صحافیوں کو کسی نہ کسی طرح قابو میں لانے کی ترکیبیں

مجھ سے بہت محبت کرنے والے چند قاری ہیں۔ تعداد ان کی سینکڑوں میں نہیں۔ شاید درجنوں میں ہوگی۔ یہ کالم نوائے وقت کے ویب ایڈیشن پر لگائے جانے میں تھوڑی دیر ہوجائے تو فکر مند ہوجاتے ہیں۔ ان کی فکر مندی مجھے احسان مند ہونے کے ساتھ نادم ہونے پر بھی مجبور کردیتی ہے کیونکہ فکر اور محبت کی شدت ان لوگوں کی جانب سے ملتی ہے جن سے کبھی ملنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ صرف نیٹ کی مختلف Appsکی بدولت ان سے شناسائی ہوئی اور ذہنی قربتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
جن مہربانوں کا میں ذکر کررہا ہوں ان میں سے تقریباََ25سے زیادہ لوگوں نے براہِ راست ای میلز کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے میں تواتر کےساتھ صرف میڈیا کے بارے میں کیوں لکھے چلے جارہا ہوں۔
انتخابات کی آمد آمد ہے۔ نواز شریف تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر احتساب عدالتوں کے روبرو پیش ہورہے ہیں۔ سپریم کورٹ سے بھی روزانہ ذہن کو کشادہ اور دل کو فکرمند کرنے والی خبریں آرہی ہیں۔ میشاشفیع اور علی ظفر کا قضیہ اُٹھ کھڑا ہوا۔عمران خان صاحب کی تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے Electablesکا ہجوم بڑھے چلاجارہا ہے۔ خان صاحب نے لاہور میں یہ اعلان کرتے ہوئے سنسنی پھیلادی تھی کہ نون لیگ کی ایک بہت بڑی وکٹ گرنے والی ہے۔ ہمارے 24/7والوں کی اکثریت بہت بے تابی سے اس وکٹ کا نام دریافت کرنے کی فکر میں مبتلا رہی۔ میں نے مگر ان تمام امور پر توجہ ہی نہیں دی۔مسلسل میڈیا سے جڑے وسائل کی بابت لکھتا چلا گیا۔
میڈیا کے بارے میں جو بھی لکھا اس کا بیشتر حصہ شاید اخبارات کے عام قاری کے لئے خاص اہمیت کا حامل نہ تھا۔ ذرا سوچیں تو کہا جاسکتا ہے کہ میرے خیالات وخدشات صرف ان افراد کے لئے ہی قابل گرفت وتوجہ ہوسکتے ہیںجو کسی نہ کسی طرح میڈیا کے دھندے سے وابستہ ہیں۔اپنے گھر میں آئے اخبار یا نیٹ کے ذریعے اس اخبار کی سائٹ پر جاکر خبریں اور کالم وغیرہ پڑھنے والوں کو ایسے In Houseسنائی دیتے پروفیشنل معاملات سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔
ایمان داری کی بات ہے کہ میرے مہربان قارئین نے واجب سوالات اٹھائے ہیں۔ میری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ان کے جوابات دیانت داری سے فراہم کرنے کی کوشش کروں۔ اس ذمہ داری کا احساس سب سے پہلے مجھے یہ ا عتراف کرنے پر مجبور کررہا ہے کہ میری دانست میں ہماری ریاست کے دائمی ادارے بہت سوچنے کے بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 2002سے وطنِ عزیز میں بہت تیزی سے پھیلتے اظہارِ آزادی کے ماحول کا صحافیوں نے ”ناجائز“ فائدہ اٹھایا۔ ”لفافہ صحافت“ تو برداشت کی جاسکتی ہے لیکن اپنی آزادی کے خمار میں صحافی اگر قومی سلامتی سے جڑے چند بنیادی سوالات وخدشات کونظرانداز کرنا شروع کردیں تو معاملہ خطرناک ہوجاتا ہے۔ ہر صحافی کی نیت پر گو اب بھی شک نہیں کیا جارہا۔ یہ احساس مگر تقویت پکڑرہا ہے کہ ان کو کسی نہ کسی طرح قابو میں لانا ہوگا۔
”قومی مفادات“ پر مبنی کوئی ”بیانیہ“ ہے جو صحافت کے شعبے میں ”اچانک“ درآئے صحافی سمجھنے سے قطعاََ قاصر ہیں۔ مجھ ایسے لوگ اگر بددیانت یا دشمن کے براہِ راست ایجنٹ نہ بھی ہوں تو اپنی سوچ میں سادہ اور دقیانوسی ہیں۔ ہمیں خبر ہی نہیں کہ 5th Generation Warکیا ہوتی ہے۔ جنگ کے اس انداز کو Hybrid Warبھی کہا جاتا ہے۔
جنگ کی دوقسمیں بتائی جارہی ہیں۔ Kineticاور Non-Kinetic۔غالباََ5th Generation Warاپنی سرشت میں بنیادی طورپر Non-Kineticہے۔ Non-Kinetic Warکو سمجھنا چاہا تو بس یہ پتہ چلا کہ اس نوعیت کی جنگ میں بندوقوں کی ٹھاہ ٹھوں ، جہازوں کی دل دہلادینے والی پروازیں، میزائلوں کی بارش اور ٹینکوں کی پیش قدمیاں نہیںہوتیں۔ دشمن اپنے حریف ٹھہرائے ملک کے لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو بدلنے کی ترکیبیں سوچتا ہے۔
مثال کے طورپر ہم پاکستان کو مملکتِ خدادادسمجھتے ہیں۔ربّ کریم کے دئیے اس تحفے کا ایک نظریہ بھی ہے۔ دشمن یہ چاہے گا کہ ہم پاکستان کو ربّ کریم کی عطاکردہ نعمت سمجھنے کے بجائے زحمت کے طورپر دیکھنا شروع ہوجائیں۔ اس کے اساسی نظریے کی بابت سوالات اٹھائیں۔ یہ سب ہوجائے تو مملکتِ خداداد کے تحفظ کی تڑپ ہمارے دلوں میں موجود نہیں رہے گی۔ دشمن ایک گولی چلائے بغیربھی آپ پر حاوی ہوجائے گا۔
Non-Kinetic Warجومیری سمجھ آئی اس کی روشنی میں ”خبر“ اب فقط ”خبر“ نہیں رہی۔ ایک جنگی ہتھیار بن چکا ہے۔یہ ”ہتھیار“ مجھ ایسے Non-Kineticجنگ کی حرکیات سے دانستہ یا نادانستہ طورپر نا آشنا ہوئے صحافی کے پاس ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ممنوعہ بور کے ہتھیار رکھنے کے لئے حکومت سے لائسنس لینا پڑتے ہیں۔ اب شاید ”خبرنگار“ کو بھی ایسے ہی کسی لائسنس کی ضرورت ہے۔ لائسنس کے حصول اور نمبرپلیٹ لگائے بغیر کسی گاڑی کو سڑک پر لانا جرم ہے۔ یہ کسی مہلک حادثے کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔ Non-Kinetic Warکا تقاضہ ہے کہ ریاست کے دائمی اداروں سے ”خبر“ سے متعلقہ امور پر گرفت کا سرٹیفکیٹ لئے بغیر کوئی صحافی اس پیشے سے وابستہ ہی نہ ہو۔
تواتر کے ساتھ میڈیا کے بارے میں جو کالم میں نے لکھے ان کا مقصد فقط ریاست کے دائمی اداروں سے دست بستہ یہ فریاد کرنا تھی کہ پاکستانی صحافت کو محض Non-Kinetic Warکے سانچے میں رکھ کر ہی قابو میں لانے کی کوشش نہ کی جائے۔ ایسی کوششوں نے ماضی میں بھی پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ 1971میں ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان بھی اس وجہ سے بھگتا ۔
ہماری ریاست کی ”افغان جہاد“ کے دوران ”خبر“کے معاملات پر مکمل اجارہ داری تھی۔ سوویت یونین اس کی وجہ سے یقینا شکست سے دو چار ہوا۔ ہمارے حصے میںاس کے نتیجے میں لیکن بالآخر کیا آیا۔ صرف اس سوال پر ہی غور کرلیں تو شاید ”خبر“ کو ”خبر“ ہی رہے دینے میں آسانی ہوگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *