پاک بھارت ڈاکٹرائنز (2) ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاءالحق

میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھارت پر فوجی غلبہ پانے کی ھماری ڈاکٹرائن دم توڑ گئ۔ پاکستان نے کولڈ وار میں امریکہ کا اتحادی بن کر روس کو تو ناراض کیا لیکن امریکہ اور یورپ ان جنگوں میں ھماری مدد کو نہ آ سکے۔ یوں کولڈ وار میں امریکہ کا اتحادی بننے کی ھماری پالیسی بھی ناکام ھو گئ۔ اور ھمارا یہ تصور بھی ھمیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ دلوا سکا۔ کہ کولڈ وار میں سانجھے داری سے ھمیں جو فوجی اور معاشی امداد ملے گی۔ وہ ھم بھارت کے خلاف استعمال کر سکیں گے۔ ھمیں معلوم ھوا ۔ ھم روایتی ھتیاروں سے بھارت کے خلاف روائتی جنگ میں کامیاب نہیں ھو سکتے۔ چناچہ ذوالفقار علی بھٹو نے وزیراعظم بن کر پاکستان کی پالیسیوں میں سٹرکچرل تبدیلیاں لانی شروع کیں۔ روس کے ساتھ نئے سرے سے دوستانہ تعلقات استوار کیے گئے۔ روس کے تعاون سے کراچی میں اسٹیل مل لگائ گئ۔ روسی کمیونزم کو فالو کرتے ھوے صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی اختیار کی گئ۔ حکومت میں سوشلسٹ عناصر کو جگہ دی گئ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر عملدرآمد شروع ھوا۔ تاکہ غیر روائتی جنگ میں بھارت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ امریکہ سے دوری اختیار کی گئ۔ اور سیٹو جیسے کولڈ وار معاہدوں کو خدا حافظ کہہ دیا گیا۔ امریکہ کے مقابلے میں اسلامی امہ کے تصور کو اجاگر کیا گیا اور عربوں کے ذریعے تیل کے ھتیار کو استعمال کروایا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اندرون ملک اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو محدود کر دیا گیا۔ اور عوامی بالادستی اور سول سپریمیسی کو بڑھاوا دیا گیا۔ سیاسی استحکام اور ملک چلانے کے لیے پہلا متفقہ آئین دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھٹو قوم پرست تھے۔ اور وہ جن پالیسیوں پر عمل پیرا تھے۔ وہ نہ صرف امریکہ کو ناقابل قبول تھیں ۔ بلکہ مقتدر حلقوں کے لیے بھی ناپسندیدہ تھیں ۔ خاص طور پر ذوالفقار علی بھٹو کا کولڈ وار سے نکل آنا ، روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور ایٹمی پالیسی پر عمل درآمد امریکہ کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔ جس کی سزا وہ ھر صورت بھٹو کو دینا چاھتا تھا۔
ادھر 1973 میں سردار محمد داؤد نے افغانستان میں اپنے کزن بادشاہ ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اور ملک میں کمیونسٹ پالیسیوں پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ پشتونوں کو ایک قومی نعرہ دینے اور اپنی مقبولیت قائم رکھنے کے لیے پاکستان کے ساتھ پختونستان کا ایشو نئے سرے سے زندہ کر دیا۔ سردار داود کی کمیونسٹ پالیسیوں کے خلاف ایک اسلامی اتحاد وجود میں آ گیا۔ جس کے لیڈر 1975 میں افغانستان سے بھاگ کر پاکستان میں آ گئے۔ جن میں گلبدین حکمت یار بھی شامل تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سردار داود کی پاکستان مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ان مجاہدین کی مدد شروع کر دی۔ یوں افغانستان میں ایک پراکسی وار شروع ھو گئ۔اور تزویراتی گہرائی کی پالیسی کا آغاز ھوا۔ یہ وہ لمحہ تھا۔ جب امریکہ کو یہ احساس ھوا۔ روس سے کولڈ وار کا حساب افغانستان میں لیا جا سکتا ھے۔ سی آئی اے کے ایک سابق ڈائریکٹر اور امریکی سیکرٹری ڈیفینس رابرٹ گیٹس نے ایک بار کہا۔ روس اپنی مرضی سے افغانستان میں آیا تھا۔ لیکن اس کی فضا امریکہ نے تیار کی تھی۔ گویا سرخ ریچھ کو گھیر گھار کر افغانستان کے میدان جنگ میں لایا گیا تاکہ اس کا شکار کیا جا سکے۔ کہا جاتا ھے۔ یہ اس گریٹ گیم کا حصہ تھا۔ جس کے تحت برطانیہ اور روس میں 1813 اور 1907 کے درمیان افغانستان کے کنٹرول کے لیے جنگیں لڑی گئیں۔ 27 اپریل 1978 میں سردار داود کے خلاف ایک کمیونسٹ انقلاب میں نور محمد ترکئی صدر بن گئے۔ ترکئی کا تختہ حفیظ اللہ امین نے ستمبر 1979 میں الٹ دیا۔ جس کے خلاف روسی فوج 24 دسمبر 1979 کو روس میں داخل ھو گئ ۔ کیونکہ روسی صدر برذنیف کا خیال تھا۔ حفیظ اللہ امین امریکی ایجنٹ ھے۔
اس سے پہلے تحریک نظام مصطفی کے نتیجے میں 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق بھٹو کی حکومت ختم کرکے ملک میں مارشل لاء لگا چکے تھے۔ تحریک نظام مصطفی کی تحریک کے دوران پاکستان کے طول و عرض میں اسلام کے نام پر ایک جہادی نرسری تیار ھو چکی تھی۔ جسے افغانستان میں استعمال ھونا تھا۔ یوں کہہ لیں ۔ افغانستان اور پاکستان میں وہ تمام اسباب پیدا کر لیے گئے تھے۔ جو افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے لیے ضروری تھے۔ سعودی عرب کا پیسہ اس میں شامل تھا۔ ابھی حال ھی میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد یہ اعتراف کر چکے ھیں۔ کہ پاکستان اور افغانستان میں مدرسوں پر سرمایہ کاری امریکہ اور یورپ کے کہنے پر کی گئی۔ گویا امریکہ کولڈ وار کے اپنے حریف روس کو شکست دے رھا تھا۔ اور اس کے نتیجے میں دنیا کا بلا شرکت غیرے حکمران بن گیا۔ اور ھم جہاد کے نام پر اپنے بچے کٹوا رھے تھے۔ اور اپنے عوام کو یہ گولی کروا رھے تھے۔ کہ اگر روس کو افغانستان میں نہ روکا تو وہ گرم پانیوں تک آ جاے گا۔
اس افغان جنگ کا سب سے خوفناک اور مظلوم ترین اور المناک واقعہ یہ تھا۔ کہ امریکہ اور جنرل ضیاء نے اپنے مشترکہ دشمن ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو پھانسی دلوا کر اپنے راستے سے ھٹا دیا۔ اور اپنے انتقام کی پیاس بجھا لی۔ وہ قوم پرست لیڈر جس نے ملک اور قوم کی بہتری کے لیے اوپر بیان کردہ اقدامات اٹھاے تھے۔
جنرل ضیا الحق نے افغان جنگ کا حصہ بن کر اسی پالیسی پر عمل شروع کیا۔ جو اس سے پہلے جنرل ایوب کولڈ وار کا حصہ بن کر کر چکے تھے۔ افغان جنگ میں مالی و فوجی امریکی امداد حاصل کی گئ۔ کشمیر میں جہاد کا آغاز ھوا۔ اور ضیاء الحق کی اس ڈاکٹرائن پر عملدرآمد شروع ھوا ۔ بھارت کو ھزار زخم لگائے جائیں تاکہ اس کا خون بہتا رھے۔ جبکہ اپنی ریگولر فوج اور اسلحے کو محفوظ رکھا گیا۔ 1979 میں افغان جنگ ختم ھوئ۔ امریکہ کو فتح اور روس کو شکست ھوئ اور اس کے حصے بخرے ھو گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جہادی پالیسی کو خیر باد کہہ دینا چاھیے تھا۔ لیکن ایسا نہ ھوا۔ نتیجہ ضیاء الحق طیارہ حادثے میں ھلاک ھو گئے۔ امریکہ یونی پولر پاور بن گیا۔ بھارت نے سیاچن پر قبضہ کر لیا۔ اور پاکستان کے حصے میں ھمیشہ کے لیے انتہاپسندی ، مزھبی منافرت ، کلاشنکوف اور ھیروئین کا کلچر لکھ دیا گیا۔ اور اس سارے ظلم میں ایک خون ناحق ذوالفقارعلی بھٹو جیسا عظیم اور قوم پرست رہنما بھی شامل ھے۔ باقی آئیندہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *