کیا ہونے والا ہے؟

ایسا ہر گز نہیں کہ جامعہ نعیمیہ کا واقعہ اس احتجاجی روایت کا حصہ ہے جس کا آغاز سابق امریکی صدر بش پر جوتا اچھالنے سے ہوا تھا اور نہ یہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں مشرف سے لے کر احسن اقبال پر علامتی طور پر جوتا پھننکا گیا تھا۔ یہ ایک بالکل نءی تحریک ہے ۔ میں واقعات بتا دیتا ہوں نتیجہ آپ خود نکال لیجیے گا ۔
خواجہ آصف پر سیاہی پھیکنے والا شخص ایک امام مسجد کا بیٹا اور خود بھی امام مسجد ہے ۔ ان کا تعلق بریلوی مسلک سے ہے، تحریک لبیک کا پرجوش حمایتی ہے ۔ حرکت کرنے کے بعد یہ کہا گیا کہ انھوں نے ختم نبوت کے دفاع میں یہ'' جہادی ایڈونچر " کیا ہے ۔ اور وہ اس پر ہر گز شرمندہ نہیں ہیں بلکہ انھین فخر ہے۔ اس کے باوجود خواجہ آصف نے اسے یک طرفہ طور پر معاف کر دیا ۔ جامعہ نعیمیہ میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت ہمارے ایک جاننے والے وہاں موجود تھے ۔ جامعہ نعیمیہ کے ساتھ ہما ری بڑی تلخ وشیریں یادیں وابستہ ہیں ۔ ان کا ذکر پھر کبھی ہو گا ۔ ابھی یہ سن لیں کہ جوتا اچھالنے والے ایک نہیں متعدد تھے ۔ جیسے ہی نواز شریف سٹیج پر آئے، پہلے مولوی منور علی نے جوتا اچھالا اور فاتحانہ انداز سے بازو اٹھائے اور نواز شریف سے شدید نفرت کا اظہار کیا۔ اس کے فوراً بعد کئی اور جوتے بھی پھینکے گءے جو سٹیج تک نہیں پہنچ پائے ۔ ساتھ ہی'' لبیک یا رسول اللہ ''کی آوازیں بلند ہوئیں۔ حالات یک دم قابو سے باہر ہوتے دیکھ کرمولانا راغب نعیمی خود سٹیج پر آئے اور سخت انداز سے فسادی جتھے کو روکا جن کی ایک خاص تعداد تھی ۔ ان میں اکثر جامعہ کے سابق فارغ التحصیل لوگ تھے ۔ ان میں چند کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن ان کی رہائی پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کو جلد رہا بھی کر دیا جائے گا ۔ لیکن حیرت انگیز طور پر سوشل میڈیا پر اور مقامی علاقے گڑھی شاہو میں اصل سخص کے قتل کی افواہ پھیلائی گئی لیکن مولانا راغب نے اس کی سختی سے تردید کی۔ انھون نے یہ کہا کہ لبیک یا رسول اللہ تحریک نے ان کے اور شریف فیملی سے برسوں پرانے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اور وہ اصل سازشیوں کو بے نقاب کر کے رہیں گے۔ وہاں پر موجود مشہور صحافی سہیل وڑائچ نے اس بات کی تصدیق کی یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم موو تھی۔ اس واقعے کے بعد حیرت انگیز طور پرعمران خان سمیت تمام سیاسی لیڈرون نے اس کی شدید انداز میں مذمت کی حالانکہ خواجہ آصف والے واقعے پراپوزیشن کے کسی بڑے لیڈر نے مذمت نہیں کی تھی لیکن ذرائع کے مطابق جیسے ہی یہ اطلاع ملی کہ اس واقعے کے پیچھے آب پارہ کے مشکوک ہاتھ ہیں تب تمام سیاسی لیڈروں نے متفقہ طور پر اس واقیعہ کی مذمت کی ۔ لیکن اس کے فوراً بعد ہی ایک مشکوک شخص کو بھی گرفتار کیا گیا جس پر الزام ہے کہ اسے عمران خاں پر جوتا پھیکنے کے لیے رانا ثنا کے داماد نے بھیجا ہے ۔ان سارے واقعات کو جاننے کے بعد اب آپ تحریک لبیک کا پس منظر دیکھیے اور ان کی اسلام آباد میں یلغار یاد کریں اور مولوی خادم رضوی کی باتیں یاد کریں اور اور پھر متعدد تجزیوں کو یاد کریں جس میں سر فہرست ہارون الرشید کا یہ کہنا کہ اگر امن و امان خراب ہوا تو عدلیہ خود یہ کہہ سکتی ہے کہ فوج ٹیک اور کر لے ۔۔۔یوں کھیل ختم اور پیسہ ہضم ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *