رَو میں ہے رخشِ عمر‘ کہاں دیکھیے تھمے

صورتحال غیر یقینی ہے اور یہ اچھی چیز ہے۔ پاکستان کے سامنے چوائس ہے۔ نکمّے پن میں حالات واپس جا سکتے ہیں یا نئی اُمیدیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ آئندہ چند ماہ ہی بتائیں گے کہ ملک کے نصیب میں کیا ہے۔
جو آئے روز ہو رہا ہے یہ غیر یقینی صورتحال کی نشانیاں ہیں۔ وزیر اعظم چیف جسٹس کے پاس جا رہے ہیں اور پھر صفائیاں دینی پڑ جاتی ہیں کہ ملاقات کا مقصد کیا تھا۔ نواز شریف اپنے کیسوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور اُس حوالے سے پیشیوں کے بعد روزانہ کی بنیاد پہ ہی کچھ چیخ و پُکار کر دیتے ہیں۔ یہ اَمر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایک سابقہ فوجی آمر کے سب سے نمایاں سیاسی پروردہ آج جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپئن بننے کا تاثر دیتے ہیں۔ اُن کا روزانہ کا وِرد جمہوریت اور آئین کے بارے میں ہوتا ہے۔ اِنہی کی پارٹی نے چند سال پہلے سپریم کورٹ پہ چڑھائی کر دی تھی۔ یہ بھولی بسری باتیں ہیں۔ نواز شریف کے مقدمے میں جب احتساب عدالت کا فیصلہ آئے گا، چاہے وہ بَری ہوتے ہیں یا سزا کے حقدار ٹھہرتے ہیں، تب ہی موجودہ غیر یقینی صورتحال کوئی واضح شکل اختیار کرے گی۔ فیصلے کے بعد ہی مطلع صاف ہو گا اور کچھ پتا چلے گا کہ انتخابات نے وقت پہ ہونا ہے، اُن میں تاخیر ہوتی ہے یا کوئی بالکل ہی نیا تجربہ شروع کیا جاتا ہے۔
کئی حکیمانہ سوچ رکھنے والے دانشور اور پنڈت یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا‘ تو ملک میں بہت بڑا ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے۔ شاید وہ نون لیگ کے مزاج کو صحیح طور پہ نہیں سمجھتے۔ نون لیگ ہمیشہ اقتدار کی جماعت رہی ہے اور اُس کا رعب اور دَبدبہ اقتدار کے ماحول میں ہی پروان چڑھتا ہے۔ اقتدار کے بغیر تو وہی صورتحال جنم لیتی ہے جس کی طرف خود نواز شریف کئی بار اشارہ کر چکے ہیں۔ نعرہ لگتاتھا 'قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘۔ اقتدار سے معزولی کے بعد اُنہوں نے پیچھے مُڑ کے دیکھا تو کم ہی لوگ ساتھ تھے۔ اس بار بھی وزارت عظمیٰ سے محروم ہوئے تو جی ٹی روڈ پہ مارچ کیا گیا‘ لیکن کوئی بڑا تماشا نہ ہوا۔ ڈر یہی ہے کہ اگر احتساب عدالت کا فیصلہ خلاف آیا تو مخصوص دانشوروں کی رائے کے برعکس کوئی تماشا نہ ہو گا۔
پھر فیصلہ کرنے والے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس لئے نہیں ہو رہا کہ نواز شریف دوبارہ اقتدار میں آئیں یا مریم نواز کی کسی طریقے سے سیاسی تاج پوشی ہو جائے۔ اقتدار کے راستے پھسلن بھرے ہوتے ہیں۔ ایک دو بار نواز شریف واپس ضرور آئے لیکن ہر بار یہ معجزہ ہو‘ ایسا ممکن نہیں۔
ہمارے سیاستدان ایک عجیب دنیا میں رہتے ہیں۔ برسر اقتدار آئیں تو سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہر اختیار اُن کے ہاتھ میں ہے۔ جلد ہی سمجھ آ جاتی ہے کہ اُمور خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے بڑے فیصلے اور ہاتھوں میں ہیں۔ ہمیں کچھ غیر ملکی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سٹیو کول (Steve Coll) کی نئی کتاب ڈائریکٹوریٹ ایس (Directorate S) کو لے لیجئے۔ یہ افغان جنگ کے بارے میں ہے۔ پڑھنے کے قابل ہے۔ سیاست کے ہر طالب علم اور فیصلہ سازوں کو بھی پڑھنی چاہیے۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے بے پناہ محنت کی ہے۔ ایک بات جو اِس کتاب سے عیاں ہوتی ہے‘ یہ ہے کہ مختلف امریکی حکومتوں نے حالیہ اَدوار میں پاکستان کی سویلین حکومتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ امریکہ فوج کے کمانڈر اِن چیف یا آئی ایس آئی کے سربراہ سے بات کرتا ہے۔ جنرل کیانی اور لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا مُفصل ذِکر ہے۔ سویلین حکومتوں یا سیاسی شخصیات کا ذِکر شاذ و نادر ہی کتاب میں ملتا ہے۔
آج سے نہیں بہت پہلے سے طاقت کا مرکز فوج بن چکی تھی۔ بڑے فیصلے وہیں ہوتے ہیں۔ سویلین حکومتوں کا کردار نمائش سے زیادہ نہیں۔ معاملہ زیادہ گمبھیر ہو جاتا ہے جب سیاسی قیادتیں ایسی صورتحال کی کچھ اصلاح کرنے کی بجائے اپنے مخصوص کاموں میں لگ جاتیں ہیں۔ صدر زرداری اور اُن کی حکومت کے نمایاں افراد کو مال بنانے سے فرصت نہ تھی۔ اُنہوں نے فوج سے کیا مکالمہ کرنا تھا یا افغانستان میں موجود صورتحال کا کیا اِدراک رکھنا تھا۔ جیبیں بھرنے سے فرصت ملتی تو ایسا کرتے۔ نواز شریف اور نون لیگی زعما کا ہر دور میں اولین ایجنڈا مال بنانا اور کاروبار کی دیکھ بھا ل رہا ہے۔ بات سویلین بالا دَستی کی کرتے ہیں۔ اقتدار ہمہ وقت عمل ہے۔ آپ حکمرانی بھی کرنا چاہیں اور ساتھ ساتھ کاروبار کو بھی چمکانا چاہیں‘ تو یہ ناممکن ہے۔ یہ آپ امریکہ اور برطانیہ میں بھی نہیں کر سکتے کُجا یہ کہ آپ پاکستان جیسے ملک میں کرنا چاہیں جہاں سیاست ویسے ہی کمزور اور فوج کی طاقت دیگر اداروں سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ کی حرکات مشکوک ہوں تو آپ فوجی ریڈار کے نیچے آ جائیں گے اور پھر آپ کو کوئی وردی والا سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ آپ کے خلاف ایک مہم شروع ہو جائے گی کہ آپ بہت کرپٹ ہیں اور ملک کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے۔ قصور مہم کرنے والوں کا اتنا نہیں ہوتا جتنا آپ کا جو ایسی مہمات کا جواز مہیا کرتے ہیں۔
یہ پاکستانی سیاست کا بنیادی مخمصہ ہے۔ سیاستدان آئین اور قانون کی بہت باتیں کرتے ہیں لیکن اپنے کردار اور حرکات کی وجہ سے سیاست کی جو بالا دستی ہونی چاہیے‘ اُسے نیچے کر دیتے ہیں۔ بات تو چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے بہت پتے کی‘ کی کہ کوئی عمر فاروقؓ جیسا آئے لیکن اس لازمی شرط کے ساتھ کہ اپنے کندھوں سے تمام مجبوریاں ایک طرف رکھ کے آئے۔ یعنی میر کارواں وہ آئے جو اپنی شوگر ملیں‘ پولٹری فارم اور دیگر مالی کاروبار ایک طرف رکھے اور صاف ہاتھوں اور صاف ذہن سے مسندِ اقتدار پہ بیٹھے۔ شوگر ملیں بھی چلائیں اور حکومت بھی کریں تو معاملہ وہ بن جاتا ہے جس کی طرف فیض صاحب نے اپنی مشہور نظم میں اشارہ دیا تھا ''کچھ عشق کیا کچھ کام کیا‘‘۔ عشق کام کے راستے میں آتا رہا اور کام کی وجہ سے عشق کے لوازمات پورے نہ ہوئے۔ ''آخر تنگ آ کر دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا‘‘۔
جمہوریت کے بارے میں ہمارے ہاں رونا بہت ہے اور کئی لوگ اِس فن میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ ایسی سینہ کوبی کریں گے کہ سُننے والا بھیگے جذبات سے مغلوب ہو جائے۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے شروع ہو کر نواز شریف تک پہنچیں گے اور تمام مصیبتوں کی جڑ فوج اور اُس کے دیگر اداروں کو ٹھہرائیں گے۔ نجی محفلوں میں فوج کا ذکر اشاروں سے کریں گے‘ ہاتھ کندھوں تک لے جا کے۔ اپنا اَسلوب تو بہترکریں۔ جمہوریت کی راگنی خواجہ سعد رفیقوں اور طلال چوہدریوں سے سُننّی پڑے تو کیا اثر رکھے گی؟ جس کو دیکھو لمبے ہاتھوں مال بنانے میں مصروف، سوال اُٹھیں تو جمہوریت کا دلخراش وِرد۔ مُکے لہراتے ہوئے قانون کے سب سے بڑے قصوروار نعرہ زن ہوں گے کہ قانون کی حکمرانی کیلئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔
ایسے نہیں چل سکتا۔ مصر میں منتخب حکومت تھی، اَگلوں نے آ کے ہٹا دی اور وردی اُتارتے ہوئے خود منتخب صدر ہو گئے۔ تھائی لینڈ ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ وہاں بھی جمہوری حکومت تھی، اَگلوں نے آ کے ہٹا دی‘ اور ملک کو ایک نیا آئین دے دیا۔ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کو جمہوریت سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ مصر میں فیلڈ مارشل فتح السیسی کے حمایتی ہیں۔ سعودی عرب میں ولی عہد پرنس محمد کے پیچھے کھڑے ہیں۔ پاکستان سے اُن کی دلچسپی افغان جنگ کے حوالے سے ہے۔ بات وہ فوج سے کرتے ہیں ، شاہد خاقان عباسی یا صدر ممنون حسین سے نہیں۔ اللہ نہ کرے یہاں کوئی حادثہ پیش آئے لیکن اگر ایسا ہوا تو یقین کر لیجیے جمہوریت کیلئے ٹرمپ انتظامیہ یا سعودی عرب نے نوحہ خواں نہیں ہونا۔
کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ممکنات کا ڈھیر ہے۔ ہماری مالی حالت کمزور ہے۔ یہ ہمارا انوکھا اعزاز ہے کہ میزائل بھی ہیں اور لوہے سے تیار شدہ کشکول بھی۔ آگے فیصلے کیا ہونے ہیں حالات پہ منحصر ہیں لیکن احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد ہی پتہ چلے گا ہوائیں کیا رُخ اختیار کرتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *