نواز شریف اب کیا آپشن استعمال کریں گے

فی الحال تو اس فیصلے سے نواز شریف کو کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ اگر نیشنل اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اگلے الیکشن جولائی کے آخر میں ہوں گے۔ نواز شریف کو پچھلے سال جولائی میں نا اہل کیا گیا تھا اور انہین کم از کم ایک سال تک تو نا اہلی کا سامنا کرنا ہی تھا۔ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ایف 1 کے تحت سب سے کم نا اہلی کی مدت جو زیر بحث آئی وہ پانچ سال تھی۔ فیصلے سے صرف یہ ہوا کہ فوکس ایک بار پھر نواز شریف پر چلا گیا ہے ان کا آخری مقصد کیا ہو گا اور ان کی حکمت عملی کیا ہو گی۔ آوٹ سائیڈرز کےلیے ان میں سے کوئی چیز ظاہری طور پر نظر نہیں آ رہی۔ البتہ طویل المدتی معیار کو سامنے رکھا جائے تو اس فیصلے کا نواز شریف کے سیاسی کیریر پر بہت اثر پڑے گا۔ نا اہلی کے فیصلے سے ناا ہلی کی مدت کے فیصلے تک موجودہ اور آنے والے چیف جسٹس حضرات نے نواز کو انتخابی سیاست کےلیے نا اہل قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ نیب کی طرف سےشریف خاندان کے خلاف کیسز کے فیصلوں سے قبل آیا ہے۔ جب حامد میر سے پوچھا گیا کہ کیا نواز شریف انتخابی سیاست میں فرنٹ لائن پر واپس آنا چاہتے ہیں تو انہون نے کہا: ان کا کھیل ختم ہو چکا ہے ۔ انہیں یقین نہیں ہے کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن پائیں گے۔ پی ٹی آئی کے شفقت محمود کے بھی ایسے ہی تاثرات تھے۔ انہوں نے کہا: یہ اب ماضی کی بات ہو چکی ہے۔ عدلیہ کے ساتھ این آر او نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا: ان کے لیے اب اہم چیز ان کی بیٹی اور غیر ممالک میں موجود جائیدادیں ہیں ۔ اگر نیب کی طرف سے بھی ان کو سزا ہوئی تو برطانوی قوانین کے تحت لوٹا ہوا پیسہ واپس پاکستان لایا جا سکتا ہے۔ ن لیگ کے سیاستدانوں کی رائے مختلف ہے۔ ایک سینئر لیڈر کا کہنا تھا کہ یہ تو ہمیں پہلے سے معلوم تھا ۔ ان کے مطابق نواز کی حکمت عمل بہت سادہ ہے۔ ہم سیاسی طور پر مضبوط پارٹی ہیں اور ہم اپنا فیصلہ عوام کی عدالت لے کر جائیں گے۔ اگر ملک میں شفاف انتخابات ہوئے تو عوام ن لیگ کو بھاری کامیابی دلوائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو پارلیمنٹ میں قانون سازی کر کے ہر قسم کی تبدیلی کے ذریعے معاملات کو بہتر کیا جا سکتا ہے ۔ اس سینئر سیاستدان نےاپنا نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی تا کہ ان پر عدالت توہین عدالت کا کیس نہ لگا دے۔ ہر ن لیگی سیاستدان کا کہنا تھا کہ شریف کے خلاف عدلیہ کو استعمال کیا جا رہا ہے اور اگر نواز اور ن لیگ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو ئے تو ان فیصلوں کو ریورس کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کی سیاست کے ماہر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا: نواز کو عدلیہ، ملٹری کمانڈ اور دنیا کے حالات کو بدلتےے دیکھنے کا وقت مل رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف چونکہ فی الحال انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے اس لیے انہیں مستقبل میں اچھے وقت کی امید رکھتے ہوئے تیاری کرنا ہو گی۔ ایک تصویر جو سوشل میڈیا پر ن لیگی کارکنان کی طرف سے شئیر کی جا رہی ہے اس میں اسی تاثر کو سامنے لایا گیا ہے۔ جولائی 23 سال 2000 کو شائع ہونے والے جنگ اخبار کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں لکھا تھا کہ 14 سال قید، 2 کروڑ جرمانہ21 سال کے لیے نا اہل۔ یہ ہیلی کاپٹر کے کیس کے فیصلے کے بارے میں ہیڈ لائن تھی۔ اگرچہ نواز شریف ملک بھر میں بڑی تعداد میں عوام کو جلسوں میں آنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہیں لیکن عدلیہ کی طرف سے ان پر جو وا ر کیے جا رہے ہیں ان سے نواز کے لیے بہت مشکلات کھڑی ہو رہی ہیں ۔ سپریم کورٹ کی طرف سے مکمل تاحیات نا اہلی کا مطلب ہے کہ نواز شریف انتخابی سیاست میں مزید کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔ اگر نواز شریف یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ اگلی ٹرم مین الیکشن نہ بھی جیت سکے تو 2023 میں وہ واپس سیاست میں آ سکیں گے تو یہ آپشن بھی اب ختم ہو چکی ہے۔ اگر ن لیگ پارلیمنٹ میں 2 تہائی اکثریت حاصل کر ے تا کہ آئین میں تبدیلی لا سکے تو بھی سینٹ میں سے کسی ایسے بل کا پاس ہونا ناممکن
ہے۔ اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ نواز شریف کی لڑائی اب صرف اپنی بیٹی کے لیے ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ نا اہلی کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ سیاست نہیں کر سکتے۔ اگر وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے تو یہ سیاست چھوڑنے کے برابر نہیں ہے۔ ابھی مریم نواز موجود ہیں اور مستقبل کا کس کو علم ہے کہ کب کیا ہو جائے۔ البتہ کل کے فیصلے کے بعد نواز کے سیاسی مستقبل کے اثرات میں واضح بدلاو آیا ہے۔ اب ان کی پارٹی میں سے لوگ علیحدہ ہونے لگیں گے۔ جب حکومت میں تبدیلی کو صرف چند ہفتے باقی ہیں، بہت سے سیاستدان جلد ی میں اپنے لیے اگلے الیکشن کے لیے بہترین سمت کا تعین کریں گے۔ اس کے بعد اس فیصلے کے آنے کے بعد نواز شریف کے لیے ایک چیلنج اپنے ساتھیوں کو پارٹی کے مفاد میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے پر
آمادہ کرنا ہو گا۔ کل کے فیصلے کے بعد نواز کی مشکلات میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *