ووٹ کو عزت نہیں ملے گی

ہماری سیاسی قیادتوں کو کس قسم کے کارکن‘ کس قسم کے سیاسی مزارع درکار ہیں‘ رضا ربانی اس کی ’’شاندار‘‘ مثال ہیں‘ رضا ربانی سر سے لے کر پاؤں تک ناقابل برداشت اور سیاسی لحاظ سے انتہائی غیر ضروری سیاستدان ہیں‘ کیوں؟کیونکہ یہ ایک ذہین‘ پڑھے لکھے اور ذہنی لحاظ سے بالغ انسان ہیں اور یہ غلطی کسی بھی شخص کے لیے ملک کی کسی بڑی سیاسی جماعت سے بے دخلی کی وجہ بن سکتی ہے۔

ہماری جماعتوں کو ذہنی لحاظ سے چھوٹے بلکہ زبیر گل جیسے لوگ چاہئیں‘ ہماری پارٹیاں بالغ النظر ‘ پڑھے لکھے اور ذہین لوگوں کو برداشت نہیں کرتیں اور رضا ربانی میں یہ بدقسمتی کوٹ کوٹ کر بھری ہے‘ ان کا دوسرا جرم سیاسی ایمانداری ہے‘ یہ اپنے خیالات اور نظریات میں ایماندار ہیں‘ یہ رات کو دن اور دن کو رات کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ ہماری سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگوں کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

ہماری قیادت کو صرف اور صرف ’’واہ جی واہ‘‘ چاہیے‘ آپ اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کریں‘ سامنے سے واہ جی واہ کی آوازیں آنی چاہئیں‘ آپ پھر وہی اینٹیں اٹھا کر اپنے سر میں مارنا شروع کر دیں سامنے سے اس بار بھی واہ جی واہ اور سبحان اللہ‘ سبحان اللہ کی صدائیں آنی چاہئیں‘ ہمارا کوئی لیڈر اپنے کارکن سے آزاد رائے سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

یہ لوگ کسی شخص کی نظریاتی ایمانداری بھی قبول نہیں کرتے اور رضا ربانی میں یہ خرابی بھی بدرجہ اتم موجود ہے‘ ان کا تیسرا جرم آئین اور قانون بنا‘ یہ اپنا قدم قانون اور آئین کے دائرے سے باہر نہیں رکھتے‘ آپ حکومت ہیں‘ آپ اسٹیبلشمنٹ ہیں‘ آپ سپریم کورٹ ہیں ‘ آپ امریکا ہیں یا پھر آپ پارٹی کے چیئرمین ہیں‘ آپ رضا ربانی کے سامنے آئین اور قانون سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے‘ یہ آپ کو روکیں گے‘ آپ نہیں رکیں گے تو یہ احتجاج کریں گے۔

یہ خاموش نہیں رہیں گے‘ یہ عادت بھی سیاسی پنڈتوں کو قبول نہیں‘ یہ لوگ اپنے ہر فیصلے کو قانون اور اپنی ہر بات کو آئین دیکھنا چاہتے ہیں اور رضا ربانی اس معاملے میں گستاخ ہیں‘ یہ ناقابل برداشت ہیں اور ان کی آخری خرابی‘ ان کا آخری جرم‘ یہ تین سال سینیٹ کے چیئرمین رہے‘ یہ اس دوران 100بار سینیٹ میں حاضر ہوئے‘ یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی چیئرمین کی سب سے زیادہ حاضریاں ہیں‘ یہ صرف پانچ مرتبہ غیر حاضر ہوئے اور یہ بھی وہ دن تھے جب یہ سرکاری دورے پر بیرون ملک تھے‘ یہ کبھی نہیں ہوا یہ ملک میں ہوں اور یہ سینیٹ کے سیشن میں نہ آئیں اور رضا ربانی پر آج تک کرپشن کا کوئی چارج بھی نہیں لگا۔

یہ آئین کے ایکسپرٹ بھی ہیں‘ آپ آئین کی کسی شق کا ذکر کریں‘ یہ حیران کن تشریح کریں گے‘ یہ جرات مند بھی ہیں‘ آپ ان کی زبان نہیں روک سکتے‘ آپ انھیں احتیاط پر مجبور بھی نہیں کر سکتے اور یہ بھی اس ملک میں چھوٹے جرائم نہیں چنانچہ رضا ربانی کو پارٹی نے متفقہ امیدوار بنانے سے انکار کر دیا‘ رضا ربانی اور ان کے اصول پسپا ہو گئے اور صادق سنجرانی کا میرٹ اور غیر جانبداری جیت گئی‘ یہ ایوان بالا کے سربراہ منتخب ہوگئے۔

آصف علی زرداری اور رضا ربانی کے درمیان کشمکش ایک طویل داستان ہے‘ رضا ربانی محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں آصف علی زرداری کے مخالف کیمپ میں تھے‘ مخدوم امین فہیم‘ صفدر عباسی‘ رضا ربانی‘ ناہید خان اور اعتزاز احسن ہمیشہ آصف علی زرداری سے فاصلے پر رہتے تھے‘ یہ لوگ محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کو پارٹی کا سربراہ نہیں بنانا چاہتے تھے‘ پارٹی مخدوم امین فہیم کی سربراہی پر متفق تھی‘ اس مشکل وقت میں اگر میاں نواز شریف آصف علی زرداری کا ساتھ نہ دیتے تو آج تاریخ مختلف ہوتی‘ میاں نواز شریف نے اس دور میں خواجہ آصف کے ذریعے آصف علی زرداری کی مدد کی تھی‘ خواجہ محمد آصف اور آصف علی زرداری کے درمیان قریبی تعلقات تھے‘ یہ جیل کے دوست بھی تھے اور خواجہ آصف کے خالہ زاد بھائی اور برادر نسبتی فاروق نائیک بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے وکیل بھی تھے۔

آصف علی زرداری نے 2006ء میں نیویارک سے فون کر کے خواجہ آصف کو بے نظیر بھٹو کا ایک پیغام دیا تھا‘ وہ ایک ناممکن کام تھا لیکن خواجہ آصف نے اپوزیشن میں رہ کر بھی وہ کام کرا دیا‘ بے نظیر بھٹو نے شکریہ کے لیے خواجہ آصف کو فون کیا تھا‘ میاں نواز شریف29 دسمبر2007ء کو بے نظیر بھٹو کی تعزیت کے لیے نوڈیروگئے‘ خواجہ آصف بھی ساتھ تھے‘ تعزیت کے بعد زرداری صاحب نے خواجہ آصف کو کہنی ماری اور تنہائی میں بات کرنے کا اشارہ کیا۔

خواجہ آصف ان کے ساتھ چلے گئے‘ آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ تمام لوگ بی بی کی کرسی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں‘ آپ مجھے ان سے بچا لو‘ خواجہ آصف نے جواب دیا‘ میاں نواز شریف میرے قائد ہیں‘ میں ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا‘ زرداری صاحب نے اس کے بعد ان کے کان میں ایک سرگوشی کی اور یہ الگ الگ ہو گئے۔

وہ سرگوشی مخدوم امین فہیم سے متعلق تھی‘ مخدوم امین فہیم 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیراعظم بن رہے تھے‘ وہ پارٹی کے اندر مضبوط تھے‘ زرداری صاحب کے لیے انھیں ہٹانا آسان نہیں تھا‘ یہ انھیں میاں نواز شریف کے ذریعے ہٹانا چاہتے تھے‘ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان 9 مارچ 2008ء کو بھوربن میں ’’مری ڈکلیئریشن‘‘ہوا‘ یہ دونوں لیڈر ڈکلیئریشن کے بعد کمرے میں چلے گئے۔

زرداری صاحب نے میاں نواز شریف کو قائل کر لیا ‘ خواجہ آصف کو اندر بلایا گیا اور انھیں مخدوم امین فہیم کا پتہ کاٹنے کا ٹاسک دے دیاگیا‘ اس رات خواجہ آصف نے ٹیلی ویژن پر اعلان کر دیا مخدوم امین فہیم پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے قابل قبول نہیں ہیں‘ اس اعلان نے مخدوم امین فہیم کو فارغ کرا دیا‘ اگلی رات آصف علی زرداری نے خواجہ آصف کو کھانے پر بلایا‘ بلاول بھٹو کو مخاطب کیا اور کہا ’’یہ شخص تمہارے والد کا سب سے بڑا محسن ہے۔

اس کا احسان کبھی نہ بھولنا‘‘ 17 مارچ 2008ء کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس تھا‘ خواجہ آصف حلف لینے کے لیے قومی اسمبلی گئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر ایم این ایز نے انھیں گھیر لیا اور کہا ’’ خواجہ صاحب آپ نے بہت بڑا ظلم کیا‘آپ نے ہمارے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی تباہ کر لیا‘ ایک وقت آئے گا جب آپ اپنی اس حرکت پر پچھتائیں گے‘ آپ ملامت کریں گے‘‘ 2008ء کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن پر جب بھی ملامت کا وقت آیا‘ رضا ربانی سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر لیڈر خواجہ آصف کی طرف دیکھتے تھے‘ مسکراتے تھے اور اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیتے تھے اور خواجہ آصف شرمندگی سے اپنا منہ نیچے کر لیتے تھے۔

میں نے 7 فروری2018ء کو اس واقعے کی تصدیق کے لیے خواجہ آصف سے رابطہ کیا‘ خواجہ صاحب نے واقعے کی تصدیق کر دی‘میں نے ان سے پوچھا ’’کیا یہ رضا ربانی کے الفاظ تھے‘‘ خواجہ آصف نے جواب دیا ’’نہیں‘ پچھتانے والی بات رضا ربانی نے نہیں کی تھی‘ یہ بات جس صاحب نے کی تھی وہ اس وقت بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں‘‘ تاہم جہاں تک میری معلومات ہیں یہ الفاظ قیادت کی ڈائری میں آج بھی رضا ربانی کے سامنے درج ہیں۔

رضا ربانی پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں ناپسندیدہ شخصیت رہے‘آصف علی زرداری سے ان کے اختلافات صدر جنرل پرویز مشرف سے حلف لینے پر شروع ہوئے‘ یہ خود بھی وزیر نہیں بنے اور یہ کابینہ کو بھی حلف سے روکتے رہے‘قیادت کو یہ رویہ پسند نہ آیا‘2009ء میں ایک اور واقعہ بہت مشہور ہوا ‘ صدر آصف علی زرداری نے نصف درجن لوگوں کی موجودگی میں رضا ربانی کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دے دیا‘ یہ بھی کہا تم جتنی سنجیدگی مجھے سمجھانے میں دکھاتے ہو تم اتنے سنجیدہ اگر اپنے اوپر ہو جاتے تو آج صاحب اولاد ہوتے (یہ اصل الفاظ نہیں ہیں‘ میں بدقسمتی سے وہ الفاظ یہاں درج نہیں کر سکتا) مجھے یوسف رضا گیلانی کے اسٹاف نے بتایا‘ رضا ربانی ایک بار وزیراعظم سے ملاقات کے لیے آئے۔

یہ ملٹری سیکریٹری کے دفتر پہنچے تو ایوان صدر سے یوسف رضا گیلانی کو فون آ گیا ’’تم رضا ربانی سے نہیں ملو گے‘‘ اس کے بعد وزیراعظم اپنے دفتر میں بیٹھے رہے‘ رضا ربانی ایم ایس کے دفتر میں اور ایم ایس اپنے کمرے کی چھت دیکھتے رہے یہاں تک کہ رضا ربانی تھک کر واپس چلے گئے لیکن پھر وہ وقت بھی آ گیا جب پاکستان پیپلز پارٹی نے رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنادیا‘ پارٹی کا خیال تھا رضا ربانی کے علاوہ کسی شخص پر اتفاق رائے نہیں ہو سکے گا چنانچہ پارٹی ان کے نام پر مجبور ہو گئی۔

آصف علی زرداری چیئرمین شپ کے ان تین برسوں میں بھی رضا ربانی سے مطمئن نہیں تھے‘ یہ پارٹی قیادت کی بات نہیں مانتے تھے چنانچہ 7 مارچ کو جب میاں نواز شریف نے انھیں متفقہ امیدوار بنانے کی پیش کش کی تو زرداری صاحب نے نہایت تکبر کے ساتھ یہ آفر مسترد کر دی اور یوں صادق سنجرانی جیسے نابغہ ایوان بالا کے چیئرمین بن گئے۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے ہمارے لیڈر جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں لیکن یہ کبھی اپنی اداؤں پر غور نہیں کرتے‘ یہ کبھی اپنے آپ سے نہیں پوچھتے کیا ہمارے رویئے جمہوری ہیں؟ کیا ہم کسی ایسے شخص کو اپنے پاس پھٹکنے دیتے ہیں جس کے بارے میں ہمارا خیال ہو یہ ہماری رائے سے اتفاق نہیں کرے گا‘ ہم اپنے لیے کک‘ مالی اور ڈرائیور کے لیے بھی بہترین لوگوں میں سے بہتر کا انتخاب کرتے ہیں لیکن جب وزیر‘ مشیر اور چیئرمین کی باری آتی ہے تو ہم صرف اور صرف کٹھ پتلی کو چنتے ہیں‘کیوں؟

ہمارے لیڈروں نے کبھی سوچا یہ جب حلقے میں سے بدترین اور ان پڑھ ترین شخص کو ٹکٹ دیں گے تو پھر جمہوریت کا کیا حال ہو گا؟کیا پھر جمہوریت اسی طرح ہارتی اور ایمپائر اسی طرح جیتتے نہیں رہیں گے؟ میں دل سے سمجھتا ہوں یہ لوگ جب تک رضا ربانی جیسے لوگوں کو عزت نہیں دیں گے ملک میں اس وقت تک ووٹ کو عزت نہیں ملے گی‘ ووٹ اسی طرح ذلیل ہوتا رہے گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *