جن ’’سی ‘‘ ہراسمنٹ 

 قمر بخاری 

پرانے زمانے میں والدین بچوں کو خوف زدہ کرنے کیلئے ’’جن ‘‘کو استعمال کرتے تھے ۔ لہذا خوف و ہراس کی ابتدا انسان میں جنات کی ان دیکھی صورت میں رکھ دی جاتی تھی۔ اس زمانے میں جن ’’سی‘‘ ہراسمنٹ کا کوئی توڑ نہیں ہوا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ ہراسمنٹ کی شکلیں بدلتی چلی گئیں اور عہد حاضر میں سب سے خطرناک خوف و ہراس کی صورت جنسی ہراسمنٹ میں تلاش کی جانے لگی ہے۔ اگر آپ کی ہر آس ’’منٹ‘‘ میں پوری ہو جائے تو یقین رکھیں کہ آپ ہراسمنٹ کا شکار نہیں ہو سکتے۔ ہمارے ہاں عموماً ضعیف الاعتقاد لوگوں کی ہر آس ’’منٹ ‘‘ میں پوری کرنے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں اور ان کے یہ دعوے اکثر وال چاکنگ کے ذریعے دیواروں پر لکھے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بنگالی بابا سے ہمیں ملاقات کا شرف حاصل ہوا موصوف گورے چٹے پنجابی لہجے کے حامل تھے کسی طور بھی ان میں بنگالی پن کی جھلک دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ہم نے نہایت ادب سے دریافت کیا کہ حضرت آپ بنگالی بابا خود کو کہلواتے ہیں مگر کسی بھی طور پر آپ بنگال کے لگتے نہیں ہیں۔ چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ سجاتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں وہ والا بنگالی بابا نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیں ۔دراصل اپنی حماقتوں اور حرکتوں کی وجہ سے میں اپنے محلے میں ایک ’’گالی‘‘ بن کر رہ گیا تھا لہذا اسی نسبت سے لوگوں نے مجھے بن ۔۔۔گالی کہنا شروع کر دیا ۔ جہاں تک جنسی ہراسمنٹ کا تعلق ہے یہ اصطلاع ہمارے معاشرے میں مغربی دنیا سے آئی ہے ۔ خواتین کے رویوں پر تحقیق کرنے والے ایک مشہور ریسرچر کا کہنا ہے کہ ’’HER ‘‘ آساں نہیں ہوتی اس لیے ’’ ہراساں‘‘ زیادہ ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے جنسی ہراسمنٹ قانون کے تحت جنسی ہراسانی کی مختلف اقسام ہیں اور یہ قسمیں ان پر بھی لاگو ہو سکتی ہیں جو پیار کی قسمیں کھانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ ایک معروف اداکار کو ان کی مداح نے ان کی سالگرہ پر خط لکھا جس میں موصوفہ نے انہیں ان کی پسندیدہ چیز ’’ تحفتہً ‘‘ پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جواب میں معروف اداکار نے لکھ بھیجا کہ تحفہ ’’تن‘‘ ہی بہتر ہے۔ آج کل کے اداکاروں کو اس قسم کی باتوں سے خاصی احتیاط کرنا پڑتی ہے ورنہ ان کے خلاف جنسی ہراسمنٹ کے ٹویٹ منظر عام پر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ہماری سماجی قدریں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کو ’’آسانیوں‘‘ کی دعائیں دیا کرتے تھے اب ہراسانیوں سے محفوظ رہنے کی نصیحتیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ دور میں ہرآسانی اچھی چیز ہے مگر ہراسانی نہیں ۔ جب سے جنسی ہراسمنٹ کا قانون متعارف ہوا ہے تب سے مرد نما کچھ خواتین جنہیں نسوانیت کہیں سے چھو کر نہیں گزری ہوگی انہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسی ’’جن‘‘ سی حسینائیں زنانپ مزاج مردوں پر اپنے خلاف جنسی ہراسمنٹ کا رونہ روتی دکھائی دیتی ہیں ۔ اگر کوئی خاتون کسی مرد پر جنسی ہراسمنٹ کا الزام عائد کر دے تو مرد کے پاس اپنے دفاع کیلئے صرف ایک ہی راستہ دستیاب ہے کہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے ۔ ہمارے ایک شاعر دوست بے عزت لدھیانوی کا کہنا ہے کہ مردوں کی بھی ’’حتیٰ کہ ‘‘عزت ہوتی ہے۔آج کل سوشل میڈیا جنسی ہراسمنٹ یا ہراسانی کے حوالے سے خواتین کو ہر آسانی فراہم کرنے میں پیش پیش ہے اور اس حوالے سے می ٹو کے نام سے ایک باقاعدہ مہم پورے زور و شور سے جاری و ساری ہے جس میں خواتین مردوں کے ہاتھوں اپنے استحصال پر آواز بلند کر رہی ہیں اس مہم کے جواب میں ممتاز مزاح نگار گل نو خیز اختر نے we too کی تجویز دی ہے جس کے تحت مردوں کو بھی عورتوں کے خلاف اس قسم کے رویہ پر احتجاج کرنے کی بات کی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کی دیگر تجاویز بھی سامنے آنا شروع ہو جائیں گی لیکن اصل معاملات کی طرف ہم سب توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کر رہے اگر ہم دینی اور سماجی اقدار کی پاسداری کے حوالے سے اپنی نوجوان نسل کی تربیت پر اپنی توانائیاں صرف کرنا شروع کر دیں تو ہمیں اس ’’سرف‘‘ کی ضرورت ہی نہ پڑے جس سے جنسی ہراسمنٹ کے داغ اپنے دامن سے دھونے کی ترکیبیں تلاش کی جاتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *