض سسلین مافیا نے عوام کی مسیحائی کی پاداش میں چیف جسٹس کوملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور جسٹس سریندرا کمار سنہا کو کینیڈا جا کر وہاں سے استعفیٰ بھجوانا پڑا ۔اسی طرح مالدیپ میں عدلیہ نے اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے تاریخی فیصلے دینا شروع کئے تومالدیپ کے گاڈ فادر، صدر یامین کی حکومت نے خطرے کی بو سونگھتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کر دی اور چیف جسٹس عبداللہ سعید کے علاوہ سپریم کورٹ کے ایک اور انصاف پسند جج جسٹس علی حمید کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔جب یہ خبریں آتیں تو دل دھک دھک کرنے لگتا مگر پھر یہ سوچ کر اطمینان ہوتا کہ ایسے نڈر اور بے خوف منصفوں کی موجودگی میں یہ بزدل حکومت عوامی مینڈیٹ کے زعم میں ایسی غلطی ہرگز نہیں کر سکتی کیونکہ تمام آئینی ادارے عدلیہ کی پشت پر ہیں۔ہاں مگر جب یہ خیال آتا ہے کہ اگلے برس فروری میں جسٹس افتخار چوہدری کی طرح یہ محترم صاحب عدل بھی رخصت ہو جائیں گے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بندوق کی نوک پر برسر اقتدار آنیوالے ڈکٹیٹر تو جب تک چاہیں مسلط رہیں ،ووٹ کی طاقت کا غلط استعمال کرنیوالے خود ساختہ عوامی نمائندے تو دھونس دھاندلی سے دوبارہ منتخب ہو کر آجائیں مگر ایسے مسیحا اور نجات دہندہ مدت ملازمت ختم ہونے پر چپ چاپ گھر چلے جائیں ۔جسٹس وجیہ الدین اور جسٹس افتخار چوہدری کا سیاسی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بعد از ریٹائرمنٹ سیاسی جماعت بنا کرمعاشرے میں سدھار لانا اور انقلاب برپا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔لہٰذا دست بستہ گزارش یہ ہے کہ جانے سے پہلے ہی کچھ ایسا بندوبست کر جائیں کہ سسلین مافیا کی کمر ٹوٹ جائے اور یہ بعد میں بھی اٹھ کر کھڑے ہونے کے قابل نہ رہیں۔نوازشریف اینڈ کمپنی کے تمام بڑے چھوٹے گاڈ فادرز کو تاحیات نااہل کرکے پابند سلاسل کر دیں ۔نیب عدالت سے سزا ئیں ہونیکے بعد
ان کی اپیلیں آخری فورم سے بھی خارج کرکے نشان ِ عبرت بنا کر جائیں تاکہ یہ طفلان ِ جمہوریت پھر سے سر اٹھانے کے قابل نہ ہوں کیونکہ آپ ہی تو ہیں سوار اشہب دورا ں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *