تو کیا یہ اسٹبلشمنٹ کا بیانیہ ہے ؟

اقتدار میں موجود لوگوں کے بارے میں افسانےگھڑے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک افسانہ باجوہ ڈاکٹرائن کے نام سے سامنے آیا ہے ۔ یہ خاص اصطلاح میڈیا سرکلز میں سننے کو ملتی ہے اور خاص طور پر آئی ایس پی آر چیف نے بھی حال ہی میں ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس ڈاکٹرائن کو مان لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ آرمی چیف نے ایک بڑا ویژن تیار کیا ہے جس کے ذریعے سیاسی، معاشی اور خارجہ پالیسی کے تمام مسائل سے نمٹا جائے گا۔ کیا یہ حیرت انگیز چیز ہونی چاہیے؟ نہیں بلکل نہیں۔ کیا اسی طرح کے بیانیے ہم سابقہ آرمی چیف حضرات کی طرف سے نہیں دیکھتے رہے؟ لیکن جنرل باجوہ سے جس طرح کی خصوصیات کو جوڑا جا رہا ہے ا س سے لگتا ہے کہ وہ پچھلے تمام آرمی چیف حضرات سے الگ اور آگے ہیں۔ وہ ملک کے لیے ایک مسیحا ہیں جس کا ہمیں انتظار تھا۔ اگر میڈیا سرکلز کی بات پر یقین کیا جائے تو خارجہ پالیسی میں اس ڈاکٹرائن کے ذریعے ایک بہت بڑا انقلاب آئے گا اور ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک نئی خارجہ پالیسی دیکھنے کو ملے گی۔ اس ڈاکٹرائن کے مطابق جنرل صاحب کا خیال ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر
تعلقات بنائے جائیں اور دنیا کے ساتھ متوازن تعلقات کو فروغ دیا جائے۔ ملک میں شدت پسندی کو کسی صورت قبول نہ کیا جائے لیکن جہادی گروپوں کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش کی جائے۔ اگرچہ جنرل باجوہ اپنے آپ کو پرو ڈیموکریسی اور قانون کے مکمل اختیار کا حمایتی قرار دیتے ہیں لیکن ہمارے آرمی چیف ملک کے سیاسی نظام کے کام کرنے کے طریقہ سے نا خوش ہیں اور اٹھارہویں ترمیم پر بھی ان کو تسلی نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک ایک فیڈریشن کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ ان کے مطابق سب سے بڑی پریشانی معاشی پالیسیوں کی خرابی ہے جس کی وجہ سے ان کے مطابق ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ میٹرو اور موٹر وے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پراجیکٹ ان کے مطابق ملکی معیشت پر دباو کا باعث ہیں۔ کچھ دن قبل صحافیوں کی ایک ٹیم سے ملاقات کے دوران جنرل باجوہ نے ان تمام معاملات اور ان کے بارے میں ان کے پلان کا ذکر انہوں نے کھل کر کیا ہے۔ سچ یہ
ہے کہ جنرل کا یہ اپنا ذاتی نہیں بلکہ ادارے کا بیانیہ ہے اور وہ اسے اپنے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے خیالات سے کچھ حد تک اتفاق تو کیا جا
سکتا ہے کہ یہ مسائل اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں لیکن اس بیانیہ میں سیاسی اور معاشی معاملات کا حل موجود نہیں ہے۔ ماضی میں بھی فوج نے بار بار ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے اقتدار پر قبضہ کیا لیکن کبھی ملک کو اس سے فائدہ نہیں ہوا۔ اس بیانیہ سے اسٹیبلشمنٹ اور منتخب جمہوری حکومت کے بیچ اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اگرچہ جرنیل اس وقت اقتدار پر قابض ہونا نہیں چاہتے لیکن کچھ لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ مشکل صورتحال میں یہی بہتر طریقہ ہے کہ اقتدار پر ہی قبضہ فوج کر لے۔ وہ منتخب سول حکمرانوں کو اختیار نہیں دینا چاہتے۔ اگرچہ پوری توقع ہے کہ جنرل الیکشن ہوں گے لیکن سیاستدانوں پر عدم اعتماد کی فضا اب بھی قائم ہے۔ موجودہ سینیٹ انتخابات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو اگلے الیکشن میں کسی بھی طرح اقتدار میں نہ آنے دینے کا پلان ہے۔ ملٹری اور عدلیہ مل کر سیاسی سیٹ اپ پر اثر انداز ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ ملک کی تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہیں۔ سب سے افسوسناک چیز ملٹری کا اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں منفی سوچ ہے۔ اس اہم ترمیم کے ذریعے صوبوں کو زیادہ اختیارات دیے گئے تھے اور یہ ترمیم پارلیمنٹ کی اکثریت اور بڑی پارٹیون کی کوشش سے پاس ہوئی تھی۔ کچھ صوبوں کو اپنے فرائض ادا کرنے میں مسائل بھی پیش آئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسائل بھی حل ہونے کی
پوری امید ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس ترمیم سے فیڈریشن مضبوط ہوئی ہے اور مرکز اور صوبوں کے بیچ چپقلش میں کمی کا باعث بنی ہے۔ یونٹ کے لحاظ سے حکومت کی وجہ سے صوبوں میں ایک خاص احساس محرومی پایا جاتا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمیں ایک مشترکہ ایجوکیشن سسٹم کی ضرورت ہے اور صوبائی قوانین کو بھی سٹریم لائن کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ترمیم کو ختم کرنے کی کوئی بھی غیر آئینی طریقے سے کوشش ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ملکی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور سابقہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار فنانشل مینیجمنٹ کی خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔ فارین ایکسچینج ریزروز کی تباہی کے بعد تو معیشت اور بھی برے حالا ت میں گھر چکی ہے۔ لیکن صورتحال اب بھی اتنی بدتر نہیں کہ اسے راہ راست پر نہ لایا جا سکے۔ باجوہ ڈاکٹرائن میں اس معاملے کا کوئی ایمرجنسی حل موجود نہیں ہے۔ نیشنل سکیورٹی کے لیے معیشت کا مضبوط ہونا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اداروں کا جمہوری عمل پر قائم رہنا بھی ضروری ہے۔ معاشی ترقی کا تعلق سیاسی استحکام سے بھی ہے۔ ملک میں ملٹری کے دور اقتدار
میں بھی کوئی خاص ترقی دیکھنے کو نہیں ملی جس کی بنا پر ملٹری کو اقتدار دینے کی حمایت کی جا سکے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ خارجہ اور نیشنل سکیورٹی پالیسیاں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں رہی ہیں۔ اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی پالیسی میں بہتری کی ضرورت ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ایک اہم بریک تھرو حاصل کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے خارجہ تعلقات کے مسائل بہت گھمبیر ہیں۔ زیادہ تر مسائل کا تعلق سکیورٹی پالیسی سے ہے جس کا الزام صرف فوج کو ہی دیا جا سکتا ہے۔ یہ جیو اکنامکس کا دور ہے اور ایک اچھی خارجہ پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک سے تجارتی اور معاشی تعلقات مضبوط کریں اور بھارت کے ساتھ بھی ایسی ہی پالیسی اپنائی جائے۔ ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں خاص طور پر بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ کو بحال کیا ہے لیکن ملک کے اندر مذہبی شدت پسندی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ سول ملٹری تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے بھی بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ نئے ڈاکٹرائن لانے کی بجائے خارجہ پالیسی معاملات پر سول ملٹری قیادت کا اتفاق زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کسی بھی معاملے پر ایک قومی بیانیہ موجود نہیں ہے۔ اس طرح باجوہ ڈاکٹرائن اصل میں ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک ادارے کا بیانیہ ہے۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *