عمران خان کا مچھر چھانٹنااور اونٹ نگلنا

نجی چینل کے ٹاک شو میں اینکر فہیم فارانی نے مجھ سے پوچھا کہ عمران خان نے اپنے بیس صوبائی ارکان کے خلاف جو کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے ، اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے ۔ کیا یہ جمہوری اقدار کی طرف مثبت قدم نہیں؟ یہ جیو نیوز کے رپورٹ کارڈ کی طرح کا ٹاک شو ہے ، جس میں دیگر کئی تجزیہ کار اپنی رائے دیتے ہیں ۔حیرت انگیز طور قریباٍ ۱کثر لوگوں نے وہ تمام نکات پیش کر دیے جو کہے جا سکتے ہیں۔آخر پر باری آنے کے باعث میرے لیے انھیں دوہرانے کے سوا بظاہر کوئی چارہ نہ تھا۔اب بات کو کسی دوسرے اسلوب میں بیان کرنا ہی مناسب تھا ۔ تب میں نے عرض کی :مجھے اس موقع پر سیدنا مسیح علیہ السلام کی بیان کردہ ایک تمثیل یاد آرہی ہے ۔انھوں نے یہودی ربیوں اور فریسیوں ( مذہبی رہنماؤں )کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ مچھر چھانٹتے ا و ر اونٹ نگلتے ہیں ۔ یعنی بڑے بڑے گناہوں پر خاموش رہتے اور چھوٹے موٹے گناہوں پر لوگوں کی گرفت کرتے ہیں ۔ بارسوخ کو چھوڑتے اور عامیوں کا احتساب کرتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا کہ عمران خان نے بھی یہی کیا ہے ۔ اب اس میں مچھر کون ہے اور اونٹ کون ؟ اس لیے کوئی زیادہ عقل لڑانے کی ضرورت نہیں۔ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے ۔ اب رہی یہ بات سانپ نکلنے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ؟ تو مجھے غالب کا یہ شعر یاد آرہا ہے :
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ...ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہو نا
یعنی سینٹ کا سٹیج تو سجایا جا چکا ۔ اسمبلی کی مدت ختم ہونے کو آچکی ۔ ا ب تو چڑیاں کھیت چگ چکیں، اب کیا فائدہ ؟ البتہ ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ سینٹ میں اپنے ہاتھوں سے تراشے ان بھگوانوں کا کیا ہو گا جن کی پرستش کئی برس جاری رہے گی ۔اگر رشوت لینے والے گناہ گار ہیں تو دینے والے بھی تو برابر کے مجرم ہیں۔ چنانچہ ان کے ممبر سینٹ ہونے کو کس طرح دیکھا جائے گا ؟ بیشک ان کی طرف توجہ دینا عدالت کا کام تھا،لیکن ہمارے چیف جسٹس نے اس طرف التفات کرنا مناسب خیال نہیں کیا ۔ انھوں نے اس پر غص بصر کا مظاہرہ کیا ہے ۔ شاید ان کے خیال میں یہی انصاف کا اعلیٰ ترین تقاضا تھا۔ اب رہی یہ بات کہ یہ جمہوری اقدار کی طرف ایک مثبت ارتقا ہے؟ یقیناًہے ، لیکن اس کی ٹائمنگ بڑی شان دار ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان بھی روایتی سیاست کے داؤ پیچ جان گئے ہیں ۔ اس لیے ان کی اس کامیاب پوائنٹ سکورنگ پر ہم تالی بجا کر انھیں داد دیتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *