مسز ہیزل ڈینیز اوررینالہ خورد کا فارم ہاؤس

صاف کر کے الماری میں رکھے جوتے منو ن دھول میں دبے ہوئے  تھے اور اپنے مالک کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے ۔ بیٹھک میں پڑے  صوفے اور کرسیاں بھی ایسا ہی کچھ کہہ رہی ہیں ۔ اور پیانو کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے  اسے بجانے کے لیے وہ کسی کے آنے کا منتطر ہے  ۔اور دادا جی کی ہاتھ کی گھڑی تقریبا نو بجے پررکی  ہوئی ہے  یہ 1994 ، 11ستمبر کو  رک گئی  ہو گی جس دن مسز ایچ ڈی ٹیلر  کا انتقال ہوا۔

اگرچہ علامات سے پتا چلتا ہے کہ لوگ ان کی پراپرٹی پر ہاتھ صاف کرتے رہے ہیں لیکن اب بھی ان کی چیزوں میں ان کی خوشبو ہے۔  ان کے بڑے بنگلے میں چلتے وقت میں حیران تھی کہ وہ کیسی عورت تھیں۔ وہ صحیح وقت  پر کیوں منتقل نہ ہوئیں۔  انہوں نے ہزاروں میل دور دفن ہونے کا فیصلہ کیوں کیا، جہاں ان کی تذلیل ہوئی اور ان کے آخری دنوں میں انہیں جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا؟

Home not homeland: The curious case of Mrs. Hazel Deneys Taylor and her farm in Renala Khurd

یہ محض ایک اتفاق  تھا کہ میں رینالا خرد کے فارم ھاؤس  کے باہر   مسز ہییزل کی قبر کے پاس پہنچ گئی جو رینالہ خورد میں موجود ہے۔   میں پنجاب میں بنیاد پرستی کے نشانات ڈھونڈ رہی تھی لیکن  مجھے  امید نہیں تھی کہ  لشکر طیبہ  ، جماعت الدعوہ  اور ذکی الرحمان لکھوی کے گھر کے ٹاؤن  میں مجھے   ایک گوری  برطانوی خاتون   کی آخری پناہ گاہ مل جائے گی۔   حتی کہ جب  لکھوی  افغان  جنگ کے سرداروں کی پہلی نسل   کی خاطر افغانستان میں  لڑنے گیا  تو مسز ٹیلر زندہ تھیں اور  اپنے فارم میں کام کرتی تھیں۔  یہ پنجاب  میں اہل حدیث لوگوں کا مرکزی علاقہ تھا جہاں وہ امن سے رہ رہی تھیں۔ لیکن تب  یہ اہل حدیث لوگ  پر تشدد نہیں تھے۔   بلکہ  لکھویوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا  اور کچھ قابل لوگوں نے الیکشن میں حصہ لیا  اور وہ  اہل حدیث  کے بجائے مقامی پیر تھے ۔  کیا وہ کسی بوڑھی عورت کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے ہو ں گے جس نے اپنی ساری عمر  ان کے علاقے میں  گزاری؟

جب برطانیہ نے پنجاب میں آبپاشی کا سسٹم شروع کیا اور 1912 میں  آئین کے مطابق آباد کاری  متعارف کروائی تو علاقے میں 1915 میں  پہلا ٹھیکہ  میجرڈینس ہینری اینرینن کو دیا گیا۔ یہ شاید وہی جگہ تھی جہاں ہیزل اپنے والدین کے ساتھ رہنے آئی تھیں۔  اس  علاقے کے ساتھ  20/1RB, 21/1RB, 22/1RB, 23/1RB, 13A/1R, اور  14A/1R,بھی جڑے تھے اور یہ ٹھیکہ 1915 سے 1935 تک تھا۔  20 سال کا یہ ٹھیکہ  10 سال بڑھا  کر 1945 تک کا کر دیا گیا۔  البتہ میجر وینرینن  1938 میں وفات پا گئے اور ہیزل نے اپنے شوہر کرنل جون F. L. تیلر کے ساتھ یہ ٹھیکا جاری رکھا۔ چارٹرڈ اکاؤنٹ  فرم A. F. فروگسن  اور کارپوریشن سے پتہ چلا کہ دونوں میاں بیوی کے  رینل اسٹیٹ لیمٹڈ میں شیئرز تھے۔ لوکل سیاسی حالات  سے بے خبر رہتے ہوئے انہوں نے ایک فارم لینڈ بنایا اور  سڑک میں موجود عمارتوں کو سہولیات مہیا کیں،  ریلوے سٹیشن، پولیس سٹیشن، گھوڑوں کے لیے اصطبل، اور جانوروں کا احاطہ اور ایک ماڈل گاؤں بھی بنایا۔ ان کے کام سے متاثر ہو کر کالونیل اسٹیٹ نے ان کے ٹھیکہ  کی مدت مزید 10 سال کے لیے بڑھائی اور وعدہ کیا کہ 10 سال کے اختتام پر وہ فارم ہاوس خرید سکتے ہیں۔

لیکن بہت جلد سب کچھ بدل گیا۔ 1948 میں فارم میں سیلاب آجانے کی بدولت 7723 ایکڑ زمین میں سے 4500 ایکڑ زمین سیم زدہ ہو گئی۔ لیکن یہ تو ٹیلرز کے لیے مسائل کی شروعات تھی۔ خاص چور پر تب جب 1955 میں ٹھیکے کی مدت ختم ہوئی اور دوسرے سٹاک ہولڈرز نے زمین کے مالک کو للکارا۔ یہ اس وقت کے ملتان کے  ڈپٹی کمشنر سردار  عطا محمد لغاری کا علاقہ تھا جنہوں نے  ٹیلر خاندان کا ساتھ دیا اور اس علاقے کا ٹھیکا دس سال اور بڑھا دیا۔

یہ لیز کرنل جون ٹیلر کی 1968 میں وفات کے بعد یعنی 1969 سے 1979 تک بڑھا دی گئی۔ لیکن اس مدد کے بڑھنے سے بھی مسز ٹیلرز پر دباؤ کم نہیں ہوا کیوں کہ 1971 میں پریزیڈنٹ ذوالفقار علی بھٹو نے 115  مارشل   لاء ریگولیشن کے تحت زمین ضبط کر لی۔ لیکن فیڈرل لینڈ کمیشن نے فیصلہ سنایا کہ 115 ریگولیشن کا قانون اس زمین پر لاگو نہیں ہوتا۔ نتیجتا لیز کی مدت اور بڑھ گئی لیکن وقت متعین نہیں کیا گیا۔

اس کے بعد مسز ٹیلر گورنمنٹ اور ضمیر کی جنگ میں مسلسل الجھتی گئیں۔ 1973 میں اس فیڈرل کمیشن نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور لیز کی مدت ختم کر دی۔ لیکن 1974 میں دوبارہ فیصلہ بدلا گیا  اور آخر کار 1976 میں مسز ٹیلرز کے خلاف فیصلہ سنا دیا گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ ان کی  کوئی حیثیت  نہیں تھی۔ ان کا ویاں کے لوکل  امرا سے اور ان کے نوکروں کے بیان کے مطابق بیگم عابدہ حسین جیسے لوگوں سے تعلق تھا۔ بیگم عابدہ حسین اور مسز ٹیلرز کے تعلق کی وجہ ، شاید ان کی  وراثتی جاگیر سے مماثلت تھی۔ خاص طور پر فارمز کی  جڑی ہوئی زمین کی بدولت یہ تعلق قائم تھا۔ مسز ٹیلرز کا فارم گھوڑوں کے لئے مشہور تھا جہاں کے گھوٹے در آمد بھی کئے جاتے تھے اور آرمی کو بھی مہیا کئے جاتے تھے۔ لیکن بیگم عابدہ کی طرح ان کے پاس فیملی نہیں تھی جو ان کے ساتھ بڑے زمین داروں اورجاگیرداروں کے ساتھ لڑ سکیں۔

لینڈ کمیشن نے ایک بار پھر 1979 تک مسز ٹیلرز کو لیز کی مدت بڑھا دی۔  انہیں سالوں میں ایک اور کردار  ریماؤنٹ ڈیپوٹ سامنے آیا اور مسز ٹیلرز کو مجبور کرنے لگا کہ لیز ختم ہو گئی ہے اور زمیں چھوڑ دی جائے۔ مسز ٹیلرز نے پھر عدالت کی طرف رجوع کیا اور 1989 تک کا سٹے آرڈر حاصل کر لیا۔ ان کا مارشل لاء 115 کے تحت زمین ضبط کا کیس جاری تھا جو ان پر لاگو نہیں ہوتا تھا کیوں کے مارشل لاء ختم ہو چکا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  نے یہ کیس اوکاڑاہ کے ڈپٹی کمشنر کے حوالے کیا جنہوں نے زمین صوبائی گورنمنٹ کے حوالے کرنے کاحکم جاری کیا۔1991 کی ایک صبح کچھ لوگ جن میں وکیل، دکاندار، ڈرائیور، مزدور شامل تھے سول اور ملیٹری عہدیداروں کے حکم پر فارم ہاوس کا گھیراو کرنے آئے۔  80 سال کی بوڑھی عورت کیا احتجاج کرتی وہ صرف گھر چھوڑنے سے انکار کر دیتی لیکن ان لوگوں نے اسے اتنا مارا کہ وہ ہسپتال پہنچ گئیں۔یہ بے زمین کسانوں کی کولونیل ماسٹرز کے خلاف انقلابی مزاحمت نہیں تھی۔ وہ ان کسانوں کے ساتھ 1994 میں اپنی وفات تک امن سے رہیں۔

اوکاڑہ کے مشہور ریماؤ نٹ ڈیپوٹ نے زمین پر قبضہ  کر لیا اور پنجاب گورنمنٹ نے اس کے بارے میں پھر کبھی نہیں سنا۔ 2013 میں جب میں ان کے گھر گئی تو وہ ویسا ہی تھا  پرانی پیگوٹ بند گیراج میں کھڑی تھی اور ان کی کتابیں کمروں میں بکھری پڑیں تھی۔ شاید 1991 میں کچھ لوگ ان کے گھر گھسے اور قیمتی اشیاء چرالیں اور کچھ چیزیں جیسے صوفہ ، کتابیں، پیانو، کاراور گرینڈفادر کلاک جو ان کی نظر میں قیمتی نہیں تھیں چھوڑ گئے۔

ان کے گھر کے باہر قبر کے پاس کھڑے میں سوچ رہی تھی کہ وہ یہاں سے کیوں نہیں گئیں۔ رینل ھاؤس کے خالی کوریڈور میں چلتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ مسز ٹیلرز کی کہانی صرف زمین پر قبضہ اور کنٹرول تک محدود نہیں تھی۔  وہ ذمبابوے جا سکتی تھیں جہاں ان کی جائیداد موجود تھی  اور جس کا کنٹرول انہوں نے اپنے بیٹے جان وینرینن کو دے رکھا تھا 1991 میں زمبابوے میں سفید فارم زمین مالکان کےلیے حالات تنگ ہونے لگے لیکن اس کایہ مطلب نہیں تھا کہ وہ وہاں جانہیں سکتی تھیں۔ تو پھر انہوں نے رینالہ میں ہی آخری سانس لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟ وہ کیا چیز ہے جو ان کے بیٹے جان ٹیلر کو بار بار اس علاقے میں آ کر پرانے نوکروں سے ملنے پر مجبور کرتا ہے۔

کیا اس کی یہ وجہ تھی کہ رینالہ خورد ماں بیٹے کا واحد گھر تھا؟ لیکن کیا جو جگہ ان کا گھر نہیں تھی وہ اسے اپنا گھر سمجھ سکتے تھے؟ مسز ٹیلر کی زندگی سے یہ معاملہ زیر بحث آتا ہے کہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے آپ کسی جگہ کو اپنا گھر سمجھ سکتے ہیں یا نہیں۔  کیا آپ کا گھر وہ ہوتا ہے جہاں آپ خود پیدا ہوئے یا وہ جہاں آپ کے آباو اجداد رہتے ہیں؟ اگر کوئی آپ کو اپنے گھر سے بے دخل ہونے پر مجبور کرے تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ کیا ہم اپنی اس خامی کا اعتراف کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے وطن، قوم اور حب الوطنی کے علاوہ کسی جگہ کو گھر نہیں سمجھ پاتے؟


Courtesy:http://www.thefridaytimes.com/tft/home-not-homeland-the-curious-case-of-mrs-hazel-deneys-taylor-and-her-farm-in-renala-khurd/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *