مسلم لیگ ن کو ھرانے کے تمام منصوبے ناکام ھو چکے

غالبا اس بات کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا گیا تھا۔ کہ 2013 کے الیکشن کے بعد نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو اگلا الیکشن جیتنے نہیں دینا۔ وجہ اس کی صرف دو تھیں ۔ نواز شریف مقتدر حلقوں کے لیے پسندیدہ نہیں رھے تھے۔ اور یہ ناپسندیدگی تب ھی شروع ھو گئ تھی جب انہوں نے بطور وزیر اعظم 1993 میں اپنی مشہور زمانہ تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ اور ڈکٹیشن نہ لینے کا یہ اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے تھا۔ اس سے پہلے نواز شریف پہلی گلف وار اور آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم کے متعلق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی پالیسی کی بھی مخالفت کر چکے تھے۔ کراچی میں متحدہ کے خلاف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے آپریشن کلین اپ کے خلاف تھے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایشو پر جنرل جہانگیر کرامت سے استعفے لے چکے تھے۔ کارگل ایشو پر جنرل مشرف کو برطرف کرنے پر اپنی حکومت گنوا چکے تھے۔ چنانچہ ناپسندیدگی بہت زیادہ تھی۔ جنرل کیانی نے چونکہ جنرل مشرف کو وکلاء تحریک کے ذریعے حکومت سے فارغ کیا تھا۔ اور جنرل مشرف ابھی حال ھی میں اپنے ایک انٹرویو میں اس حقیقت سے پردہ بھی اٹھا چکے ہیں۔ چناچہ کچھ جنرل کیانی کی اپنی پالیسی اور کچھ سعودی عرب کا دباؤ ، نواز شریف جلا وطنی سے سیدھے پاکستان کی سیاست میں داخل ھو گئے۔ جنرل راحیل چونکہ پرو جنرل مشرف تھے۔ اور جس کا اقرار جنرل مشرف بھی کر چکے ھیں ۔ کہ جنرل راحیل نے ملک سے باھر جانے میں ان کی مدد کی۔ اور چونکہ نواز شریف نے آئین توڑنے کے الزام میں جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ بھی شروع کروا دیا۔ چنانچہ نواز شریف کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی پرانی ناپسندیدگی پھر سے تازہ ھو گئ۔ جو جنرل کیانی کی وجہ سے عارضی طورپر دب گئ تھی۔ ایکسٹنشن نہ ملنے پر جنرل راحیل اور جنرل پاشا مزید ناراض ھو گئے۔ جنرل مشرف کی لابی پہلے ھی تیار بیٹھی تھی۔ چناچہ نہ صرف وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو مفلوج کر دیا گیا۔ بلکہ کبھی ڈان لیکس ، کبھی دھرنے ، کبھی کلبھوشن یادیو ، کبھی مودی یار ،کبھی ختم نبوت اور کبھی ضرب عضب کے نام پر وزیراعظم کے اختیارات بھی سلب کر لیے گئے۔ اس دوران نواز شریف کی صرف یہ کوشش تھی۔ کسی طرح اپنی مدت پوری کی جائے۔ پروجیکٹس مکمل کیے جائیں اور اگلا الیکشن ان ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر لڑا جائے۔ اور اچھے وقت کا انتظار کیا جائے۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ انہیں یہ وقت دینے کے لیے تیار نہ تھی۔ پانامہ لیکس کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور جب اس میں کچھ نہ ملا تو اقامہ پر نااھل کر دیا گیا۔
ایک وجہ ناپسندیدگی تھی۔ اور دوسری وجہ یہ خوف کہ ایک سیاسی خاندان بہت طاقتور ھوتا جا رھا ھے۔ اور شاید مقبول بھی۔
نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو سیاست سے آوٹ کرنے کے لیے پہلے عمران خان اور میڈیا کے ذریعے نواز شریف کے خلاف چار سال تک چور اور ڈاکو کا پروپیگنڈہ کروایا گیا۔ پھر نااھل کرنے سے پہلے ججوں کے ذریعے سسلین مافیا ، ڈان اور گاڈ فادر جیسا گھٹیا پروپیگنڈہ کروایا گیا۔ پھر نااھل کیا گیا۔ مزید ڈرانے اور جیل میں ڈالنے کا خوف دیا گیا۔ اور اس کے لیے نیب کے مقدمے شروع کرواے گئے۔ جب پھر بھی بات نہ بنی اور نواز شریف نے سیاست چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ڈٹ کر کھڑے ھو گئے۔ اور اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں پیش کر دیا۔ تو قادری سمیت اپوزیشن کی چالیس پارٹیوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئ جو ناکام ھو گئ۔ حلقہ 120 میں بیالیس امیدواروں اور لبیک والوں کو الیکشن لڑانے کا تجربہ کیا گیا تاکہ ن لیگ کے ووٹ توڑے جا سکیں۔ یہ تجربہ 120 میں ناکام ھوا۔ چکوال اور لودھراں میں ناکام ھوا۔ تو سرگودھا میں ون آن ون کا تجربہ کیا گیا۔ تاکہ نواز مخالف تمام ووٹ تحریک انصاف کو مل سکیں۔ یہ تجربہ بھی ناکام ھو گیا۔
سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے بلوچستان حکومت تبدیل کی گئ۔ ججوں کے ذریعے مسلم لیگ ن کے سینٹ امیدوار آزاد کیے گئے۔ نواز شریف کی صدارت ختم کی گئ۔ شیر اور پارٹی کا نام ختم کیا گیا۔ سینٹ الیکشن میں دھاندلی کروائی گئ۔ لیکن یہ تمام کوششیں اور تجربے ناکام ھو گئے۔ آج مسلم لیگ ن قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اکثریتی پارٹی ھے۔ اب چئیرمین سینٹ کے الیکشن کے لیے منصوبہ بندی جاری ھے۔ شائد نوازشریف کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی جائے شائد انہیں جیل میں ڈال دیا جائے ۔ شائد الیکشن ملتوی کرکے کیئر ٹیکر سیٹ اپ لایا جائے اور شاید ھنگ پارلیمنٹ اور مخلوط حکومت بنانے کی پلاننگ کی جائے۔ لیکن وقت اور زمینی حقائق اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چل رھے۔ سول سپریمیسی اور ووٹ کی حرمت کا بیانیہ مقبول ھو رھا۔ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو سیاست اور الیکشن سے آوٹ کرنے کے تمام منصوبے ناکام ھو چکے۔ جو منصوبے بن رھے۔ ناکامی ان کا مقدر ھے۔ الیکشن آج ھوں یا کل ھوں۔ ھونے ضرور ھیں۔ جو طاقتیں ایک حلقہ مینیج نہیں کر سکتیں۔ پورا الیکشن کیسے مینیج کریں گی۔ بہتر ھے عوامی راے کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے۔ یہ جسے چاھے اپنا حکمران چن لے۔ سول سپریمیسی کے سامنے ایک دن سر جھکانا پڑے گا۔ یہ مورچے میں آخری لڑائی چل رھی ھے۔ بہتر ھے سیاستدانوں سے مل بیٹھ کر کسی میگنا کارٹا پر دستخط کر لیں۔ اور اپنے اسٹیکس کو محفوظ بنانے کی کوئی قانونی اور آئنی راہ نکالیں۔ اسی میں ملک و قوم کی بقا اور سلامتی ھے۔ آخر کب تک اپنے لوگوں سے لڑائی ھو گی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *