سعودی عرب کے دوست پہلے کیوں چپ تھے؟

ایاز امیرAyaz Amir

 برادرعرب ملک کے دوست اسے جو نصیحت اب کررہے ہیں، بہتر ہوتا اگر وہ اُس وقت کرتے جب وہ ایران کے خوف کا شکار ہوکر یمن پر حملہ کرنے کے لیے پرتول رہا تھا، لیکن اب جبکہ اس نے اپنی ساکھ دائو پر لگا کر جنگ شروع کردی ہے تو اس وقت اُسے نصیحت نہیں کچھ اور ’’ٹھوس تعاون‘ ‘درکار ہے۔ اُنہیں فوجی دستے چاہئیں تاکہ وہ اُن کے لیے یمن میں لڑتے ہوئے حوثی قبائل کو ان کی شمال میں موجودہ پناہ گاہوں میں دھکیل دیں۔ صرف اسی صورت میں اس ملک کی ساکھ اور استحقاق کا دفاع ممکن ہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ سعودی عرب فوج رکھنے والے اپنے دوستوں۔۔۔ ترکی ،مصر اور پاکستان۔۔ ۔ سے کیا توقع لگا بیٹھا تھا، لیکن اب جبکہ اُنھوں (سعودی بھائیوں) نے یمن کی دلدل میں قدم رکھ دیا ہے تو ہم’’ بحران کے پرامن حل‘‘ کی بات سننے لگے ہیں۔ یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ ترکی نے کبھی بھی اس محاذ پر فوج بھیجنے میں آمادگی ظاہر نہیں کی تھی، لیکن ترکی کے صدرایردوان، جو تباہ کن خارجہ پالیساں بنانے والوںکے سرخیل کہلانا چاہتے ہیں ۔۔۔ پہلے اُنھوں نے شام کی بابت غلط پالیسی اپنائی اور اب یہی غلطی وہ یمن کے حوالے سے کرنے جارہے ہیں۔۔۔خطے میں پھیلتے ہوئے ایرانی اثر کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے سنائی دیتے ہیں۔ مسٹر ایردوان سعودی عرب کے سچے دوست ثابت ہوسکتے تھے اگر وہ حملے سے پہلے اپنے ریاض کے دورے کے دوران اپنے میزبانوں کو بتاتے کہ ایسی جنگ شروع کرنا ان کے لیے کسی طور بہتر نہیں جسے وہ خود ختم نہیں کرسکتے۔ اس دوران عقل حیران ہے کہ پاکستان کے شریف نے اپنے سعودی مہربانوںسے کیا کہا ہوگا؟ کیا وہ دوٹوک بات کرنے کے قابل ہوںگے؟ کیاپاکستان سعودی عرب کی جنگ کی پلاننگ کی مکمل حمایت کرتاہے؟ کیا پاکستانی وزیر ِا عظم نے کوئی زبانی وعدہ کررکھا ہے؟ یا پھر اپنے دوستوں کو لگی لپٹی رکھے بغیر بتادیا گیا ہے کہ پاکستان یمن میں فوج نہیں بھیج سکتا؟ یا پھر حسب ِمعمول سینے پر ہاتھ باندھ کر سرتسلیم خم ۔۔۔ جوہمارے رہنمائوں کی سکہ بند بدن بولی ہے۔
یمن میں مداخلت سے پہلے جو بھی یقین دہانیاں کرائی گئی ہوں، یہ آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ تمام بڑھکوں کے باوجود عرب کولیشن کاغذی شیر ہی ثابت ہورہا ہے۔ مصری فوج نے ناصر کے وقت میں یمن میں قدم رکھنے کی حماقت کی تھی، چنانچہ وہ کسی بھی ملک سے زیادہ یمن کو بہتر جانتے ہیں، تاہم فیلڈ مارشل عبدالفتح ا سیسی خلیجی ملکوں سے ملنے والے بھاری کیش کی وجہ سے احسان تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے قیاس اغلب ہے کہ وہ فوج بھیج دیںگے۔ اب باقی بچتا ہے پاکستان، جس کی طرف سعودی دوست بہت بے تابی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ نواز شریف بھی ان کا احسان رکھتے ہیں، لیکن یہاں ہماری فطرت اور شاید کلچر بھی آڑے آرہا ہے کیونکہ جہاں ایک آدھ سادہ سے جملے سے کام چل جاتا ہو، وہاں ہم جذباتی شاعری کے دیوان کے دیوان لکھ مارتے ہیں۔ چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ہم نے بار ِخاطر ہوکر ایسا وعدہ کرلیا ہوجس کاعملی طور پرہم بوجھ اٹھانے کی سکت ہی نہیں رکھتے۔ چنانچہ اس وقت یہ جاننا ضروری ہوگا کہ مسٹر شریف نے ریاض سے کیا کہا اور سعودیوں نے اس پر کس حد تک اعتبار کرلیا۔ تاہم حالات بہت بے رحم ہوتے ہیں۔ جان کیٹس جیسے رومانوی شاعر کو بھی کہنا پڑ گیا تھا۔۔۔’’Adieu, the Fancy cannot cheat so well‘‘۔ اس وقت تک نہ صرف ہمارے برادر کو آٹے دال کا بھائو معلوم ہوچکا ، بلکہ شریف حکومت بھی التباسات کی دنیا سے نکلنے کی کوشش میں ہے۔ اگر برادر ملک کو پہلی مرتبہ اپنی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہے تو پاکستان میں بھی سول حکومت کو (اور ہمارے ہاںایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا)پتہ چل گیا کہ ایسے کسی اقدام سے پہلے فوج کوآن بورڈ لینا ضروری تھا۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ یمن کے بھاری، بلکہ گرم پتھر کو اٹھانے کے لیے تیار نہیں، تاہم یہاں بھی ہم حتمی طو رپر نہیں جانتے کہ فوج کی اصل مرضی کیا ہے اور وہ کیا کرنا چاہ رہی ہے؟
اگر نواز شریف یمن کی صورت ِحال کو درست طریقے سے بھانپنے کے قابل ہوتے اور وہ ریاض کو کوئی بہتر مشورہ دیتے یا اُنہیں اپنے تعاون کی اصل، نہ کہ جذباتی، ممکنات اور یمن جنگ کے مضمرات سے بہت ہی سادہ زبان میں آگاہ کردیتے تو شاید وہ سعودیوںکے بہتر دوست ثابت ہوتے۔اس وقت یوکرائن طرز کا آپشن بھی موجود ہے۔۔۔۔ وردی اور شناخت ظاہرکیے بغیر فوج بھجواتے ہوئے اُنہیں رضاکار ظاہرکریں۔ تاہم دھیان رہے کہ جب ایک مرتبہ حماقت کا جن بوتل سے نکل جاتا ہے تو پھر یہ کسی بات سے ہی واپس آتا ہے۔ کارگل مہم جوئی کے موقع پر ہم نے اپنی باقاعدہ فوج کو ’’مجاہدین ‘‘ کانام دیا تھا۔ چنانچہ اگر حکومت کے پاس سعودی دبائو کے سامنے سرنگوں کرنے کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہ دے تو پھر ہمارے فیصلہ ساز یہ آپشن اختیار کرسکتے ہیں۔
دراصل اس عرب مسئلے کی جڑ اندازے کی بنیادی غلطی تھی۔ اب تک وہ ہر مسئلے کو چیک بک سے حل کرنے کے عادی تھے اور ان کی حد تک وہی ’’دانائی بہترین حکمت ِعملی‘‘ تھی۔ اس میدان میں خطے میں ان کا کوئی حریف نہیں۔ اسی وجہ سے جنرل سیسی سے لے کر پاکستانی سیاست دان، سب ان کے مشکور وممنون۔ اگر کارروائی کی ضرورت پڑے، جیسا کہ بشارالااسد کا تختہ الٹنا ہو، تو مخالف گروہوں کو رقوم اور ہتھیار فراہم کردیں، چنانچہ یہ معاملات اسی طرح بخیر و خوبی چل رہے تھے۔ برادر ملک کی حکومت داخلی طور پر پیدا ہونے والے مسائل کو بھی مزید سبسڈی دے کر قابو میں رکھتی ہے۔ چنانچہ اسے یہی کام کرنا چاہیے تھا جس میں یہ مہارت رکھتی ہے۔ اب بات یہ ہے کہ چیک بک ڈپلومیسی آپ کو کاغذی شیر تو بنادیتی ہے ، لیکن جنگ کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔ دوسری طرف غیر اعلان کردہ ایرانی کولیشن کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ وہ جنگ آزما لوگ ہیں۔ ان کے شانہ بشانہ حزب اﷲ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔۔۔ اور حزب اﷲ خطے کی واحد فوجی قوت ہے جو اسرائیل کو مناسب جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے، اور یہ بات اسرائیل کو بھی بادل ِ ناخواستہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ اسی طرح مسٹر اسد ہیں جو خانہ جنگی کے بھیانک شعلوں کے باوجود اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔ خونریز جنگ کے باوجود وہ دمشق سے فرارنہ ہوئے۔ اس دوران شامی فوج بھی جنگ آزماقوت بن چکی ہے۔سب سے بڑھ کر ، خطے میں ایران کی طرف سے براہ ِراست مداخلت بھی جاری ہے جس نے داعش جیسے عفریت کی پیش قدمی کو روک دیا۔ کیا حزب اﷲ جیسی کوئی قوت عرب صفوں میں بھی موجود ہے؟یا کیا ان کے پاس ایران کے جنرل قاسم سلیمانی جیسا کوئی تجربہ کارسپاہی موجود ہے؟اگر عرب اتحاد کی عسکری حماقت دیکھیں تو اُس نے شامی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں داعش جیسی قوت کو ابھرنے کا موقع فراہم کردیا۔ اب یمن میں حوثی جنگجووں پر بمبار ی کرتے ہوئے وہ یہاں AQAP(جزیرہ نمائے عرب کی القاعدہ شاخ) کو تقویت دے رہے ہیں، تاہم ایران کا خوف ان کے ذہن پر اس قدرسوار ہے کہ وہ کسی اورخدشے کو ذہن میں جگہ دینے کے لیے تیار ہی نہیں۔ اسرائیل چاہے جو کچھ بھی کرگزرے، عرب دوستوں کی جبیں تک شکن آلودنہیں ہوتی، لیکن ایران کے اثر کو کم کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اگردیکھا جائے تو ایران وسیع تر شطرنج پر اپنے مہرے آگے بڑھارہا ہے، لیکن عرب اتحاد وقت کو روک کر تبدیلی کے امکانات ختم کرنا چاہتا ہے۔ جب تک اُنہیں امریکی پشت پناہی حاصل تھی، ایسا کرنا ممکن تھا کیونکہ اُ س وقت عالمی طاقتیں ایران کو تنہائی کا شکار کرنا چاہتی تھیں، لیکن عراق جنگ کی وجہ سے تمام معروضات تبدیل ہوگئے۔ سب سے پہلی پیش رفت یہ کہ اب امریکی طاقت کے زوال پذیر ہونے کا تاثر گہرا ہورہا ہے۔ کم از کم شام کے معاملے پر دیکھنے میں آیا کہ اس نے طاقت کی بجائے ’’عقل اور برداشت‘‘ کو موقع دیا۔ اس دوران ایران بھی عالمی تنہائی سے نکل آیا۔ مشرق میں چین بھی عالمی معاملات پر گہرااثر ڈال رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یمن کی صورت ِحال کو سعودی عرب نے تخیلات کی دنیا میں ا سٹڈی کیا تھا، وہ عالمی حالات و واقعات کو نظر انداز کرنے کی غلطی کرگئے، ورنہ وہ خود بھی جانتے تھے کہ یمن افغانستان سے مختلف نہیں۔
اگر پاکستان سعودی عرب کا سچا دوست ہے تو اسے ان خطرات کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ڈھکے چھپے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خطرہ سامنے موجود ہے۔ اس موقع پر عقل اور معقولیت کی بات کرنا اور سمجھانا ہی سب سے بڑی دوستی اور معاونت ہوگی۔ پاکستان کو لاحق خطرات کو ایک طرف رکھیں، اگر یمن میں لڑنے کے لیے دستے بھیج دئیے جائیں تواس سے بھی صورت ِحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، صرف سعودی عرب کو لاحق خطرے کے بادل مزید گہرے ہوجائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *