میں نے جام ساقی سے کیا سیکھا

ہدایت حسین

میری جام ساقی سے پہلی بار ملاقات 1966 میں ہوئی۔ وہ سندھ یونیورسٹی کے سینئر طالب علم تھے جب کہ میں ابھی فرسٹ ائیر میں تھا۔ مجھے ان کا نام بہت دلچسپ لگا۔ اردو میں جام شراب کو اور ساقی شراب پیش کرنے والے کو کہتے ہیں۔ لوگوں کو بھی اس نام سے حیرت ہوتی تھی۔ وہ بتاتے کہ جام عام طور پر استعمال ہونے والا نام ہے اور ساقی ان کا تخلص ہے۔ جام ساقی کی شخصیت ان کے نام سے مطالبقت رکھتی تھی۔ ان کے پاس صرف ایک پینٹ شرٹ کا جوڑا تھا۔ ہمیشہ چپل پہنتے تھے کبھی بوٹ پہنے انہیں نہیں دیکھا۔ وہ اکثر مختلف کالجز اور کیمپس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ مصروفیت کی خاطر آاتے
جاتے رہتے تھے۔ وہ ایک اچھے انسان تھے۔ لوگ ان کی سیاسی عزام سے قبل ان کی ایمانداری اور اخلاص سے متاثر ہو جاتے تھے۔ میں اکثر انہیں ملنے تلک جاری کے علاقے میں موجود ان کی کھولی جانے لگا۔ کمرہ ایک چارپائی کے سائز سے تھوڑا بڑا تھا۔  کمرے میں تیل پر چلنے والا چولہا تھا جس پر وہ دن کا ایک ہی بار کھانا شام کے وقت تیار کرتے تھے۔ کھانے میں زیادہ تر دال اور روٹی ہی ہوتی تھی۔ وہ اکثر مجھے کھانے کی دعوت دیتے تھے۔ جام کا تعلق تھرپارکر کے دور کے گاوں جانجی سے تھا جو بھارتی بارڈر کے بہت قریب ہے۔ ان کی مادری زبان تھری تھی۔ ان کے والد سچل بابا پرائمری سکول کے ٹیچر تھے۔ گاوں میں ایک کنواں تھا جہاں سے گدلا پانی ہی ملتا تھا۔ جنجی سے چچرو تک بہت فاصلہ تھا اور چچرو سے میر پور خاص پہنچنا لاہور سے کراچی جانے جتنا سفر تھا۔ حیدر آباد کا سفر تو اور بھی لمبا ہوتا تھا۔ جب میں نے جام سے پوچھا کہ وہ کمیونسٹ کیسے بنے تو انہوں نے کہا کہ دہات کو مقناطیس ہمیشہ کھینچتا ہے۔ وہ بہت پڑھاکو انسان تھے۔ سندھی کے علاوہ وہ بہت سی اردو اور انگریزی کتابیں بھی پڑھتے تھے۔ ان کا پسندیدہ ناول **naked among wovlves ** کا اردو ترجمہ تھا جو وہ ہر کسی کو پڑھنے کے لیے دیتے تھے۔ پھول اور صموم نامی اس اردو ترجمہ کی مصنفہ رضیہ سجاد ظہیر تھیں جو سجاد ظہیر، مقبول اردو مصنف کی اہلییہ تھں اور پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی کی پہلی جنرل سیکرٹری تھیں۔ بعد میں جام نے بھی اپنے بیٹے کا نام سجاد ظہیر رکھا۔  ایک نوجوان سندھی مصنف منیر مانک مذاق سے کہا کرتے تھے کہ آج کل جام لوگوں میں پھول اور سموسے بانٹ رہا ہے۔ جام بہت چاہنے والے انسان تھے۔ ان کی یہی خاصیت لوگوں کو بہت متاثر کرتی تھی۔ وہ ہر ملنے والے کو گلے لگاتے اور لوگوں کو پیار سے جانی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔  یہ سب کچھ دکھاوا نہیں تھا بلکہ وہ واقعی ایک مخلص اور محبت کرنے والے مہربان انسان تھے۔ وہ یہ رویہ ہر قسم کے لوگوں سے روا رکھتے تھے چاہے وہ سیاسی دوست ہوں یا مخالفین۔ ضیا دور کے دور حکومت کے 8 سال لاہور قلعہ اور مچھ جیل میں گزارنے اور تشدد سہنے کے باوجود ا ن کے دل میں آرمی کے لیے نفرت نہ تھی۔ وہ کہتے تھے کہ عام فوجی اور یحیی خان اور ضیا الحق جیسے فوجیوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جام کو پہلے ایوب خان کے دور میں گرفتار کیا گیا، پھر یحیی خان کے دور میں اور پھر ضیا الحق کے دور میں۔ جیل کے اندر اور باہر کے اس دورانیہ میں انہوں نے اپنی پہلی شادی سخان نامی خاتون سے کی جس کا تعلق اسی گاوں سے تھا۔ جب وہ فیملی کے ساتھ حیدر آباد آئے تو انہوں نے اپنی بیوی کو میری ماں سے بھی ملایا جو ان کو بیٹے کی طرح بہت پسند کرنے لگی تھیں۔ میری ماں ایک مذہبی خاتون تھیں لیکن وہ جام کی سادگی اور خلوص سے بہت متاثر تھیں۔ پھر میں بیرون ملک چلا گیا لیکن وہ میری ماں سے ملنے آتےرہے۔ بعد میں جب جام گرفتاری سے بچنے کے لیے انڈر گراونڈ تھے تو وہ اپنی بیوی سے میرے گھر میں ملاقات کرتے تھے۔ 1978 میں اپنی گرفتاری سے کچھ دن قبل وہ آخری بار میرے گھر میں اپنی بیوی سے ملے۔ یہ ان کی زندگی کی آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ سخان کے بطن سے انہیں ایک بیٹا سجاد ظہیر اور بیٹی بختاور نصیب ہوئے۔ جب یہ خبر پھیلی کہ لاہور فورٹ میں جام پر سخت تشدد کیا جا رہا ہے اور وہ اکیلے تنہائی میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں تو سخان کے لیے یہ خبر ناقابل برداشت ثابت ہوئی۔ اس تکلیف سے بچنے کے لیے انہوں نے کنوئیں میں چھلانگ لگا کر جان دے دی۔ سخن کے جام کے لیے پیار کو بیان کرنے کے لیے ایک اور شاہ عبدالطیف بھٹائی درکار ہو گا جو اپنی شاندار شاعری میں اسے بیان کر پائے جیسے انہوں نے ۔سر سسی۔ اور ۔سرماروی۔ لکھے۔ 1987 میں جب جام جیل سے باہر آئے تو اس لمبی قید کا اثر ان پر واضح نظر آتا تھا۔ وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔ انہیں کئی کئی گھنٹے تفتیش کے لیے کھڑا رکھ کر ان کی ٹانگیں بے کار بنا دی گئیں۔ سخان کی موت نے بھی ان کی زندگی کا سکون چھین لیا تھا۔ کچھ سال بعد جب انکے خیر خواہوں نے کروم ویل ہاسپٹل میں ان کے علاج کا بندوبست کیا تو ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کا زندہ ہونا ایک معجزہ ہے لیکن زندگی کی خواہش نے انہیں مجبور کیا کہ وہ دوبارہ شادی کریں اور زندگی کو ایک نیا آغاز فراہم کریں۔ جس نظریہ کے لیے جام لڑ رہے تھے وہ اس وقت بے معنی ہو گیا جب سوویت یونین کے ٹکڑے ہو گئے لیکن جام کی غریبوں اور مظلوموں سے ہمدردی کم نہ ہوئی۔ وہ ڈکٹیٹر شپ کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی بہت تعریف کرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ بے نظیر بھٹو کے بہت معترف تھے۔ جب وہ ضیاالحق کے اقتدار کے خلاف لڑ رہے تھے تو اس کی وجہ پیپلز پارٹی سے ان کا تعلق نہیں بلکہ اس پارٹی کی پالیسی سے ان کا اتفاق تھا۔ جام ساقی 74 سال کی زندگی پا کر اپنے خالق سے جا ملے ہیں۔ یہ ایک مختصر زندگی نہیں تھی لیکن قید و بند اور ذاتی پریشانیوں نے اس زندگی کا ایک زیادہ حصہ ضائع کر دیا تھا۔ جب میں ان کے جنازے میں اس ہفتے شریک ہوا تو مجھے وہ سارے دن یاد آئے جب ہم دوست تھے اور میں ان سے تقریبا روزانہ ملا کرتا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ کتنے مضبوط اور اچھے انسان تھے۔ وہ اس مختصر زندگی کے مقابلے میں بہت زیادہ عظیم انسان تھے :۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *