ایک ایڈیٹر کا حیرت انگیز انکشاف

پاکستان کا میڈیا ایک بار پھر سخت دباو کا شکار ہے۔ ماضی کے بر عکس، اس بار دباو کی وجہ کوئی ایڈوائزی یا نوٹس نہیں بلکہ کچھ خفیہ پیغاماات اور
سیلف سینسر شپ ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں تیسری بار الیکشن کے ذریعے حکومت تبدیل ہونے کو ہے اس چیز کو اورا بھی خطرناک اور بھیانک بنا دیتا ہے۔ ہزاروں صحافیوں اور ایڈیٹرز نے اظہار رائے کی آزادی پر قدغنوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے ایک اجتماعی بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں لکھا ہے:" ایک میڈیا گروپ کے خلاف سختی اور مختلف چینلز کی براڈ کاسٹ پر پابندی وغیرہ سب میڈیا ہاؤسز پر دباؤ بڑھاتا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کی کوریج کرنے اور حقوق کے لیے تحریک چلانے سے باز رہیں۔ اس دباؤ کے باعث کچھ میڈیا ہاؤس انتظامیہ نے ریگولر op-ed کالمز پروگراموں میں سے نکال دیے اور آن لائن شائع ہوئے آرٹیکلز بھی دکھانا بند کر دیے ۔ یہاں تک کہ کچھ میڈیا ھاؤسز نے لائیو شوز کروانا بھی بند کر دیے۔ " پاکستان کا سب سے بڑا ٹی –وی نیٹ ورک جیو پاکستان کے کئی شہروں میں نہیں چل رہا تھا اور اب رائوٹر ز کی رپورٹس کے مطابق کچھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاہدوں کے بعد پھر سے چل گیا ہے۔ جیو پر ناپسندیدہ رپورٹنگ کا الزام تھا ۔ مختصرا ، جیو نواز شریف نا اہلی کے بعد دوسرے چینلز کی طرح رپورٹنگ نہیں کر رہا تھا۔ نا اہلی کے بعد تمام چینلز پر نواز شریف کے خلاف مہم چلائی گئی لیکن جیو نے ایسا نہیں کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ نواز شریف غلطیوں سے پاک ہیں بلکہ بہت زیادہ غلطیاں جو یہاں گنوائی بھی نہیں جا سکتی ان کے کھاتے میں موجود ہیں لیکن جس طرح ان کو نا اہل کیا گیا، پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا اور نااہلی کی مدت تا حیات کی گئی وہ پاکستانی معیار کے مطابق بھی پریشان کن ہے۔ جیو نے شریف کے
نظریات کو اہمیت دی ، عدالتی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے اور گھما پھرا کر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پر تنقید کی جو کہ عدلیہ کا اعلانیہ ساتھ دے رہی تھی۔ اس سیاسی داو پیچ کے دوران ملک کے شمال مغربی علاقوں سے نوجوانوں کی ایک تحریک اٹھی جسے پشتون تحفظ موومنٹ کا نام دیا گیا ۔ اس تحریک کے بانی جنگ زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان منظور پشتین ہیں۔ اس تحریک کے جلسوں کے حاضرین کی تعداد نے ہر کسی کو حیران کر کے رکھ دیا اور اس تحریک کو بڑے پیمانے پر حمایت بھی حاصل ہونے لگی۔ پھر PTM کے رہنماوں نے جب آرمی کے خلاف سخت زبان کا استعمال شروع کیا تو اس تحریک کو غدار اور وطن دشمن قرار دے دیا گیا۔جب 1960 کی دھائی میں فاطمہ جناح جو پاکستان کے بانیوں میں سے تھیں کو
بھی ایک بھارتی ایجنٹ کہا گیا تو منظور پشتین کس کھیت کی مولی ہیں۔ PTM کی پشاور میں ہونے والی ریلی کی کوریج سے تمام چینلز کو روک دیا گیا ااور صرف چند اخبارات اس جلسے کی خبر شائع کر سکے۔ حتی کہ ڈیلی ٹائمز میں بھی میرے دوست اس کے بارے میں تفصیلات نہیں چھاپنا چاہتے تھے۔ میں ان سے کچھ حد تک متفق تھا اس لئے میں نے اس بارے میں پچھلے صفحوں پر خبر لگوائی۔ اس کے بعد ہم باقاعدہ PTM’s کے بارے میں لکھنے سے یچکچاتے رہے کہ کہیں موجودہ حکومت ناراض نہ ہو جائے۔ اس اخبار کے ایڈیٹر ہونے کے ناطے مجھے اپنے ساتھیوں کی بھی فکر تھی اور مجھے اپنے وطن واپس بھی جانا تھا اس لیے مجھے احتیاط کرنا پڑی تا کہ میں ایک اور خطرے میں نہ پڑ جاوں۔ PTM کے ساتھ نوجوانوں کی شمولیت کے بعد تعلیمی شعبہ سے متعلق افراد بھی زیر اثر آئے۔ نوم چومسکی سمیت کئی مشہور سکالرز نے بھی یونیورسٹی کیمپسز میں اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ میرے گہرے دوست عمار علی جان جو اس ملک کا اثاثہ ہیں انہیں پنجاب یونیورسٹی سے نکال دیا گیا اور میڈیا کے سامنے انہیں پاکستان دشمن ہونے کا الزام دیا گیا۔ جان نے غیر ملکی ٹاپ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ ڈگری حاصل کی اور دوسرے کئی جوان علمی شخصیات کے برعکس وہ واپس اپنے وطن آئے اور پبلک یونیورسٹی میں خدمات انجام دیں۔ ہم ان لوگوں کے خواب کتنے ظالمانہ انداز میں توڑ ڈالتے ہیں جو پاکستان میں
معاشرتی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔ وہ آرٹیکل جس میں PTM کے ساتھ تھوڑی سی بھی ہمدردی دکھا دی جائے اسے میڈیا کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ میرے دوست مشرف ذیدی ، بابر ستار، گل بخاری ، اور دوسرے قابل احترام ساتھی جن میں افراسیاب خٹک شامل ہیں ان سب کو اس سال سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکسان میڈیا پرسنز نے اسی لیے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ:" سیلف سینسر شپ بڑھتی جا رہی ہے اور بجائے اصل خبروں کے مصنوعی خبروں پر تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں اور اظہار رائے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ " لیکن کیا ہم ڈیلی ٹائیمز میں کچھ بہتر ہیں؟ میرے ساتھی کچھ زیادہ ہی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ بہت سے آرٹیکلز جن میں عدالتی فیصلوں اور ججوں کے بیانات پر تنقید کی گئی تھی انہیں ریویو کے لیے روک لیا گیا ہے۔ جب آئین میں مقدس گاوں کے نام لینے کے لیے مبہم الفاظ استعمال کیے جائیں تو پھر ہمارے لیے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم بہت احتیاط سے کام لیں۔ پچھلے سال ڈیلی ٹائمز کی انتظامیہ کو توہین مذہب کے غلط استعمال پر رپورٹنگ پر ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی ۔ ایک خبر جس میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اقدامات کرنے کی کوشش میں ہے کی وجہ سے بھی ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا
پڑا۔ یہ کوئی آسان وقت نہیں تھا۔ بلکہ بہت ہی بھیانک وقت تھا۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن ہم اس پر قابو پا لیں گے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے عوام کی آواز دبانے کا عمل ناقص ہو چکا ہے اور اس کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ نواز شریف کی سیاست میں واپسی کا زیادہ تر کریڈٹ ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ جنرل باجوہ کے ڈاکٹرائن کو جس طرح میڈیا میں پیش کیا گیا اس کا سامنا بھی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے کیا گیا۔ 1990 کے زمانے میں جس طرح اخباروں کے ذریعے عوامی رائے پر فوج اور عدلیہ متاثر ہوئے اس کے مقابلے میں اب ایسا کرنا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اس سب کا آنے والے الیکشن سے کیا تعلق ہے؟ اب منصفانہ الیکشن کے معاملے میں بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ مقابلے کے میدان اور غیر متعصانہ رپورٹنگ کے
معاملات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار سامنے آ رہا ہے۔ نیب کی طرف سے نواز شریف کو سزا دینے کے معاملے کو بھول بھی جائیں تو یہ کہاں تک ملک کے لیے ایک مفید چیز ہے کہ عوام ریاستی اداروں پر بھروسہ کرنا ہی چھوڑ دے؟ نوجوانوں کی آواز پر قدغن لگا کر کون سی قومی خدمت کی جا رہی ہے؟ میڈیا کنٹرول یا الیکشن میں پسندیدہ نتائج حاصل کرنے سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ جمہوری، مضبوط اور فیڈرلسٹ پاکستان کے قیام کے لیے آزاد معاشرہ، محرک میڈیا اور ریسپانس دینے والے ادارے بہت ضروری ہیں۔ صرف یہی چیزیں یقینی بنا کر ہم کےنوجوانوں اوربچوں کو بہتر مستقبل کی امید دلا سکتے ہیں۔

source : https://dailytimes.com.pk/230937/a-season-of-self-censorship-confessions-of-an-editor-at-large/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *