عافیہ صدیقی اور امریکی نظامِ انصاف

عافیہ صدیقی کی قید کے 15سال اور امریکی نظامِ انصاف

30مارچ 2003ء پاکستان کا ہی نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ افسوسناک دن ہے جب ایک مظلوم عورت عافیہ صدیقی کو اس کے تین بچوں، محمد احمد، مریم اور سلیمان کے ہمراہ اٹھا لیا گیا۔ اگلے روز کے تمام اخبارات نے یہ خبر دی جس کی تصدیق وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بھی کر دی لیکن چند روز کے بعد حکومتِ پاکستان اور امریکی ایف بی آئی نے بیان دیا کہ انہیں عافیہ صدیقی کے بارے میں کچھ علم نہیں۔اس خاتون کے اٹھائے جانے کے تین ماہ بعد 23جون 2003ء کے نیوز ویک میں ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق القاعدہ سے ہے اور وہ ایف بی آئی کے پاس ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پھر 4 اگست 2008ء کو امریکہ نے ایک مزید جھوٹ بولااور اعلان کیا کہ عافیہ صدیقی کو 17جولائی کو غزنی میں افغان پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ امریکی سپاہیوں سے ان کی بندوق چھین کر ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے زخمی ہو گئی تھی۔ حملہ آور زخمی ہو گئی اور امریکی سپاہیوں کو خراش تک نہ آئی۔ اسے امریکیوں کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے جرم میں امریکہ منتقل کیا گیا اور پھر نیو یارک کی جنوبی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں مقدمہ چلا اور افغانستان میں امریکی فوجی افسروں کو قتل کرنے کی کوشش سمیت 7 الزامات میں 86سال کی سزا سنا دی۔ جس وقت سزا سنائی گئی تو اس کی وکیل اور ترجمان ٹینا فوسٹر نے کہا کہ عافیہ کو سزا صرف اور صرف پاکستانی حکومت کی بے حسی، لاپروائی اور بے اعتنائی کی وجہ سے ہوئی۔ ہمارے اوپر بحیثیت قوم لگنے والی فردِ جرم مکمل ہو گئی۔ امریکی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے خلاف چند دن مظاہرے ہوئے، امریکہ کے خلاف نعرے بازی ہوئی ،کچھ دن اس سزا کا اخبارات میں چرچا رہا اور پھر اس قوم پر بے حسی کی خاموشی چھا گئی۔ اسی طرح سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں نے چند روز ردِعمل ظاہر کیا اور اسے انسانیت کے خلاف ظلم قرار دیا لیکن پھر وہاں بھی معاملہ سیاست کی نذر ہو گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قوم اور ہمارے سیاسی رہنما اس سانحہ کو نہ بھولتے اور جب تک عافیہ رہا نہ ہو جاتی اپنا احتجاج رکنے نہ دیتے۔ یہ کوئی اب ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ حکمرانوں نے عافیہ صدیقی کی واپسی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ عافیہ کو سنائی گئی سزا میں جتنے ذمہ دار امریکی حکمران تھے اس سے زیادہ بے حسی اور نا اہلی کا مظاہرہ کرنے والے پاکستانی حکمران بھی ذمہ دار ہیں۔ یعنی جو لوگ عافیہ کو پاکستان لا سکتے تھے انہوں نے کوشش ہی نہیں کی ۔
امریکی عدالت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو طویل قید کی سزا افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ سزا کا فیصلہ سنا کر امریکی عدالت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عافیہ واقعی ہی مجرم ہے اور یہ کہ امریکہ مخالف افراد یا قوتوں کو کسی طور جینے کا حق نہیں ہے۔ امریکی انتظامیہ کے تمام تر اقدامات اور امریکی عدالت کی جانب سے اس کیس کی سماعت کے دوران عافیہ صدیقی نے ایک سے زیادہ بار عدالتی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی عوام کے لئے یہ بات حیرت کا باعث تھی کہ امریکی عدالت نے ان لوگوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جو مختلف جیلوں میں دورانِ قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ بہیمانہ سلوک کرتے رہے ۔ بہر حال یہ امریکی عدالت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کو کوئی بھی انصاف پسند تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اب تک اس خاتون اور تین معصوم بچوں کو امریکیوں کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے 15سال ہو چکے ہیں اور اس قوم کی بے حسی اور خاموشی کو بھی اتنے ہی برس ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کے قانونی پہلوؤں کے حوالے سے پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرینِ قانون نے متعدد کمزوریوں کی نشاندہی کی تھی، اس کیس کی اخلاقی بنیادیں پہلے دن سے ہی اس قدر کمزور اور شکستہ ہیں کہ خود امریکی محکمہ انصاف کے لئے اپنے أوقف کا أوثر دفاع کرنا دشوار رہا تھا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی بیان کردہ کہانی میں اتنے جھول تھے کہ قانونی حلقے ڈاکٹر عافیہ کے بری کئے جانے کی توقع کر رہے تھے۔ اکثر حلقے پر امید تھے کہ عافیہ کو صرف علامتی نوعیت کی سزا سنائی جائے گی۔ تاہم مختلف جرائم میں 86سال کی سزا سنانے اور ان پر بیک وقت علمدرآمد کے بجائے یکے بعد دیگرے عمل کی ہدایت سے قانونی اور جمہوری حلقے بھونچکا رہ گئے۔ جن لوگوں کی امریکی عدالتی نظام اور طریقِ انصاف کے بارے میں مثبت رائے تھی، ڈاکٹر عافیہ کیس نے ان سب کو اپنی رائے سے رجوع کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہو گیا کہ امریکہ میں جنگ کی حامی لابی اس قدر طاقتور اور با اثر ہے کہ وہ ایک ذہنی و جسمانی مریض خاتون جو تین بچوں کی ماں بھی ہے اسے بھی اپنے جنگی جنون کی بھینٹ چڑھانے سے گریز نہیں کرتی۔ڈاکٹر عافیہ کی تباہ حال ذہنی اور جسمانی صحت بھی ایک اہم فیکٹر ہے، دنیا بھر میں عدالتیں ملزم کی حالت کو اہمیت دیتی ہیں مگر یہ اصول اس کیس میں نظر انداز ہوا۔ ایک اور اہم نکتہ جو امریکی حکومت نے نظر انداز کیا وہ عافیہ صدیقی کی بلگرام جیل میں کاٹی جانے والی پانچ سالہ کٹھن قید تھی۔ ان کی رہائی کے بعد یہ سوال پیدا ہونا تھا کہ آخر انہیں بغیر مقدمہ چلائے بگرام جیل میں کیوں رکھا گیا۔ یہ امکانات بھی تھے کہ امریکی حکومت کو بھاری ہرجانے بھی بھرنے پڑ جاتے۔ سرکاری وکیلوں کو ایک خطرہ یہ بھی ہو گا کہ نائن الیون ملزموں کے کیسز امریکی عدالتوں میں زیرسماعت تھے عافیہ کی رہائی سے ان ملزموں کے بری ہونے کے امکانات بڑھ جاتے۔ اس سارے معاملے میں ایک افسوسناک پہلو امریکی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا انتہائی بے حسی پر مبنی رویہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلمان ممالک میں گرفتار ہونے والی خواتین پر جس طرح شور مچاتی اور آہ و بکا کرتی ہیں ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں ان کا رویہ یکسر مختلف بلکہ متضاد رہا ہے۔ امریکی سول سوسائٹی نے بھی مایوس ہی کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں اسلامی دہشت گردی کے نام پر جو چاہے ظلم ڈھا دیا جائے، وہاں کے عوام اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں انتہا پسند امریکیوں کے دباؤ کے پیشِ نظر حق و انصاف کی بات کرنے سے گریز کریں گی۔
امریکی انتظامیہ اس سارے معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہو جائے گی کہ عافیہ صدیقی کو طویل قید کی سزا سنا کر در اصل امریکہ نے پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات مزید خراب کر لئے، گزشتہ دس سالوں میں امریکہ نے دیکھ لیا کہ اسے پوری مسلم دنیا سے کچھ اچھا جواب نہیں مل رہا ہے۔ امریکہ کے پاس اب بھی موقع ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جتنی سزا کاٹ چکی اسی کو کافی سمجھتے ہوئے باقی کی سزا معطل کر دے تو ممکن ہے کہ اسے پاکستان اور مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے اور اپنا اعتدال پسندانہ امیج قائم کرنے کا ایک بہترین موقع میسر آ جائے۔ آج بھی اگر عافیہ کو رہا کر دیا جائے تو اس سے انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے لیکن امریکی طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کا قصد کئے ہوئے ہے۔ یہی امریکی رعونت بھرا رویہ ہے جو دنیا میں امن قائم ہونے نہیں دے رہا ہے اور یہی تمام دہشت گردی اصل جڑ ہے جس پر امریکہ کو سوچنا چاہئے اور عمل کرنا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *