یوم پاکستان کی پریڈ اور تحریک لبیک کا نیا ایڈونچر  !

پچھلے سال کءی برسوں کے بعد جب 77 ویں یوم پاکستان کے موقع پر فل ڈریس پریڈ ہوئی تویہ اس بات کا،کامیاب اعلان تھا کہ دہشت گردی کا جن بہت حد تک بوتل میں بند ہو چکا ہے کیونکہ اس بڑے پیمانے پر ہونی والی یہ پریڈ اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی تھی جب تک یہ یقین نہ ہو جاتا کہ فضا سے لے کر زمین تک ،ایک ایک چپہ مکمل طور پرمحفوظ ہے ۔ یہ بھی پی ایس ایل کی طرح کا ایک بہت بڑا چیلنج تھا جو شاندار طریقے سے قبول کیا گیا۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کھلونا نما ایک ڈرون یا معمولی قسم کا ایک کریکر بھی اس موقع پر کس قدر خوفناک نتائج پیدا کر سکتا تھا ۔ لیکن ان سارے خطرات کو یقینی طور پر ختم کر دینے کی بعد ہی یہ پریڈ ہو سکتی تھی اور یہ یقین ماضی قریب میں حاصل نہ تھا اسی لیے ہم اپنے آپ کو اس ا عتماد اور طاقت کا مظاہرہ کرنے سے محروم پا تے تھے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے یہ سب کچھ اب بتدریج ہو رہا ہے ۔ اس کا قابل فخر مظاہرہ آج کی دوسرے برس بھی ہونے والی پریڈ تھی۔خون کو گرما دینے والی اور حب الوطنی کے قابل تعریف جذبات کو پروان چڑھانے والی اس پریڈ نے سب پاکستانیوں کے د ل موہ لیے ۔
اس موقع پر ہم اپنے قارئین کو ان چند حقائق سے مطلع کرناضروری سمجھتے ہیں جو یوم پاکستان کے حوالے سے ہمیں معلوم ہونے چاہییں تھے لیکن بوجوہ ان تک ہماری رسائی مشکل بنا دی گئی۔اتنی بات تو سبھی جانتے ہیں کہ یہ قرارداد جنگ عظیم دوم ( 1938-1945) کے دوران میں پیش کی گئی۔ اس وقت انگریزوں نے 1935کے ایکٹ کے تحت ہندستانی قیادت کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کی پالیسی اپنا رکھی تھی ۔ چنانچہ 1937 میں ہونے والے انتخابات کے تحت کانگرس کی آ ٹھ صوبوں میں حکومت قائم ہو گئی ۔ چنانچہ انگریز حکومت نے کانگرس سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندستانیوں کو عوامی سطح پرجنگ میں شمولیت پر آمادہ کرے ۔ لیکن کانگرس نے شرط پیش کی کہ ہمارے ساتھ تحریری معاہدہ کیا جائے کہ جنگ کے بعد انگریز کانگرس کو حکومت سونپ کے یہاں سے چلے جائیں گے۔ انگریزی حکومت کے انکار پر گانگرس نے وزارتوں سے استعفا دے کر ’’ ہندستان چھوڑ دو ‘‘کی تحریک کا اعلان کر دیا ۔ اس کے جواب میں مسلم لیگ نے انگریز حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیااور تقسیم کا نعرہ لگایا ۔ اپنے مطالبے کوعوامی مطالبہ قرار دینے کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقع پرلاہور میں ایک بڑے جلسے کا اعلان کر دیا ۔
ادھر خاکسار تحریک نے بھی حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر رکھا تھا۔ ( خاکسار تحریک کیا تھی ؟اس کی نظریاتی اساس، طریقہ کار اور اس کے بانی علامہ عنایت اللہ مشرقی کون تھے ، ایک علیحدہ دلچسپ اور چشم کشا حقائق کاموضوع ہے ، قارئین کے مطالبے پر اس پر علیحدہ سے لکھا جاسکتا ہے، یاد رہے اس موضوع کو ہمارے ہاں عام طور پر مطالعہ پاکستان کے نصاب کا کبھی حصہ نہیں بنایا گیا ۔ ) اسی سلسلے میں لاہور میں بھی ایک مظاہرہ کیا گیا، جو اس وقت ایک خوفناک حادثے میں بدل گیا جب ایک انگریز پولیس آفیسر نے اس پر فائر کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس کی وجہ سے غیر سرکاری اطلاع کے مطابق چار سو لیکن سرکاری خبر کے مطابق چونتیس افراد جاں بحق ہو گئے۔ شہر میں فسادات کے خوف سے دفعہ ایک سو چوالیس لگا دی گئی ۔ پورے شہر کی فضا سخت کشیدہ اور سوگوار تھی ۔ اس موقع پر پنجاب حکومت مسلم لیگ کو جلسے کی اجازت دینے میں تامل کر رہی تھی لیکن قانونی تقاضوں کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کے بعد یہ اجازت دے دی گئی اور سردار سکندر حیات وزیراعلیٰ پنجاب نے دفعہ 144 اٹھا لی ۔یاد رہے اس وقت پنجاب پر یونینسٹ پارٹی کی حکومت تھی۔ یہ جلسہ یقینی طور پر قائداعظم کی سیاسی بصیرت کے باعث ممکن ہو سکا کیونکہ انھوں نے لاہورآمد کے فوراً بعد زخمی ہونے والے خاکساروں کی عیادت کی ۔ خاکسار اگرچہ مسلم لیگ کے خلاف تھے اوران کا ایک کارکن قاءداعظم پر ناکام قاتلانہ حملہ بھی کر چکا تھا۔  لیکن قائداعظم نے ان کی عیادت کر کے بہترین رواداری کا مظاہرہ کیا ۔ اس سے حالات بھی نارمل ہو گئے اور ملک کی مسلم آبادی سوگ کی فضا سے بہت حد تک نکل آئی۔یوں یہ جلسہ ان تلخ حالات میں ممکن ہو سکا۔ قائداعظم نے قرارداد میں خاکساروں کی ہلاکت کی مذمت کا اعلان بھی شامل کرایا ۔ اس قرارداد کو ’’ قراردادِ لاہور ‘‘ کا نام دیا گیا تھا لیکن جب کانگرس نواز اخبارات نے اسے طنزاً ’’قراردادپاکستان‘‘ کہا تو مسلم لیگ نے بھی اسے قراردادپاکستان کہنا شروع کر دیا۔
اس قرارداد  کے حوالے سے دھماکا خیز انکشاف یہ ہے کہ اسے مسلم لیگ کے لیے سر ظفراللہ خان نے تحریر کیا ۔یہ احمدی مسلم لیگی اس وقت ’لیگ آف نیشن ‘[بعد میں اقوام متحدہ ] میں برطانوی حکومت کی طرف سے نمائندگی بھی کر رہے تھے ۔ انھیں انگریز حکومت کا مکمل اعتماد حاصل تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں مسلم لیگ کی قیادت اور خاص طور قائداعظم کا اس قدر اعتماد حاصل تھا کہ انھیں پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ اورحکومت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائندہ بنایا ۔یہ انکشاف اور کچھ نہیں تو کم از کم مذہبی اختلافات کے حوالے سے قائداعظم کے نقطہ نظر کو ضرور واضح کرتا ہے ۔ اس لیے ذرا سوچیے کہ آج پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت کسی احمدی کو اپنی پارٹی کا ممبر یا انتخاب میں امیدوار نامزد کرے تو اس کا عوامی سطح پر کیا حشر ہو!مزید یہ بھی سن لیں کہ تحریک لبیک نے آج کے دن کی مناسبت سے یہ تازہ ترین مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹرعبدالسلام کیونکہ غیر مسلم تھے اس لیے ان سے منسوب  طبیعیات [فزکس]کی مسند[Chair] کو ختم کرکے کسی مسلمان  کے نام کر دی جاءے ورنہ وہ دواپریل کو احتجاجی مظاہروں کا آغاز کر دیں گے۔ ہو سکتا ہے جب انھیں یہ معلوم ہو کہ قرارداد پاکستان بھی ایک احمدی نے لکھی تھی تو وہ  پین دی سری کا نعرہ بلند کرتے ہوءے یوم  پاکستان پر بھی پابندی کا مطالبہ کر دیں ۔ ویسے ان سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ ایک قادیانی کو وزیر خارجہ بنانے پر وہ قائداعظم محمد علی جناح پر کس قسم کا فتویٰ جاری فرما ئیں گے ۔ اس سے بھی بڑھ کر ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ان کے نزدیک احمدی انسان بھی ہیں یا نہیں ، اور اگر ہیں تو کس درجے کے ہیں ؟ کیونکہ وہ یہ تو بتا ہی چکے ہیں چند "محترم کتوں"نے انھیں ڈانٹا تھا کہ انھوں نے  قادیانی کو کتا کہہ کر ان کی توہین کیوں کی ؟
قرارداد پاکستان کے حوالے سے ایک انکشاف یہ بھی ہے اسے 1946 میں مسلم لیگ کے منشور کے طور پر اختیار کیا گیا۔ جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلم لیگ اس سے پہلے تک تقسیم کے مطالبے پر گفتگو کے لیے دوسرے آپشن کو کھلا رکھے ہوئے تھی ، جس کا ایک مظاہرہ کا بینہ مشن پر دیکھا گیا ۔
ایک آخری انکشاف یہ بھی سن لیں کہ یوم پاکستان بنانے کا اعلان 1956میں کیا گیا اور اس کی تاریخ بھی23مارچ اسی وقت مقرر ہوئی ، اس سے پہلے اس دن کو تاریخی طور پر نہیں منایا جاتا تھا۔یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ اسی دن پاکستان کا پہلا دستور نافذ کیا گیا اور پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا ۔ اس سے پہلے اس کی حیثیت برطانوی کالونی ہی کی تھی۔لیکن جب ایوب خاں نے مارشل لاء  نافذ کیا تو پاکستان اسلامی جمہوریہ نہ رہا۔ تب اس کا علاج یہ کیا گیا کہ قرارداد مقاصد کو عبوری دستور قرار دیا گیا اور وطن عزیز کو بمشکل اسلامی جمہوریہ کا نام دیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *