سیکولر بمقابلہ ماڈرنسٹ

11 اگست 1947 میں قائد اعظم نے پہلی بار پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں تقریر کی وہ آج تک شدید اور فوری رد عمل کو ابھارتی ہے۔ اس تقریر میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے جہاں مذہب شہریوں کا ذاتی مسئلہ ہے جس کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بھی پتہ تھا کہ جناح کی اپنی مسلم لیگ پارٹی کے افراد نے اس تقریر کا بگڑا ہوا ورژن پریس میں دے دیا لیکن اس سازش کو ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین نے ناکام کر دیا۔ خالد احمد نے 2001 میں لکھی کتاب ' پاکستان بی ہاینڈ دا لوجیکل ماسک' میں اس سانحہ کو تفصیل سے بیان کیا ۔ حسین نے دھمکایا کہ اگر پوری تقریر شائع نہ کرنے دی تو وہ جناح کو بتا دیں گے۔ اس تقریر نے مذہبی پارٹی کے اکثر علماء اور لیڈروں کو پریشان کر دیا ۔ مثال کے طور پر ایک تفحیم القرآن کے رسالے میں ایک مشہور سکالر نے اور جماعت اسلامی کے بانی ابو الاعلی مودودی نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے بانی لادینیت سے اسلام کی بات کرتے ہوئے الجھن اور تضاد کا شکار تھے۔ اسی طرح یہ بھی نوٹس کرنا اہم ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ علماء نے جناح اور ان کے آدمیوں کی مذمت کی تھی۔ پاکستان تحریک (1940-46) کے پورے وقت علماء اور کئی مذہبی پارٹیوں نے اس سیکولر گروٌپ کو خبردار کیا اور کہا کہ برائے نام مسلمان ایک مسلم ملک بنانے نکلے تھے جو ہندو اقلیت کے لئے آبادیاتی اور سیاسی تباہی تھی ۔ 1960 میں ایک سکول کی کتاب میں قائد اعظم کی تقریر چھپی اور یہ ماڈرنسٹ ایوب خان کے دور کی بات ہے اور اس تقریر کا ایک حصہ مطالعہ پاکستان میں بھی چھپا۔ اور مطالعہ پاکستان کو لازمی مضمون کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے دور( (1971-77 میں نصاب میں شامل کیا گیا۔ اور یہ تقریر جنرل ضیاء کے دور (1977-88). میں مکمل ہٹا دی گئی۔ اور ابھی حال ہی میں اسے صوبہ سندھ کے سکول کے نصاب میں شامل کیا گیا جو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہے۔ 1980 میں جب نصاب سے تقریر غائب ہوئی تو اس کے الفاظ جنرل ضیاء کے اسلامی نظریے کے خلاف استعمال کئے گئے اور ان کی حکومت برائے نام اسلامائزیشن کہلائی۔اگلے دو ڈھائی دہایوں میں یہ تقریر لبرلز، پروگریسوز اور ماڈرانسٹس کے ہاتھوں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی رہی جو بہت سی آئینی ترامیم اور
احکام میں تبدیلی لانا چاتے تھے جس نے ان کے خیال سے جناح کےمسلم اقلیتی ملک کے ماڈرن اور پروگریسو نظریات کو بدل دیا ہے۔ ان کو یہ بھی ڈر تھا کہ یہ قوانین سٹیٹ کو پستی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور ملک کی گورنمنٹ اور سیاست دان کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ اور اپنا اعتماد کھوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی پارٹیاں اور کچھ ساتھی ردعمل کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ انہوں نے پاکستان کو اسلا مک رپبلک میں تبدیل ہوتے دیکھا جو اسے بنانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ 1949 میں جناح کی وفات کے ایک سال بعد آئین ساز اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کا آئین اسلامی تعلیمات پر مبنی ہو گا تب مودودی نے اس تحریک کو خوش آمدید کہا تھا ـــــــ خاص طور پر اس قرار داد میں کسی بڑے اسلامی قانون یا قاعدے کو نشانہ نہیں بنا یا گیا تھا۔ لیکن مودودی سمیت بہت سے علماء نہیں چاہتے تھے کہ غیر مسلموں کو اقلیت ہوتے ہوئے برابری کے شہری حقوق ملیں۔ ان کا یقین یہ تھا کہ اسلامی ریاست میں صرف مسلمانوں کا غلبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا جناح نے مسلمانوں کے ساتھ ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام کا وعدہ نہیں کیا تھا؟ یہ سوال اب تک وہ لوگ پوچھتے ہیں جو جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر پر یقین نہیں رکھتے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جب بتایا جائے کہ جناح کو ایک ترقی یافتہ ملک چاہیے تھا تو بہت سارے ہندوستانی بھی یہی سوال کرتے ہیں ۔ در اصل بہت سارے ذمہ دار لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ اس بارے میں کی جانے والی تقریر سکیولر پاکستان اور مذہب کے بارے میں تھی۔ بلکہ کبھی کبھی یہ ہی بات انہوں نے بھی سمجھی جنہوں نے اس تقریر کا حوالہ دیا۔ لیکن اگر یہ نہیں تو پھر اصل بحث ہے کیا ؟ اس سوال کا جواب دینا اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے ۔ پاکستان میں اس حوالے سے مرکزی گفتگو ان دو مسلم نیشنل ازم طاقتوں کی ہے جو ساؤتھ ایشیاء میں مقابلے کی سطح پر ہیں۔ ان میں سے ایک دعوی کرتی ہے کہ وہ ماڈرنسٹ ہیں اور دوسری کہ
ہم مذہبی ہیں۔ سر سید احمد خان نے 19 ویں صدی میں اس پورے نظریے کی بنیاد رکھی ۔ لیکن جب محمد اقبال نے اس میں مزید ارتقا کیا ، تو جناح جنہوں نے الگ وطن کی تحریک کو ایک مشہور تحریک بنا دیا ، کا مقصد ایک ماڈرن ملک بنانا تھا ۔ نظریہ یہ تھا کہ مسلم ماڈرنازم عقلی اور عصری طور پر اسلامی تعلیمات کی ترجمان ہو۔ معاشرتی ماڈرنٹی اور سائینسی ذہنیت کو اس میں جذب کیا گیا کیوں کہ ان کا ماننا تھا کہ اسلام ایک لچکدار جمہوری مذہب ہے۔ تب سے یہ ماڈرنسٹ تھے جنہوں نے الگ وطن کی تحریک چلائی وہ ایسا ملک چاہتے تھے جہاں کسی رکاوٹ جیسے سامراجی ہندو اکثریت کے بغیر مسلم ماڈرنسٹ منصوبہ پورا ہو ۔ اسی لیے ملک کے دو بانی لیاقت علی خان اور جناح اس بات پر زور دیتے رہے کہ پاکستان کو ایک مذہبی ریاست نہیں بنایا جائے گا ۔ وہ اکثر یہ وضاحت کرتے کہ پاکستان ایک پروگریسو اور لبرل ملک ہو گا جہاں اسلامی اصولوں کے مطابق تمام شہری آزادی سے رہ سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں رہنماوں نے کچھ مواقع پر اسلام اور شریعت کے بارے میں بھی بیانات دئیے جنہیں لوگ اپنے مفاد کے لیے اکثر حوالہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اسلام اور شریعت کے بارے میں یہ نظریات وہ ایک ماڈرنسٹ کے طور پر رکھتے تھے اور انہیں ملک کی حالیہ ضرورتوں کے لیے مفید قرار دیتے تھے نہ کہ ریاست کو ہی مذہبی ریاست بنانے کے حامی تھے۔ ایوب خان نے بھی حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد پاکستان کو ایک ماڈرن مسلم ملک قرار دیا اور لیاقت علی خان کی یقین دہانی کو دہرایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام میں مذہبی معاشرے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک صدر اور بعد میں وزیر اعظم کی حیثیت سے اسلامک سوشلزم کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ مورخ علی عثمان قاسمی اپنی کتاب 'مسلم بمقابلہ مسلم لیگ' میں ایک آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہیں جو اکتوبر 1949 میں تفہیم القران کے شمارے میں شائع ہوا جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان کے بانی ایک سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ مسلم ماڈرن ازم کے مخالفین اس نظریہ کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اسے سیکولر کا نام اس لیے دیا کہ عوام کی طرف سے اس کے خلاف مزاحمت میں تیزی آئے۔ یوں یہ ایک مسلم نیشنلزم کے پیچھے چھپی مذہبی انتہا پسندی تھی جس نے اسلام اور سیکولرازم کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا جب کہ اصل مقابلہ اسلام اور سیکولرزم کے بیچ تھا ۔ یہی چیز 1954 میں منیر کیانی نے اپنے الفاظ میں واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ ایک اسلامی لیویاتھان پیدا کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *