چیرمین سینٹ کس کا ہوگا؟

آج پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک روشن دن ہے ۔ ایوان بالا یعنی سینٹ کے انتخابات مقررہ وقت پر ہوئے۔ یوں نام نہاد  دانش وروں اور صحافیوں کے تجزیے کے نام پر بیان کردہ خواہش دم توڑ گئی اور جمہوریت کی پختگی اور استحکام کا سفر جاری رہا ۔ یقیناًیہ ایک خوش آیند بات ہے ۔ اس موقع پر انھی مایوس عناصر کی طرف سے ہارس ٹریڈنگ کی بات بھی کی گئی اور اس بات پر کچھ محب وطن عناصر بھی پریشان نظر آئے کہ ووٹوں کو خریدنے کا عمل بھی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں پی پی کو تین سیٹیں زیادہ اور کے پی کے میں اسے ایک سیٹ زیادہ ملی ۔ جبکہ پنجاب سے پی ٹی آئی کو ایک سیٹ زیادہ ملی۔ یہ سیٹ چودھری سرور کو ملی ۔ اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کا کون ذمہ دار ہے ۔واضح ہے جن کو فائدہ ہوالیکن اس سب کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ سینٹ کے یہ انتخابات ماضی کے لحاظ سے بہت حد تک شفاف تھے۔ یوں بہتری کی طرف سفر جاری ہے۔ جس طرح ملک کے دوسرے ادارے، چاہے وہ عدلیہ ہو یا صحت ، تعلیم ہو یابیورو کریسی یا پولیس، کرپشن سے پاک نہیں ، اور اس کے باوجود ہم ان کو ختم نہیں کر سکتے ، بس اسے بہتری کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح سینٹ کی ہارس ٹریڈنگ کے غم میں اسے لپیٹا نہیں جا سکتا تھا، اس لیے یہی درست تھا جو ہوا ۔البتہ اس میں بہتری لائی جاسکتی ہے اور اس کے لیے ہمارے خیال میں براہ راست ووٹنگ ایک بہتر حل ہے ، سینٹ کا الیکشن اوپن ہونا چاہیے ، خفیہ راے دہی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ فاٹا کو جلد از جلد کے پی کے کا حصہ بنا دینا چاہیے تاکہ اسن سیٹوں پر ہونے والا کالا دھندہ اپنے انجام کو پہنچے۔
ایک نجی چینل پر’’ سوچ فہیم فارانی کے ساتھ ، ٹاک شو میں ، میں نے نتائج آنے سے پہلے مسلم لیگ ن کے 33 اور پی پی پی کے زیادہ سے زیادہ 20 ارکان کا اندازہ دیا تھا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہی نتیجہ آیا ۔ میرا یہ کہنا کسی خبر کی بنیاد پر نہیں ، تجزیے کی بنیاد پر تھا۔ ان شا للہ یہ اندازہ بھی درست ثابت ہو گا کہ چیرمین سینٹ مسلم لیگ ن کا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے اتحادیوں سمیت پینتالیس اراکین ہیں ۔ اسے اپنا قائد ایوان لانے کے لیے محض آٹھ ووٹ چاہییں ۔ اتنے ووٹوں کا حصول ، جبکہ وہ اقتدار میں بھی ہے ، کچھ مشکل نہ ہو گا ۔ لیکن ن لیگ کو جس طرح کا ٹف ٹائم دیا جا رہا ہے ، اس کو سامنے  رکھتے ہوئے کسی بھی ایڈونچر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔پی پی اپنے بیس ووٹوں کے ساتھ اگر تینتیس آزاد ارکان کو اسی طرح خرید لے جس طرح اس نے سندھ اور کے پی کے میں کیا ہے تو وہ اپ سیٹ کر سکتی ہے ۔ یقیناً ن کی حکومت دشمن  قوتیں بھی یہی چاہیں گی ۔ اس صورت میں زرداری سب پر بھاری  کو اسی طرح کی گیم کھیلنی ہو گی جس طرح بی بی کے شہید ہونے پر موصوف  نے مشرف سے کھیلی تھی ۔ اور اس میں ان سے زیادہ بھلا کون ماہر ہو گا۔ یوں مسلم لیگ کے لیے خطرے کی گھنٹی موجود ہے ۔ دوسرے لفظوں میں گیم ابھی آن ہے ! کہانی ابھی باقی ہے !!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *