تجدیدِ وفا

وفا کا نام جس نے بھی رکھا شاید اس نے وعدہ کیا ہو یا شاید عشق لیکن عشق کرنے والے اور وعدہ کرنے والے دونوں اپنے آپ کو ہمیشہ سرخرو پاتے ہیں اور سرخروئی اس کا نصیب ہوتی ہے جو سچ کا پیروکار ہو اور اس کے مقدر میں روشنی ضرور لکھی جاتی ہے، دنیا میں وفا اور پھر اس کے عہد پہ شاید ہی کسی سوچنے اور لکھنے والے ذہن نے نہ لکھا یا سوچا ہو لیکن وفا کے تقاضے ہمیشہ سے ضرور بدلتے رہے لیکن وفا کی اصل ہمیشہ ایک ہی شے سے جڑی رہی اور وہ ہے اپنے اندر اور باہر کی شفافیت وفا کرنے والوں نے ہمیشہ وفا نبھائی لیکن بہت سے وفا کے دعوے داروں نے وفا سے بھی وفا نہیں کی، کتنے دوست اور نام نہاد مخلص ہوں گے جو اپنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے لیے تیار رہتے ہوں گے اور کتنے ہی ایسے غیر ہوں گے جو بظاہر تو دور کے تعلق میں ہوتے لیکن ان کے دل میں سچ اور من میں بے نیازی انہیں اپنوں سے بھی زیادہ قریب کرتی ہے ، تجدیدِ وفا ہو یا تجدیدِ دعا یہ جذبے اور یہ دلی خواہشات ہمیشہ سے احساس کو مدِ نظر رکھتی ہیں، ہم ہر روز کتنوں کے خلاف سازشوں کے پل باندھتے ہیں کتنوں کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں لیکن آخر پر وہی گڑھا ہمارا مقدر بنتا ہے تو ہم سب کے سامنے اپنی دلی سیاہی سمیت عریاں ہو جاتے ہیں اور یہ وقت کا فیصلہ ہے کہ وہ کب کس سے کیا لیتا ہے

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو اس معاشرے کا حصہ نہیں سمجھتے، ہم جو اصول معاشرے کے لیے بنانا چاہتے ہیں وہ خود پر لاگو نہیں کرتے اور یہی معاملہ وفا کی مد میں بھی پیش ہے کہ ہم تجدیدِ وفا کے قصے تو سناتے ہیں لیکن وفا کرنے سے خود کتراتے ہیں ہم وفا کرتے نہیں لیکن وفا کے رکھوالے ضرور بنتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وفا داری کا جذبہ بھی ناپید ہوتا جا رہا ہے ہم پیار کرنے والے ہوں یا رشتے نبھانے والے، دوست ہوں یا ہم سفر ہم ہر معاملے میں جلد باز بھی ہیں اور لا پروا بھی لیکن ہم پھر وفا کے متلاشی ہیں

زمانے اور زمینیں مسلسل سفر میں رہتی ہیں اور آسمان ساکت، خلا کی انت کسی نے نہیں دیکھی اور اسی طرح وفا کی انت بھی کسی نے نہیں دیکھی لیکن خلا کے اندھیرے میں اتنی سیاہی نہیں جتنی وفا کی روشنی میں دم ہے اور محبت کرنے والے وفا کے نام پر ہی امر ہو جاتے ہیں، دوستوں کی دوستی ہو یا اپنوں کا بھرم سب کا امتحان لیا جاتا رہا ہے اور یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے تو سب سے زیادہ امتحان وفا کا ہی لیا جاتا رہا اور مجھے معلوم ہے ہر موقع پر وفا نے اپنی کسی نہ کسی شکل میں قربانی دی، ماحول بدلتا رہے امیدیں بڑھتی رہیں اور آزمائشیں بھی لیکن وفا کا دامن ہمیشہ سے وسیع رہا اور اس وسعت کے پیچھے کتنے جذبوں کا خون ہو کتنی مجبوریوں کی زندگی ہو کتنے پھولوں کی قربانی ہو کتنی منزلوں کا شوق ہو یہ سب وفا کے نام ہیں اور وفا اپنے نام کی وسعت سے بھی زیادہ وسیع و عریض ہے

ہاتھ ہاتھوں میں تھامے چلنے والوں کے دل اور من میلوں کی دوری پہ بھی ہو سکتے ہیں اور سمندر پار رہنے والے ایک دوسرے کے دلوں میں بھی گھر کر سکتے ہیں، راہ چلنے والے مسافر ایک دوسرے کے لیے اپنی منزلیں بھی چھوڑ سکتے ہیں اور صدیوں کے ساتھی ایک دوسرے کو آخری وقت میں بھی تنہا چھوڑ سکتے ہیں یہ سب ممکنات کی دنیا کی کہانیاں ہیں جس آنکھ میں دیکھیں وہیں نئے ستارے چمکتے نظر آئیں گے جس پھول کو چھوئیں وہیں نئے رنگ ملیں لیکن ہر حال میں وفا کی طلب میں چلنے والے محبت کو سہارا بنا کر اپنے انجام کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور اسی انتظار میں بعض اوقات زمانے بیت جاتے ہیں اور بعض اوقات ایک لمحہ بھی سب کچھ بیان کر جاتا ہے ، کچی دیواروں پہ بنے نقش بارش کے خوف میں ہی بھیگ بھیگ کر اتر جاتے ہیں لیکن دل کی دیوار پہ بنے محبت کے نقش کبھی نہیں مٹتے اور اگر مٹانے کی کوشش بھی کی جائے تو ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جو ان نقوش سے بھی زیادہ شدت سے ماضی کی یاد دلاتے ہیں

وقت لفظوں کی طرح بہتا چلا جاتا ہے اور لفظ بہتے بہتے کتنی سطریں کتنے فقرے کتنی کہانیاں کتنی داستانیں بن جاتے ہیں اسی طرح وقت بھی اپنے ہر آنے والے پل کے ساتھ نئی صورت اختیار کرتا ہے لیکن وقت کی چال سے لوگ اکثر تھک ضرور جاتے ہیں لیکن وفا داروں کے قبیلے میں اک روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے کہ وہ زمانوں کا سفر طے نہیں کرتے وہ دنوں اور لمحوں کو چنتے ہیں وہ احسان نہیں جتلاتے کہ ہم کتنے عرصے سے وفا کے دامن میں خون نچوڑ رہے ہیں بلکہ وہ ایک لمحے میں زندگی قربان کر کے اگلے لمحے پہلی قربانی کو بھول کر نئی آزمائش کو سرخرو کرنے کی ٹھانتے ہیں پھول اگاتے ہیں تو خوشبو کی لالچ نہیں رکھتے بلکہ ہواؤں کو معطر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، بھلا کرتے ہیں خیر بانٹتے ہیں اور یہی تجدید ِ وفا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *